نااہل اساتذہ کو بھرتی کرنے کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے
کچھ دن پہلے سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے بڑا انکشاف کیا کہ ”سندھ میں ایک لاکھ 34 ہزار اساتذہ میں ایک لاکھ اساتذہ کہلانے کے لائق نہیں ہے“ اور ”سندھ بھر میں ڈھائی لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ان کی وجہ جپسی قبائل کا ایک جگہ قیام نہیں کرنا ہے، اس لیے ان کے بچے سکولوں سے باہر ہیں“۔
پہلے آتے ہیں وزیر صاحب کے بیان پر کہ ”ایک لاکھ اساتذہ نااہل ہیں“۔ اب سوال یہ ابھرتا ہے کہ ان نا اہل اساتذہ کو بھرتی کس نے کیا؟ دیکھا جائے تو گذشتہ گیارہ برس سے سندھ میں پیپلزپارٹی مسلسل حکومت کرتی آ رہی ہے۔ اس دوراں سینکڑوں بھرتیاں کی گئی۔ 1988 سے 1991 کے دور میں پیپلزپارٹی نے اساتذہ کی بھرتی کی، اس کے بعد 1993 سے آنے والے پیپلزپارٹی کے ادوار میں بھی بھرتیاں جاری رہی۔ اب وزیر صاحب خود بتائیں کہ ان نااہل اساتذہ کی بھرتی میں کس کا ہاتھ ہے؟
یہ حقیقت عالم پر آشکار ہے کہ سندھ کے اندر مختلف نوکریوں کے الگ الگ ریٹ مقرر تھے، ”روپیے لاؤ نوکری لے جاؤ“ والی پالیسی، سیاسی بنیادوں پر نوکریاں تقسیم کرنا اور میرٹ کا جنازہ نکالنے میں پیپلزپارٹی کو ہی ملوث قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں خبریں کافی عرصے سے میڈیا کی زینت بھی بنی۔ مگر حکمرانوں نے عملی اقدامات کے بجائے اپنی پرانی روش جاری رکھتے ہوئے محض بیانات دینے پر زور دیا۔ ایک طرف سندھ کا پورا تعلیمی نظام چوپٹ ہے، دوسری طرف حکمران ایسے بیانات دے کر عوام کو بیوقوف بناتے آ رہے ہیں۔
گذشتہ 11 برسوں سے صرف کہانیاں ہی سنتے آ رہے کہ تعلیم شعبے میں بہتری لانے کے لیے یہ کریں گے، وہ کریں گے، مگر اب تک نتائج کیا نکلے؟ ہاں حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتائج بالکل نکلے ہیں، جو اس صورت میں سندھ کی عوام بھگت رہے ہیں۔ سندھ کے بہراڑی والے علاقوں میں سینکڑوں سکول اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑیں ہیں، کئی سکولوں کی مرمت نہ ہونے کی باعث عمارتوں کی چھتیں گر رہی ہے، سکول نہ ہونے اور سہولیات کی عدم فراہمی سے بچے کہیں درخت کے چھاوں میں تو کبھی تیز دھوپ کے نیچے پڑھنے پر مجبور ہیں۔
2008 کے انتخابات کے بعد وزیر تعلیم مقرر ہونے والے پیر مظہر کے دور میں ہونے والی بھرتیوں کی حقیقت بھی افشا ہے کہ کس طرح اساتذہ کوبھرتی کیا گیا۔ ! اس وقت پیر مظہر بھی ایسے بیانات دیا کرتا تھا کہ ”بڑی تعداد گھوسٹ اساتذہ کی ہے، جس کے سبب تعلیمی نظام خراب ہو رہا ہے۔ “ اس کے بعد بھی کوئی عملدرآمد نہ ہوا مگر بہت کہانیاں بتا کر عوام کے دل بہلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تعلیم کے سابقہ سیکریٹری فضل اللہ پیچوہو نے بھی کچھ ایسا ہی کہا تھا کہ ”سندھ کے اندر 60 سے 70 فیصد اساتذہ ایسے ہیں جو تربیت کے بھی لائق نہیں۔ “
سندھ کے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی باتیں کرنی والی پیپلزپارٹی پچھلے گیارہ برسوں سے کون سی بہتری لائی ہے؟ جب ایک لاکھ اساتذہ بقول وزیر تعلیم نا اہل ہیں تو بہتری خاک آئے گی؟ عرصہ دراز سے سندھ کے نوجواں نسل کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے، مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ کوئی بھی حکمران سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اسمیبلی فلور پر بتایا کہ ”ڈھائی لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ “ سمجھ نہیں آ رہی کہ شاہ صاحب نے یہ حقائق کہاں سے لائے ہیں! گذشتہ برس تعلیم کے نگران وزیر محمد یوسف نے رپورٹ جاری کی تھی کہ ”پورے ملک میں 2 کروڑ 28 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں“۔
وفاقی حکومت کے تعاون سے اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق 5 ”سے 16 برس کی عمر والے 5 کروڑ بچوں میں سے 2 کروڑ 28 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ جس میں بلوچستان کے 70 فیصد بچے، فاٹا کے 57 فیصد اور سندھ کے 52 فیصد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ جب کہ پنجاب میں 40، کی پی 34 اور اسلام آباد میں 34 فیصد ہے“۔ اس رپورٹ کے حساب سے اگر اندازہ لگایہ جائے تو سندھ میں 25 لاکھ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ شاید وزیر صاحب کو سندھ میں ہوٹلیں، اینٹوں کے بٹھے اور زرعی زمینوں پر کام کرنے والے بچے دکھائے نہیں دے رہے، جن کی بڑی تعداد ایک وقت کی روٹی کے لیے بھٹک رہی ہے۔ اس حوالے سے اب تک کیا گیا؟ کتنے بچوں کی داخلا کرائی گئی؟
تعلیم کا مسئلا سندھ کے جینے اور مرنے کا مسئلا ہے۔ ایک طرف ایک لاکھ اساتذہ پڑھانے کے لائق نہیں، دوسرے طرف بچوں کی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہیں۔ اس حساس معاملے پر حکمرانوں کی عدم دلچسپی کیا پیغام دی رہی ہے؟ کیا حکومتوں کا کام صرف کھوکھلے بیانات دینا ہے یا عملی طور پر اقدامات اٹھا کر عوام کے لیے بہتری لانا؟
بیانات دے کر اپنا فرض پورا سمجھنے والے پیپلزپارٹی کے وزراء اور وزیر تعلیم سردار شاہ اس سوال کا جواب خود ہی دیں کہ ایک لاکھ نااہل اساتذہ کو بھرتی کرنے والی آپ ہی کی حکمران جماعت ہے تو پھر نااہل کون ہے؟


