جج صاحب کی مبینہ اعترافی ویڈیو پر ایک اور میم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ بھی نیا نہیں ہے اس ویڈیو میں۔ ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ اس پریس کانفرنس سے کون سی ایسی بات سامنے آئی ہے جو پہلے ہی ایک کھلے راز کی طرح سب کے علم میں نہیں تھی۔ وہ پہلے جو بڑے مزے سے لوگ کہتے تھے نا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں تو وہ سٹیج کب کی گزر گئی ہے۔ اب پردہ نشین خود ہی چھپ کر نہیں بیٹھتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے نام آئیں۔ اب تو اپنے کارناموں کا کریڈٹ لینے کی دوڑ ہے۔ اس لیے پردہ نشینوں کے نام آنے کا بہانہ ختم ہو چکا۔

اگر اس مسئلے کو انتظامی طور پر ہی سلجھانے کی کوشش کرنا مقصود ہے تو بھی جج صاحب کی مبینہ اعترافی ویڈیو کو ایک مشکل معمہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیس بالکل سیدھا ہے۔ اس میں کوئی خاص پیچیدگی نہیں ہے۔ ایک ایک کر کے سارے ممکنہ آپشنز اور اقدام کو دیکھیں لیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور اس کو منتقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری اعلی عدلیہ کو لینی چاہیے۔ اعلی عدلیہ کو چاہیے کہ اس ویڈیو کا فورنزک کسی ایسی غیر جانبدار کمپنی سے کرائیں جس پر دنیا کو اعتبار ہو۔ ظاہر ہے کہ وطن عزیز میں تو کوئی ایسی کمپنی یا ادارہ ہی نہیں ہے جس کی رپورٹ کا سب اعتبار کر سکیں اس لیے اس کا فورنزک تجزیہ بہرحال کسی غیر ملکی کمپنی سے ہی کروانا ہو گا۔ وہ لوگ ہی سچ بولتے ہیں جن کے لیے یہ دنیا اہم ہے اور وہ سچ بولنے ہی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فورنزک کے ریزلٹ صرف دو ہی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ویڈیو جعلی ہے۔ تو بات بالکل سیدھی ہے۔ فیک ویڈیو دکھانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس طرح مریم نواز اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے سارے لوگ قانون کے نرغے میں آ جائیں گے۔ ہماری عدلیہ کی عزت بحال ہو جائے گی۔

فورنزک تجزیے کا دوسرا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے، فیک یا فراڈ نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کیس کا جج صاحب ذکر کر رہے ہیں اس کیس میں فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا۔ سب سے پہلے تو اس فیصلے کو درست کیا جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام عدلیہ ہی کا ہے۔

اس کے بعد اگلا قدم یہ بنتا ہے کہ جج صاحب سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے انہیں ڈرایا دھمکایا، بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور انصاف کے عمل کو متاثر کیا۔ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ جج صاحب ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے نام اور پتے بخوشی بتا دیں گے جنہوں نے جج صاحب کو بلیک میل کیا، انہیں ان کا فرض نبھانے سے روکا اور اتنی مشکل میں ڈالا کہ ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر دیں۔

اعلی عدلیہ آف کورس اعلی عدلیہ ہے۔ آئین اور قانون کی تمام طاقت ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ تمام مطلوبہ ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لے آئیں گے اور قانون کے مطابق بالکل ایسے ہی اس جرم کی سزا دیں گے جیسے کہ انہوں نے اس پہلے ایسے جرم کرنے والے طاقتور لوگوں کو سزا دی ہے۔ بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

پچھلے چند برسوں کی مثالیں دیکھیں تو ہماری اعلی عدلیہ نے وہ کام کر دکھائے ہیں جو کم ہی کسی اور ملک کی عدلیہ نے کیے ہوں گے۔

وزیر اعظم پارلیمانی طرز حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ بہت ہی طاقتور شخص ہوتا ہے۔ کتنے ہی وزیراعظموں نے ہماری طاقت ور اعلی عدلیہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ہماری اعلی عدلیہ نے نہ صرف ہمارے وزیر اعظموں کے خلاف فیصلے دیے بلکہ انہیں ڈانٹ تک پلا دی۔ کچھ کو گھر اور باقیوں کو جیل بھیجا۔ صورت حال یہ کہ اب کوئی وزیر اعظم اسمبلی میں اسامہ بن لادن کے ویزے کا ذکر یا ڈان لیک جیسا گھناؤنا جرم کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔

ہماری عدلیہ کے خوف سے بڑے بڑے گھبرا جاتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ عدالت ہی کو جاتے ہوئے ہمارے قومی کمانڈو کو دل کا ایسا دورہ پڑا کہ عدالت کی بجائے ہسپتال پہنچ گئے۔ صرف یہی نہیں، قومی کمانڈو صاحب کئی مہینے تک ہسپتال میں رہے اور ان کے دل کا دورہ صرف اس وقت تھما جب ڈیل ہو گئی۔ ہمارے وہی کمانڈو صاحب اب بھی وطن واپس آنے سے گھبراتے ہیں تو یہ صرف عدلیہ کا ہی خوف ہی ہے۔

اس سے پہلے بھی ہماری اعلی عدلیہ کبھی انصاف کرنے سے نہیں گھبرائی۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے طاقتور وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو ایک عالمی شخصیت تھے۔ ہماری اعلی عدلیہ نے ان کے کیس میں خوب انصاف کیا۔ ساری دنیا چیختی رہی لیکن جنرل ضیاء نے صاف کہا کہ وہ بے بس ہیں اور اعلی عدلیہ کے کام میں دخل نہیں دے سکتے۔

اسی طرح اس وقت بھی ہماری اعلی عدلیہ آزاد ہے، طاقتور ہے اور ان کے کام میں کوئی روڑے نہیں اٹکا سکتا۔ نواز شریف کو بھی انصاف ملے گا بالکل ایسے ہی جیسے ان سے پہلے وزیراعظموں کو ملتا آیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 217 posts and counting.See all posts by salim-malik