گل خان پشاور سے روانہ ہو چکا ہے


\"samiاُس نے رات کے دس بجے، فون کرکے، پانچ منٹ کے اندر اندر، باھر گلی کے نُکڑ پہ سگریٹ سمیت بُلایا۔ اور پھر مجھے اپنی بیوی سے دوست کے والد محترم کی ناساز طبیعت کا بہانا کرکے، صرف آدھے گھنٹے کی رخصتی کا راضی نامہ لے کر، راستہ پکڑ لیا ۔ گلی کے نُکر پہ پہنچتے ہوئے، سگریٹ مع ماچس پیش کیا، اُس نے سر کو داییں طرف موڑ کر، باییں آنکھ دبا کر سگریٹ سُلگاتے ہوئے بولا، یار کل عمران خان کا دھرنا ہے اور میرے لیے اس میں شمولیت کسی حج اصغر سے کم نہیں ہو گی۔ پہلا کش مارتے ہوئے اس نے دھیمی آواز سے کہا، پچھلی دفعہ بہت کوشش کی تھی لیکن سٹیج کے قریب پہنچنے میں ناکام رہا، اس دفعہ پلنگ توڑ کوشش کروں گا کہ کسی بھی طریقے سے سٹیج کے قریب پہنچ کر۔ اپنے قائد کا قریب سے دیدار بھی ہوگا اور ان کے کانوں میں ”گو نواز گو“ کا نعرہ بھی با آسانی پہنچا دوں گا۔ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے سے بے چینی اور اضطراب ایسے ٹپک رہے تھے، جیسے اُلٹی موم بتی سے موم کے قطرے۔

اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے۔ گل خان نے بولا، کہ اس نے، محلے کے درزی سے سامسنگ کا موبائل بھی ادھار پہ لیا ہوا ہے، تاکہ اپنے قائد عمران خان کی تصویریں قریب سے لے اور ساتھ ساتھ میں ”عمران خان کے جلسے دے وچ میرا نچنے نو جی کردا اے“ کے گانا کا ریکارڈنگ بھی کر سکے۔ اس نے موبائل پہ فیسبک کا لائیو آپشن بھی رکھا ہوا ہے، تاکہ جلسہ گاہ سے فیسبک کے ذریعہ لائیو بھی آسکے، اور اپنے دوستوں کو باور کرا سکے کہ وہ بھی اس انقلاب کا حصہ ہے جس میں دوسروں پر کرپشن کے الزامات کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن کو اپنا سفید سوٹ، اور کالی واسکٹ بھی دھونے کے لئے دیے تھے، اور دوران ملاقات، اُس نے دونوں کو استری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ ضیاء الاسلام جو اس کے پڑوس میں رہتا ہے، اس سے چارسدہ والے چپل بھی ادھار میں اُٹھائے تھے تاکہ اپنے قائد کے ساتھ ذہنی کے ساتھ ساتھ لباسی مشابہت بھی رکھ سکے۔ کالا چشمہ جو عدنان خٹک نے لے کر دیا تھا، وہ بھی سنبھال کے رکھا تھا، تاکہ بوقت دھرنا اپنے قائد کی مکمل کاربن کاپی ہو۔ اُس نے امام مسجد سے اپنے لیے ایک ضامن بھی بنوایا تھا، تاکہ بحفاظت واپسی ہو جائے، اور اپنے روٹی، کپڑے کا جہاد بھی جاری رکھ سکے۔

اپنی سیاسی بصیرت پہ مزید روشنی ڈالتے ہوئے، اُس نے بتایا کہ وہ عمران خان سے، وہ اس لیول کی محبت کرتا ہے، کہ اس کے ساتھ کوئی لڑکی بھی دیکھے تو حسد محسوس کرتا ہے۔ بتا رہا تھا کہ جب عمران خان سٹیج سے گرگیا تھا، تو وہ بھی تین گھنٹے کے لئے بیہوش ہوگیا تھا۔ عمران خان کے ساتھ اپنے سیاسی اور جذباتی بندھن کو باندھتے ہوئے اس نے بتایا، کہ عمران خان کو پسند کرنے کی ان گنت وجوہات ہیں، جن میں ایک، چارسدہ والی چپل، جو قائد بین الاقوامی سٹیجیز پہ بھی پہنتے ہیں، جس سےہماری ثقافت کو فروغ ملتا ہے، اور اگر اوپر سے پکول پہنا ہو، پھر تو سونے پہ سہاگہ۔ پھر آسمان کی طرف منہ کرکے بول دیا، کہ عمران خان ہمارے پختوں قوم پرست لیڈر ان سے سو فیصد اچھا ہے، کیونکہ وہ میانوالی پنجاب کا ہوتے ہوئے بھی اپنے نام کے ساتھ خان لکھتا ہے، اور ہمارے پختون سیاسی لیڈران خیبر پختونخواہ کے ہوتے ہوئے بھی اپنے نام کے ساتھ ”خان“ نہیں لگاتے، جیسا، غلام بلور، میاں افتخار حسین، افراسیاب، مقصود احمد جان، سردارحسین بابک، اور بھی پختون ملی عوامی پارٹی کے سیاسی لیڈران جن کا نام ”خان“ کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔ بول رہا تھا یہ تو چھوڑیے، عمران خان کو پشتو بھی آتی ہے، جیسا کہ اس نے چارسدہ کے جلسے میں ایک بندے سے ہاتھ ملا کر بولا تھا، ”پخیر راغلے“ ھر چیز اپنی جگہ لیکن مجھے میرے قائد کی ایک بات اچھی نہیں لگی تھی، چارسدہ کے جلسے میں اُس نے جوش خطابت میں فرمایا تھا کہ، ”باچا خان اور گاندھی جی“ برصغیر کے دو بڑے سیاسی رہنما رہ چکے ہیں۔ اور اگر مجھے اپنے ھر دلعزیز قائد سے ملنے کا موقع ملا بھی، تو یہ سوال ضرور کروں گا۔

یہ آدھے گھنٹے کی ملاقات اس بات پہ ختم ہوئی، کہ اُسے دھرنے میں جانے کے لئے تین ھزار روپے ادھار چاہیے تھے۔ اور پھر صبح پہلی گاڑی میں گل خان پشاور سے براستہ، نوشہرہ، اکوڑہ خٹک، اٹک، حسن ابدال، ٹیکسلا واہ کینٹ، اسلام آباد، میں کراچی کمپنی پہنچے گا۔

 

Facebook Comments HS