لعل قلندر کی نگری میں راجہ داہر کے دھمال ڈالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رنجیت سنگھ کے مجسمے کی تنصیب کے بعد ایک بار پھر راجہ داہر کو قومی ہیرو قراردینے کی بات ہو رہی ہے، مشکل یہ ہے کہ رنجیت کے مدمقابل انگریز تھے اور راجہ داہر کے مدمقابل خلافت امیہ، رنجیت پنجابی تھا اور داہر سندھی، رنجیت کو ہیرو مان لینے سے مرحوم دو قومی نظریے پر کوئی حرف نہہں آتا جبکہ داہر کو ہیرو مان لینے سے امت مرحومہ کا خلیج بنگال میں غرق شدہ دو قومی نظریہ ایک بار پھر شدید خطرے میں ہوگا کہ بن قاسم اور داہر ایک ساتھ ہیرو نہیں ہو سکتے۔ معاملے کو مزید خراب کرنے میں پنجاب کا اپنی فطرت میں پرو اسٹیبلشمنٹ ہونا اور سندھ کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا بھی شامل رہے گا، میں تاریخ کے صفحات کو لگنے والا کیڑا ہمیشہ سے یہ سمجھتا اور کہتا آیا ہوں کہ محمد بن قاسم کی اس خطے میں آمد بوٹس آن گراؤنڈ والا معاملہ تھی، سندھی اگر چور اچکے اور ظالم تھے بھی تو اپنے لوگوں کے ساتھ تھے، برائے مہربانی اسکول میں پڑھی یا حجاج ادرکنی والی کہانی مت سنائیے گا کہ اس زمانے میں واٹس ایپ ایجاد نہیں ہوا تھا سو ایسا ممکن نہیں جیسا کہ بتایا جاتا ہے۔

اب اس معاملے کا ایک اور پہلو دیکھتے ہیں، پنجابی اسلام قبول کرنے کے بعد بھی پنجابی ہی رہے یعنی ان کی ثقافت اور بود وباش میں کوئی خاص فرق نہیں آیا جبکہ سندھ میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی ایک ایسا نیا رنگ ابھر کر آیا جو اس دھرتی کا خاصا ہے، یہ لعل کا رنگ، سچل سرمست کا رنگ اور شاہ عبد العزیز بھٹائی کا رنگ ہے۔

سندھ نہ تو اب برہمنوں کا سندھ ہے اور نہ ہی بودھ بھکشوؤں کا، جن کے بارے میں گمان ہے کہ کبھی وہ بھی یہاں موجود تھے۔ موہن جو دڑو کے آثار پر بنا اسٹوپا اس عہد کی گواہی دیتا ہے، سندھ تو اب صوفیوں کا سندھ ہے، ولیوں کا سندھ ہے۔

اب ہوگا یہ کہ راجہ داہر کو جیسے ہی قومی ہیرو اور محمد بن قاسم کو حملہ آور تسلیم کیا جاتا ہے، عین اسی لمحے سندھ کے یہ سارے محبوب ترین بزرگ بھی غاصبوں کی صف میں کھڑے ہوجائیں گے اور سندھ کی مذہبی شناخت بدلنے کے مجرم قرار پائیں گے۔

سندھ کے عہد نامہ قدیم اور عصرِ حاضر کے سندھ کو آپس میں ہم آہنگ کرنے والی گمشدہ کڑیاں جب تک مل جاتیں، تب تک راجہ داہر کو ہیرو تسلیم کرنا شاید سندھیوں کے لیے بھی ناممکن رہے گا۔

راجہ داہر کو ہیرو قرار دینے میں افلاک سے اترنے والوں کی پسند نا پسند تو بعد کا معاملہ ہے، سندھ کے اعلیٰ ترین اذہان کو یہ سوچنا ہوگا کہ تیرہ سو برس پہلے قطع ہونے والے تاریخی سلسلے کو وہ دوبارہ کہاں سے جوڑیں گے۔

یہ سارا مسئلہ پیدا ہوا ہے مطالعہ پاکستان کی اس کتاب سے جسے پڑھ کر ایک طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کی تاریخ اگست 1947 سے ہی شروع ہوتی ہے اور اس سے قبل ہم تاریخ کے صفحہ خوں آلود پر موجود ہی نہ تھے۔ حالانکہ برصغیر کا یہ حصہ جس کا نام سندھ اور پنجاب ہے، لگ بھگ پانچ ہزار سال قدیم تاریخ رکھتا ہے، یہ وہ تاریخ ہے جو وادی مہران کے بسنے سے پہلے سے شروع ہوتی ہے، ماہرین اسے ہڑپا کی تہذیب کے نام سے پکارنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس تاریخ کا سرا دور ہمالیہ کی گود سے نکلنے والی سندھو ندی کے دہانے سے منسلک ہے۔ جب پہلی بار اس ندی نے اپنا رستہ تلاشا اور پہاڑوں کا سینہ چیرتی، میدانوں اور ریگستانوں کو پار کرتی یہ ندی بحیرہ عرب کے پانیوں سے متصل ہوئی تھی، تب شاید کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ سمندر جسے مستقبل میں بحیرہ عرب کا نام دیا جائے گا، ایک دن اس سمندر کے راستے سے کچھ لوگ آئیں گے اور ان کی آمد کے بعد یہاں کی ہزاروں سال قدیم مہربان تہذیب بانہیں کھول کر خود کو مہمان تہذیب میں ضم کرلے گی۔

یہ وہی مسئلہ ہے جو دو آب سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کو سندھ میں آنے پر درپیش ہوا تھا، اور پنجاب میں آنے والے مہاجروں کو نہیں تھا، تب دو آب کے مہاجر اس شش و پنج میں تھے کہ خود کو گنگ وجمن کا وارژ سمجھیں یا وادی مہران کا بیٹا کہیں۔

آج کے پنجاب میں رنجیت سنگھ کے مجسمے کی تنصیب نے سندھیوں کو اپنی ہزاروں سال قدیم اقامت گاہ میں بیٹھے بٹھائے اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ زمانہ قبل از اسلام والی تاریخ پر لوٹ جائیں اور راجہ داہر کو اپنا ہیرو قرار دیں یا پھر لعل شہباز قلندر کے طوقِ گراں سے لے کر عابدہ پروین کے گلو سے برآمد ہونے نعرہ مستانہ کواپنا رہنما تسلیم کریں، جو بھی ہو، فیصلہ تو سندھ نے کرنا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •