کیا دعا بھی بس پیسے والوں کے لیے ہوتی ہے؟


رمضان المبارک کی بات ہے۔ میں صبح کی نماز پڑھنے اپنے محلے کی مسجد میں گیا تو وہاں جا کے پتہ چلا رشید صاحب جو ہمارے محلے کے موچی ہیں، کل ان کی والدہ ماجدہ جہان فانی سے رخصت ہو گئی ہیں۔ رشید صاحب اچھے اخلاق کے انسان ہیں۔ نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کے متولی طارق صاحب نے سٹور کی چابیاں اٹھائیں اور سٹور کھول کے چادریں نکالنے لگے۔ رشید صاحب کی والدہ کی قل خوانی کے سلسلے میں سب لوگ صفیں بچھا کے بیٹھنے لگے۔

تب ہی مسجد کے علامہ صاحب جو کہ نئے آئے ہیں انہوں نے طارق صاحب کو آواز دی کہ رک جائیں۔ سب نے ان کی طرف دیکھا۔ علامہ صاحب بولے۔ نہیں نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قل خوانی غلط ہے۔ اصل میں آپ سب کو پتہ ہے رمضان ہے تو اس وقت رمضان کے سلسلے میں بیان ہوتا ہے میرا۔ آپ لوگ بیٹھ کے وہ سن لیں اس کا فائدہ بھی ہوگا۔ سب لوگ خاموش ہو گئے، رشید صاحب بھی غریب آدمی تھے کیا کہتے چپ کر کے بیٹھ گئے۔ علامہ صاحب نے معمول کے مطابق اپنا بیان فرمایا اور آخر میں ان کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا بھی کر دی۔

تھوڑے دن گزرے محلے کے چوہدری انور صاحب کی والدہ ماجدہ انتقال فرما گئی۔ چوہدری انور صاحب پانچ بھائی ہیں اور سب اچھا کماتے ہیں۔ محلے کے امیر اور معزز لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ آج جب میں ظہر کی نماز پڑھنے مسجد گیا تو مسجد کے باہر گاڑیوں کا رش، مسجد کے اندر لوگوں کا ہجوم جمع ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد وہی علامہ صاحب اٹھے اور بڑے سپیکر میں جوش و خروش سے اعلان کیا کہ چوہدری انور صاحب کی والدہ کی وفات کے سلسلے میں مسجد میں قل خوانی جاری ہے شرکت فرما کے ثواب دارین حاصل کریں۔

آج بھی رمضان تھا، آج بھی معمول کے مطابق علامہ صاحب کا بیان ہونا تھا، ظہر کے بعد علامہ صاحب بچوں کو درس قرآن دیتے تھے۔ لیکن کیونکہ آج کسی موچی کی ماں نہیں مری تھی محلے کے چوہدری کی ماں تھی تو بیان بھی تعطل کا شکار ہوا اور درس قرآن کی بھی چھٹی ہے۔ محلے کے سب نعت خواں بھی مسجد میں تشریف فرما ہیں، ارد گرد کے علاقوں سے بھی علماء کرام موجود ہیں۔ سب اپنی اپنی شیریں بیانی سے چوہدری صاحب کے محبوب نظر ہونے میں مشغول تھے۔ عصر کی نماز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر چوہدری صاحب نے افطاری کا بھی اہتمام کیا ہوا تھا تو سب لوگ وہاں چلے گئے۔

مجھے یہ بات ہضم نہیں ہوئی، میں نے عشاء کی نماز پڑھی اور تراویح کے بعد علامہ صاحب سے سوال کیا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ کیا صرف امیر لوگوں کو ہی بخشوایا جائے گا؟ علامہ صاحب نے مجھ نادان کی بات سنی ان سنی کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ ساری غلطی علامہ صاحب کی ہے، کیونکہ انہوں نے جیسا رویہ رشید صاحب کے ساتھ اپنایا تھا وہی انور صاحب کے ساتھ اپناتے تو شاید انہیں چھٹی کرا کے واپس اپنے گاؤں بھیج دیا جاتا۔ اب بات یہ ہے کہ بیچارے رشید صاحب پہ کیا گزری ہو گی کیا دعا بھی بس پیسے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ علامہ صاحب کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ اس فانی دنیا میں اپنے منصب کے چھن جانے کے ڈر سے حق بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ہمارا دین تو دولت کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتاہے۔ اسلام میں انور کو کسی رشید پہ کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، اسلام میں برتری کا معیار تقوی اور پرہیز گاری ہے۔

Facebook Comments HS