سراب کا مستقبل: تخلیق سگمنڈ فرائیڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترجمہ و تلخیص ڈاکٹر خالد سہیل

چھٹا باب۔ سراب کا مستقبل

اب ہم ان سوالوں کے جواب کے قریب آرہے ہیں جو ہم نے اس گفتگو کے شروع میں اٹھائے تھے۔ ہم مذہبی عقائد کی نفسیاتی وجوہات کی تلاش میں نکلے تھے۔ ہماری گفتگو سے یہ بات واضح ہوئی کہ مذہبی عقائد کی عمارت نہ تو انسانوں کے روزمرہ کے تجربات اور نہ ہی انسانی غوروتدبر کی بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ ان کی حقیقت سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایسا سراب جو انسانوں کے دلوں میں صدیوں کی پوشیدہ خواہشات کا ماحصل ہے۔ ہم نے دیکھا کہ بچپن میں بے بسی کے احساس کی وجہ سے انسان تحفظ کی تلاش میں رہتے ہیں۔

محبت کا تحفظ بچپن میں باپ سے حاصل ہوتاہے اور جوان ہو کر خدا سے۔ خدا کا تصور جو باپ کے تصور سے زیادہ طاقتور اور پائیدار سمجھا جاتا ہے، انسانوں کو زندگی کے مختلف خطرات کے خوف سے نجات دلاتا ہے۔ زندگی کو نیکی اور بدی کا ایک پیمانہ بھی دیتا ہے اور زندگی کی نا انصافیوں کا مرنے کے بعد ازالہ بھی فراہم کرتا ہے۔ خدا کا یہ تصور مذہب کے عقائد کے ایک نظام کا حصہ بن جاتاہے اور اس نظام میں کائنات کی ابتداء جسم اور روح کے رشتے اور زندگی کے بیسیوں مسائل اورتضادات کا حل بھی پیش کیا جاتاہے۔

مذہب کا نظام انسانی ذہن کو بہت سے تضادات سے نجات دلاتا ہے۔ اس سے انسانوں کو بہت سے سوالوں کے بنے بنائے جواب مل جاتے ہیں اور انہیں اپنے مسائل پر خود غور کرکے حل تلاش نہیں کرنے پڑتے۔ اس طرح بہت سے انسان اس نظام میں ایک گونہ عافیت اور سکون محسوس کرتے ہیں۔

جب میں ان عقائد کو سراب کہہ کر پکارتا ہوں تو میر ے خیال میں مجھے اپنے سراب کے تصور کی توضیح کرنی چاہیے۔ سراب سے میری مراد غلط نتیجہ نہیں جس کی ایک مثال یہ ہوسکتی ہے کہ اگلے زمانے کے طبیب یہ سمجھتے تھے کہTabes Dosalisکی بیماری جنسی بے راہ روی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بعض کم فہم لوگ تو آج بھی اس پر یقین رکھتے ہیں، لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ وہ تصور غلط تھا۔ میری نگاہ میں سراب کی مثال کولمبس کا امریکہ پہنچ کر یہ کہنا تھا کہ اس نے ہندوستان تلاش کرلیا ہے۔ اسے ہندوستان پہنچنے کی اتنی خواہش تھی کہ اس خواہش کی شدت نے اسے غلط نتائج پر پہنچنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس قسم کے سراب کی دوسری مثال بعض ماہرین نفسیات کا یہ تصور ہے کہ بچوں میں جنسی جذبات موجود نہیں ہوتے۔

سراب انسانی خواہشات کی شدت کا مرہون منت ہوتاہے اور اس حوالے سے وہ نفسیاتی مریضوں کی ذہنی کیفیت کے قریب ہوتا ہے۔ مریضوں کے مصنوعی ایمان کو تو ہم منطق کی رو سے غلط ثابت کر سکتے ہیں، لیکن اس نفسیاتی سراب کو غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

مذہبی عقائد کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی سچا ثابت نہیں کر سکتے، نہ صرف یہ کہ سچا ثابت نہیں کرسکتے بلکہ ہم نے صدیوں کی محنت اور ریاضت سے جو علم حاصل کیا ہے اور انسان اور کائنات کے بارے میں جن حقیقتوں کا سراغ لگایا ہے وہ عقائد ان سے بالکل لگا نہیں کھاتے۔ یہ علیحدہ بات کہ اگر ہم ان عقائد کو صحیح ثابت نہیں کر سکتے تو غلط بھی نہیں کر سکتے۔ کائنات کے راز آہستہ آہستہ ان لوگوں پر منکشف ہوتے ہیں۔

جوان کے بارے میں تفکراور تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ آج بھی زندگی اور کائنات کے بارے میں سائنس بہت سے سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی۔ لیکن سائنسی نقطہ نظر وہ واحد معتبر طریقہ ہے جس سے ہم زندگی اور کائنات کے بارے میں حقائق اور بصیرتیں حاصل کر سکیں گے، ایسی بصیرتیں جن پر سب متفق ہو سکیں۔ ہم اپنی ذات کی گہرائیوں میں اتر کر ایسی صداقتیں تلاش نہیں کر سکتے جن پر سب لوگ متفق ہو ں اپنے فن کی گہرائیوں میں اتر کر ہم صرف اپنی شخصیت اور ذہن کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

ہماری گفتگو کے اس موڑ پر کوئی کہہ سکتا ہے۔ ”اچھا اگر مذہبی عقائد، عقل اور دلیل سے ثابت نہیں ہو سکتے تو ان پر ایمان لانے میں کیا قباحت ہے؟ ان عقائد کی نہ صرف روایات طرفداری کرتی ہیں بلکہ ان سے بہت سے دکھی اور غمزدہ دلوں کوڈھارس بھی ملتی ہے۔ “

اس سلسلے میں، میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح ہم کسی شخص کو کسی بات یا عقیدہ پر ایمان لانے پر مجبور نہیں کر سکتے، اسی طرح ہم کسی کو ایمان نہ لانے پر بھی مجبور نہیں کر سکتے۔ لیکن اب ہم اس قسم کی باتوں سے دھوکہ نہ کھائیں گے۔ اور اپنی ناقدانہ سوچ کو معطل نہ کریں گے۔ جہالت بہرحال جہالت ہے، چاہے اس کے حق میں کتنے ہی بچگانہ دلائل کیوں نہ پیش کیے جائیں۔ زندگی کے کسی اور شعبہ میں کوئی شخص ایسی کمزور بنیادوں پر اپنی زندگی کے فیصلے نہ کرے گا۔

لیکن مذہبی عقائد اور معاملات میں انسان اپنی عقل اور سمجھ بوجھ کو پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ مذہبی عقائد کی بحث میں لوگ ہر قسم کے حقائق سے چشم پوشی اور بے ایمانی روا رکھتے ہیں اور الفاظ کے وہ معانی نکالتے ہیں جو بعید از قیاس ہوتے ہیں۔ مذہبی لوگ خدا کا ایک ایسا تجریدی تصور پیش کرتے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے ذہنوں میں تخلیق کیا ہوتاہے اور پھر مصر ہوتے ہیں کہ انہوں نے حقیقت پالی ہے۔ اصحابِ فکر جانتے ہیں کہ ایسا تصور انسان کی اپنی بے بسی اور مجبوری کے احساس کا نتیجہ ہے۔ لیکن یہی بے بسی اور مجبوری کی زمین، خدا اور مذہب کے تصورات کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوتی ہے۔

مذہبی عقائد کی حیثیت کی جانچ پڑتال میرے مضمون کا موضوع نہیں۔ میرا مقصد ایسے عقائد کی نفسیاتی توجیح پیش کرنا ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی حیثیت سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔

دلچسپ سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ایسے عقائد کو جنم دیا۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ زندگی اور کائنات کا غیر منصفانہ نظام دیکھ کر انسان خواہش کریں کہ کاش ایک ایسا خدا ہو جو زندگی میں انصاف نافذ کرے اور اگر اس دنیا میں نہیں تو اگلی دنیا میں انصاف کی فضا قائم کرے۔ لیکن یہ خیال ایک خواہش سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ کاش ہمارے آبا و اجداد نے اپنے مذہبی عقائد میں پناہ لینے کی بجائے زندگی کی تلخ حقیقتوں کو قبول کرنے اور کائنات کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہوتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 228 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail