کیا نواز شریف کی رہائی ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جج لیکس کے بعد حکومتی، عدالتی اور تخلیقی حلقوں میں نفسا نفسی، افراتفری، آپا دھاپی اور ماتم گساری جاری ہے۔ جن لوگوں نے نواز شریف کو گذشتہ الیکشن میں بھونڈے طریقے سے بہر صورت باہر کرنے کی گھناؤنی سازشوں کے جال بچھائے تھے وہ ایک ایک کر کے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ اس کتاب کے بہت سے خفیہ باب کھل رہے ہیں۔ مگر وہ اب بھی آب آب نہیں ہو رہے۔ حقیقت کھل جانے پر بھی حکومتی دسترخوان کے خوشہ چینوں کی توپوں کے رخ اب بھی جرم بے گناہی کی سزا کا ٹنے والے ستم رسیدہ نواز شریف کی طرف ہیں۔

جج ارشد ملک کی ویڈیو نہ بھی آتی تو اہل دانش اور عقل سلیم رکھنے والوں کے لیے یہ سادہ سی بات کون سی اتنی بڑی پہیلی تھی کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹانے کے لیے اہل حکم کے اشارے پر سیاہ پوشوں، سیاہ کیمروں اور سیاست کی کالی بھیڑوں نے کس قدر گھناؤنا کردار ادا کیا۔ ویڈیو لیکس کے بعد نواز شریف کے حامی ہی نہیں بلکہ غیر جانبدار حلقوں کا بھی یہی خیال ہے کہ عملی طور پر نواز شریف کی سزاؤں کا اب کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رہ گیا مگر قربان جائیں دسترخوانی قبیلے کی غیر مشروط وفاداریوں اور جاں نثاریوں کے کہ جو بڑی ہی ڈھٹائی، بے شرمی اور بے ذوقی سے سیاہ کو سفید، زشت کو خوب اور ناجائز کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اس قبیلے کی بے سروپا باتیں اور بے وزن حجت بازی سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر یہ لوگ فرعون کے دربار میں ہوتے تو اسے ایسے تیر بہدف اور کارگر نسخے بتاتے کہ وہ حضرت موسی کو ٹھکانے لگانے کے لیے بچوں کا قتل عام کر کے بدنام نہ ہوتا۔

ان برزجمہروں کی قابل رحم حالت دیکھ کر ان پر ترس آتا ہے کہ واقعی چاکری کتنا مشکل کام ہے۔ ان درباری نو رتنوں اور خالی برتنو ں کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ جج صاحب کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے سے زیادہ اہم نقطہ یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی فیملی نے عدالت اور ججوں کو رام کرنے کے لیے رشوت، سفارش، دھمکی جیسے ہتھکنڈے کیوں استعمال کیے؟ با الفاظ دیگر جو شخص تین چار سال سے یہ دہائی دیتا رہا کہ اس کے خلاف تمام ادارے مل کر گھناؤنی سازش کر رہے ہیں۔ اس کو الیکشن سے باہر کرنے کے لیے سیاسی، اخلاقی، قانونی اور معاشرتی قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے الیکشن رنگ میں بے بس چھوڑا جارہا ہے تاکہ لاڈلے کی راہ ہموار کی جا سکے، مگر اس کی آہ و زاری اور واویلے پر کوئی کان دھرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اب جب جج لیکس ان تمام باتوں اور الزامات کو درست ثابت کر رہی ہیں تو دسترخوانی قبیلہ تنکے کا سہارا تلاش کرنے کی سعی لاحاصل کر رہا ہے۔

کیا یہ طرفہ تماشا نہیں کہ جو شخص اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر، عزت سادات، سیاسی و سماجی ساکھ داؤ پر لگا کر چور کو رنگے ہاتھوں پکڑتا ہے، اس سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ اس نے چور کو پکڑنے میں اخلاقی اصولوں کا خیال نہیں کیا۔ حضور! جب آپ پر عدل و انصاف کے تمام راستے بند کر دیے جائیں، تمام ذیلی اداروں کو طاقت کا غلام بنا دیا جائے اور ہر صورت میں ان سے من چاہے انصاف کا مطالبہ کیا جائے تو ایسی صورت حال میں چوروں کو اسی طرح پکڑا جاتا ہے۔ جج صاحب جس طرح ناصر بٹ سے ”دباؤ“ ڈلوانے کے لیے شہر شہر، ملک ملک رنگ رلیاں مناتے پھرتے رہے ہیں اس سے تو یہ ہویدا ہو رہا ہے کہ وہ ارشد ملک نہیں بلکہ وینا ملک ٹائپ کوئی کردار ہیں۔

اب جب کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جا چکا ہے اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے جج ارشد ملک کو بطور سزا لاہور ہائی کورٹ میں پرانی پوزیشن پر بھیج دیا ہے اور وزیر قانون، وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب نے جج کا بیان حلفی میڈیا پر جاری کر کے حسب عادت نواز شریف اور مریم بی بی کو نشانے پر رکھ لیا ہے اور جج صاحب کی معصومیت اور بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا ہے تو ہم سب امید سے ہیں کہ اس کیس میں ”انصاف“ ضرور ہو گا۔

اس سب کارروائی کے تناظر میں اگر وزیراعظم عمران خان کا سیسلین مافیا والا بیان اور ”ٹویٹر سرکار“ کی معنی خیز خاموشی دیکھی جائے تو یہ بات ایک عامی کی سمجھ میں بھی آجاتی ہے کہ نواز شریف کی ”گستاخی“ کی سزا ابھی معاف ہونے والی نہیں ہے۔ فیصلہ ساز گذشتہ چند دن میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ عدلیہ اور ادادوں کی ساکھ بچانے سے کہیں زیادہ اہم یہ کہ نواز شریف کے ووٹ کو عزت دینے والے بیانیے کے راستے میں بند باندھا جائے۔ یہ بند بعد میں ریت کی کمزور دیوار ثابت ہوتا ہے تو ان کی بلا سے۔ نواز اور مریم کو مزید سبق سکھانے کے لیے ایک ارشد ملک کیا پورے سسٹم کو داؤ پر لگا یا جاسکتا ہے۔ نواز شریف کی رہائی دلی ہنوز دور است کے مصداق ابھی ناممکن سی دکھائی دیتی ہے۔ اللہ کرے میری یہ رائے غلط ثابت ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •