خدا ”سیاق و سباق“ کا بھلا کرے
ویسے تو اردو زبان میں ہرچوتھا پانچواں لفظ عربی سے در آیا ہے لیکن ”سیاق وسباق“ ایک ایسامبارک مرکب لفظ ہے جس کا الحمدللہ ہروقت پاکستانیوں پر بڑا احسان رہا ہے۔ اس لفظ نے نہ صرف ہمارے سیاستدانوں، بیورو کریٹس اور صحافیوں کا بھرم قائم رکھاہے بلکہ کرکٹ کھلاڑیوں حتیٰ کہ مطلقات بھی اس کے برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی لئے اب جب بھی میری سماعت سے یہ لفظ ٹکراتا ہے تو میرے دل سے اس کے لئے دعا نکلتی ہے کہ ”اے سیاق وسباق! خدا تجھے غریقِ رحمت کردے، تیرے ہی دم سے اہل وطن کا بیڑاہمیشہ پار ہوتا ہے ورنہ تیری مدد کے بغیر نہ جانے یہ بے چارے کن کن مصائب کا سامنا کرتے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس احسان کے بدلے میں ہمیں نہ صرف ”سیاق وسباق“ کا مشکوروممنون ہونا چاہیے بلکہ پوری عربی زبان کوبھی تھینک یو کہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن کی مریم نواز صاحبہ نے جب اپنی پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک صاحب کی ویڈیو ٹیپ چلائی تو اگلے دن ”یہی سیاق وسباق“ ہی تھا جس نے فاضل جج کا ساتھ دیا۔
بس جج صاحب نے معمول کی طرح ایک پریس ریلیز جاری کردی اور اس میں موقف اختیار کیا کہ ”مریم نواز کی پریس کانفرنس میں چلائے گئے وڈیو میں ان کی مختلف مواقع پر مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو کو سیاق سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے“۔ ہمارے ملک کے حالیہ وزیراعظم عمران خان صاحب کو لے لیں۔ دوماہ پہلے ایران یاترا کے دوران وہ صدرحسن روحانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کر گئے کہ ’‘ ماضی میں ایران کو بھی ایسے عسکریت پسندوں نے دہشتگردی کا نشانہ بنایا تھا، جنہوں نے اس کے لئے پاکستان کی سرزمیں کو استعمال کیا تھا ”۔
لیکن بعد میں غالباً انہوں نے کچھ لوگوں کے وسیع تر مفاد میں بادل نخواستہ طورپر ”سیاق وسباق“ کا سہارالیتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس سے اپنی ٹیم کے ذریعے بیان جاری کروایا کہ ”وزیراعظم صاحب کے بیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے ورنہ وہ پورے خطے میں امن کے لئے کوشاں ہیں، بیان کاغلط مطلب لینا کسی بھی طور پر ملک کے مفاد میں نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان صاحب کی سابقہ اہلیہ ریحام بی بی بھی چونکہ پاکستانی اور محب الوطن ہیں یوں اسے بھی وقتاًفوقتاً سیاق و سباق کی مدد لینی پڑتی ہے۔
ایک بار مانچسٹر میں بی بی نے کہاکہ ”زندگی کے اصل میدان میں چھکے چوکے نہیں بلکہ لانگ ٹرم پارٹنرشپ اہمیت کی حامل ہوتی ہے“۔ بعد میں جب ان کا یہ بیان میڈیا والوں کے ہاتھوں لگ گیا تو ریحام بی بی برانگیختہ ہوگئی اور بول اٹھیں کہ ”چھکے چوکے سے متعلق ان کے بیان کوسیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا شرمناک ہے، میں صحافیوں کو براہ راست کہتی ہوں کہ رپورٹنگ کے دوران اخلاقیات کو اپنائیں“۔ خان صاحب کی کابینہ میں تجارتی امور کے مشیر رزاق داود نے گزشتہ ستمبر میں فنانشل ٹائمز کو بغیر کسی ابہام کے صاف اورشفاف الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سی پیک معاہدے پر نظر ثانی کر رہی ہے۔
لیکن قوم نے جب ان کے اس بیان کو آڑے ہاتھوں لیا تو ان کو بھی کسی نے سیاق وسباق کے تبرکات یاد دلائے، سو اگلے دن ان کا یہ بیانیہ سامنے آیا کہ ”سی پیک تو ہماری قومی ترجیح ہے، اس بارے میں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے بلکہ ان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے“۔ کھیل کے شعبے میں مملکت خداداد کی کرکٹ ٹیم کے مشہور کھلاڑی شاہد خان آفریدی کے نام سے کون واقف نہیں۔ پچھلے سال لندن میں ایک موقع پرجناب آفریدی فرمانے لگے کہ ”کشمیر پاکستان کو نہیں چاہیے، ہم چار صوبے سنبھال نہیں سکتے، اسی طرح کشمیر بھارت کو بھی نہ دیں بلکہ اسے آزادی دے دیں“۔
تاہم بعد میں جب ان کو اپنی حب الوطنی خطرے میں نظرآئی تو اپنے بیان کی وضاحت میں ایک ٹویٹ جاری فرمایا کہ ”پاکستان اور کشمیر سے متعلق ان کی گفتگوکا مذکورہ ویڈیو کلپ نامکمل اور“ سیاق وسباق ”سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے“۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم ہی کے سابق کپتان محمد یونس کو بھی آپ ضرور جانتے ہوں گے۔ خدمت کے جذبے سے سر شار اس کرکٹر نے بھی ایک دن اپنے ملک کو یہ آفرکی کہ ”پاکستان کو میری ضرورت ہوئی تو ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینے کے بارے میں سوچ سکتا ہوں“۔
لیکن جب یونس صاحب کے اس آفر کو سنجیدہ لیا گیا تو بعد میں اپنی بات سے یوٹرن لیتے ہوئے موصوف کو اگر، مگر چونکہ اور چنانچہ کے بعد سیاق وسباق کا سہارا لینا پڑا اور کہا کہ ”میرے بیان کو متنازع نہ بنایا جائے، اصل میں یہ میڈیا والوں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا تھا حالانکہ میرا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا“۔ لندن میں ایم کیو ایم کے مقیم بانی الطاف بھائی جیسے منہ پھٹ سیاستدان کا تو عمر بھر گزارا سیاق وسباق پر رہا ہے۔
رات کو پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور فوج کو صلواتیں سناتے اور اگلے دن ”سیاق وسباق“ کے ذریعے اپنی باتوں کی تلافی کرنا الطاف بھائی کا معمول تھا۔ چند سال پہلے ایک جوشیلی تقریر میں انہوں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھارتی خفیہ ادارے را سے مدد طلب کی تھی۔ چند گھنٹے بعدجب اوپر سے پریشر بڑھاتو الطاف بھائی اگلے دن پھر ٹی وی پرآئے۔ اس مرتبہ انہوں نے نہ صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ”میری گزشتہ رات کی تقریر کوسیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا، بلکہ خلوص دل سے معافی بھی مانگی۔ اپنی تحریر کے آخر میں مَیں ایک مرتبہ پھر سیاق وسباق کاشکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اس قوم کے وسیع تر مفاد میں یہاں کے سیاستدانوں، بیوروکریٹس حضرات، اہل قلم اور کرکٹ کھلاڑیوں کی ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے۔ میں ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ اے سیاق وسباق! خدا تجھے غریق رحمت کردے اور تیرا حامی وناصر ہو۔


