آج کا تازہ اخبار آ گیا۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 \"asifسوچتا ہوں اخبار خریدنا بند کر دوں۔ دن بھر خون جلانے سے کیا فائدہ۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ پھر صبح کیسے ہو گی۔

اخبار میرے لیے اسی طرح صبح کا جزو ہے جیسے ناشتہ۔

صبح اٹھنے کے بعد مجھے اس لمحے کا انتظار ہوتا ہے جب گول لپٹا ہوا اخبار دروازے کے اندر سرکایا ہوا ملتا ہے۔ اس صوفے پر میری ایک مخصوص جگہ ہے جہاں بیٹھ کر پہلے میں پڑھنے کی عینک لگاتا ہوں (جو دیکھنے کی عینک سے اب الگ ہو گئی ہے) پھر اخبار کھولتا ہوں اور ایک ایک صفحے پر نظر دوڑاتا ہوں۔ اگر کسی دن صبح کے وقت اخبار پڑھنے کو نہ ملے تو سارا دن ایسے گزرتا ہے جیسے کوئی ضروری چیز رہ گئی ہے، دن نکل آیا مگر صبح نہیں ہوئی۔

سیاسی بیانات والے صفحات الانگھتا ہوا میں آگے بڑھتا ہوں۔ دوسرے شہروں کی خبریں، اداریے والا صفحے پر مضامین، تجزیے، دن بھر کا زائچہ، کارٹون، بین الاقوامی خبریں، الّم غلّم، سیاسی لیڈروں کے بیانات میری توجّہ بڑی مشکل سے حاصل کر پاتے ہیں، اس لیے کہ اکثر بے معنی الفاظ کا ڈھیر معلوم ہوتے ہیں۔ ادھر یہ فرق پڑا ہے کہ دوسرے، تیسرے صفحے پر انتقال کی خبریں اور اشتہار ضرور پڑھتا ہوں۔ پس ماندگان کی طرف سے جاری کردہ ان اشتہاروں میں اب اپنے ملنے والوں سے بھی ملاقات ہونے لگی ہے جیسے پہلے شہر کی سرگرمیوں والے کالم Goings-on سے پتہ چلتا رہتا تھا کہ کون کیا کررہا ہے۔

اس کے بعد مدیر کے نام خطوط پر نظر بھی دوڑاتا ہوں۔ کل صبح ان خطوط میں ایک ایسی اطلاع تھی جو خبروں کے صفحے تک نہ پہنچ سکی۔ یوں بھی موبائل فون چھن جانے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوجانے کی خبر کراچی کے حساب سے اب خبر بھی نہیں رہی۔

ایسے جرائم کی خبریں بھی اکثر اس شہ سُرخی کے ساتھ چھپتی ہیں کہ کراچی میں ان کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوگئی ہے اور اسی نعمت پر ہمیں اپنے حکم رانوں کا شُکر ادا کرنا چاہیے۔ اس نعمت کو جھٹلانا نہیں چاہیے۔

اخبار کے مدیر کے نام یہ خط میں نے کل صبح پڑھ لیا اور اس وقت سے میرے دماغ میں اس طرح گھومے جارہا ہے کہ جس کام کا ارادہ کروں ذہن کے کسی گوشے میں سے یہ مسلسل کچوکے دیاجاتا ہے۔

’’ڈان‘‘ کے  2ستمبر 2016ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے اس خط کی سُرخی جسے دیکھ کر میری نظریں اسی طرف جم گئی تھیں، یوں ہے __ قتل اور اسپتال۔

اس خط کے مندرجات جیسے میرے حافظے سے چپک کر رہ گئے ہیں۔ ایک بہت ہی سادہ مگر تکلیف دہ جُملے سے شروع ہوا تھا وہ خط__ 18 اگست کو ہمارے عزیز ساتھی، 38 سالہ عاصم اس جہاں سے گزر گئے۔ اس کا اگلا جملہ اس طرح تھا کہ اپنی موت کے بعد وہ بھی اس فہرست میں محض ایک اور ہندسہ بن کر رہ گئے جو موبائل فون چھن جانے کی واردات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس حادثے کی مزید کوئی تفصیلات انھوں نے نہیں لکھی ہیں۔ شاید ایسی سب تفصیلات غیرضروری ہیں۔ تفصیلات کے بجائے انھوں نے زیادہ سنجیدہ بات لکھی ہے: کیوں ہوا، کیسے ہوا، کہاں اور کیوں، ان سب باتوں پر بجث کی جاسکتی ہے لیکن ان باتوں سے اس المیے کا اثر زائل تو نہیں ہوسکتا۔

عاصم کے سینے میں گولی لگی __ اس خط میں گولی کے لیے point blank کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں مگر ان کا پورا نام بھی نہیں لکھا گیا۔ گولی لگنے کے تین گھنٹے بعد وہ اندرونی اعضا سے خون بہہ جانے کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عاصم کے بارے میں ان کے ساتھیوں نے لکھا ہے کہ انھوں نے بڑی ہمّت کے ساتھ اس صورت حال کا سامنا کیا۔ انھوں نے اسی فون کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو مطلع کیا جو ان کو گولی مارنے والے افراد وہیں چھوڑ گئے تھے۔

ٹیلی فون چھیننے والوں اور گولی مارنے والوں نے اپنا کام کیا سو کیا، رہی سہی کسر ان بڑے اسپتالوں نے پوری کر دی جہاں ان کو لے جایا گیا اور باری باری ہر اسپتال نے ان کو حیلے بہانے سے رخصت کردیا۔

عاصم کو سب سے پہلے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔ مگر وہاں کہا گیا کہ ان کے علاج کی سہولیات موجود نہیں ہیں، اس لیے ایمبولینس کو جناح اسپتال بھیج دیا گیا۔

کہاں عباسی شہید اسپتال اور کہاں جناح اسپتال۔ ایمبولینس نے آدھا کراچی طے کیا ہوگا اور ٹریفک کے مشکل مرحلے سے گزری ہوگی۔ مگر عاصم اس سفر کے دوران زندہ تھا، اس کا خون بہہ رہا ہوگا، اس کی جان جا رہی ہو گی۔

کسی طرح وہ ایمبولینس جناح اسپتال پہنچی۔ انھوں نے سینے سے جاری خون کو دیکھا تو تشخیص کیا کہ دل کا معاملہ ہے، اسے کارڈیو ویسکولر کے شعبے میں منتقل کیا جائے۔

کارڈیو کے شعبے نے ظاہر ہے کہ یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہاں صرف دل کے امراض کا علاج ہوتا ہے۔ انھوں نے مریض کی ایمبولینس کو لیاقت نیشنل اسپتال بھجوا دیا۔

یہ سفر آگے بڑھا۔ اس کے بعد خط میں لکھا ہے کہ ہمارا ساتھی ہمارے بازوئوں میں ہی اس وقت دم توڑ گیا جب ایمبولینس اس آخری اسپتال کی حدود میں داخل ہورہی تھی۔

خط لکھنے والے نے پوری صورت حال کی ستم ظریفی پر ایک فقرہ لکھا ہے کہ عاصم کو دوبارہ عباسی شہید اسپتال بھیج دیا گیا کہ موت کا تصدیق نامہ حاصل ہوسکے (ڈیتھ سرٹیفکیٹ)۔

جب ساری کارروائی مکمل ہو گئی تو عاصم کے دوست یہ دیکھ کر شدید صدمے میں مُبتلا ہوگئے کہ جناح اسپتال سے جاری کیے جانے والے کاغذ پر لکھا تھا کہ اس کی نبض نہیں مل رہی تھی جب کہ اس وقت تک وہ پوری طرح ہوش میں تھا۔

عاصم کے دوستوں کے ذہن میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلمان کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں کہ موت اور حیات اللہ کے ہاتھوں میں ہیں لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھیں اور ایسے مریض کو علاج کی سہولت نہ دیں جس کی جان کو خطرہ ہو۔

ہم کس سے سوال پوچھیں اور کس کو موردِ الزام ٹہرائیں__ اس خط کے آخر میں انھوں نے لکھا ہے۔ ہم یہی سوال بار بار اپنے آپ سے کررہے ہیں اور اپنے عزیز ساتھی کے لیے افسوس کررہے ہیں جو بھرپور زندگی کے درمیان یوں اپنی جان ہار گیا۔

خط یہاں ختم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد مزید کچھ کہنے کے لیے باقی بھی نہیں رہتا۔ اس کے بعد خط لکھنے والوں کا نام درج ہے__ دوست اور ساتھی، کراچی۔

میں عاصم کے دوستوں میں سے نہیں ہوں۔ میں اس کا پورا نام بھی نہیں جانتا۔ کاش میں اس کے دوستوں میں سے ہوتا، اس کے چند خیرخواہوں میں ہوتا۔ مگر میں اس کے ماتم داروں میں ہوں۔

اس لیے کہ میرا شہر نہ تو اس کا ماتم کرے گا اور نہ ایسی کسی اور موت کا مداوا۔

عاصم کی موت کے بعد سے نیا اخبار آگیا ہے، آج کا تازہ اخبار۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply