کالم کے ساتھ تشریحی کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر بہت پھلا پھولا ہے اس میں جن چیزوں نے بہت زیادہ ترقی کی ہے یا دوسرے لفظوں میں ہم جن میں خود کفیل ہوئے ہیں وہ ہے کرپشن، جھوٹ، دھوکہ دہی، غربت، لوٹ مار، غیبت۔ یہ سب ہماری روزمرہ زندگی میں اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ یقین مانیے ہمیں یہ کوئی عیب نہیں لگتے۔ یہ سب باتیں، یہ چیزیں ہماری ضرورت بن چکیں۔ ان کے بنا اب ہمارا گذارا نہیں اور جو چیز ضرورت بن جائے اس پر کیا رونا ویسے بھی ایک ہی بات پر کتنا اور کب تک رویا جا سکتا ہے سو بہتر ہے یہ سب ہنسی خوشی قبول کر لیا جائے سو دانشمندی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ہم نے دامن وسیع کیا اور ان سب قباحتوں کو کھلے دل سے قبول کر لیا ہے۔

البتہ اگر کوئی کتب بینی سے خاص انس رکھے، سچ بولے، رشوت نہ لے، چیزیں خالص ملنا شروع ہو جائیں، ہر طرف امن ہو جائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں اگر بازار سے کوئی چیز سستی مل جائے تو شبہ ہوتا ہے کہ یہ چیز یقیناً دو نمبر ہے جبکہ عالم یہ ہے کہ دو نمبر کی بھی نقل آچکی اور دو نمبر پراڈکٹ پر بھی شک گزرتا ہے کہ آیا یہ اصل دو نمبر ہے بھی یا نہیں۔ معاف کیجئیے مگر ہم اجتماعی طور پر اس قدر جھوٹ کے عادی ہو چکے کہ اگر کوئی سچ بول رہا ہو تو کوئی اس پر یقین نہیں کرتا بلکہ اس سے اصرار کیا جاتا ہے کہ جھوٹ نہ بولو سچ بتاؤ۔

اگر چار دن ہم کوئی بُری خبر نہ سن لیں جیسے کہ اغوا یا ڈکیتی تو دل بے چین ہو جاتا ہے اللہ خیر کرے بہت دن ہوئے کوئی خبر نہیں آئی کہیں اغوا کار خود تو اغوا نہیں ہو گئے۔ کام چوری کی عادت اتنی پختہ ہے کہ اگر سرکاری ملازم ہفتہ میں دو تین چھٹیاں نہ کرے تو اس کی طبیعت میں بوجھل پن آجاتا ہے اور چھٹی نہ کرنے کی وجہ سے صحت خراب ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کام والی ماسی پورا ہفتہ لگاتار آئے تو وہ بھی مشکوک ہو جاتی ہے کہ یقیناً یہ کسی چکر میں ہے جو متواتر آرہی ہے۔

کھانے پینے کی اشیئا مضرِ صحت نہ ہوں یہ ممکن نہیں کسی ڈھابے، ہوٹل یا ریڑھی والا صفائی کا خیال رکھے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے کسٹمر کو باسی، مضرِ صحت کھانا ہی پیش کریں۔ اگر آپ سوچتے ہیں کہ رشوت کے بغیر آپ کا کام ہو جائے تو یقیناً آپ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ سیاستدان اپنے وعدے پورے کریں گے تو یہ دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے۔

گلیمر کے بغیر اب ہمارا میڈیا نہیں چل سکتا اگر آپ گلیمر کے بغیر متوسط طبقے کی کہانی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو سب کچھ چھوڑ کر دنیا داری ترک کر کے پی ٹی وی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ کہ موجودہ دور میں یہی ایک سادے چلن کا چینل ہے جس کو ابھی زمانے کی ہوانہیں لگی اور یہ جدید قباحتوں سے کوسوں دور ہے۔ لیٹ نائٹ سونے اور دوپہر اٹھنے کی عادت ہمارا معمول بن چکی۔ اگر آپ کا بچہ جلدی سونے کا عادی نہیں رہا تو اس کے ہاتھ سے موبائل لینے کی جرات کرکے اسے کتاب پڑھنے کو بٹھا دیں آپ کے تصور سے بھی پہلے وہ سو جائے گا۔

فیس بک کو پڑھتے پڑھتے ہم اصلی کتاب پڑھنا چھوڑ چکے ہیں۔ کلاسک ادب کی جگہ انسٹاگرام نے لے لی۔ پروفیسر کے لیکچر سننے کی بجائے ہم خود فیس بک پروفیسر بن گئے۔ اب ہمیں کسی مشکل کے لئے کسی وکیل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہی گوگل ہے نا ہر مشکل کا حل۔ اب کسی ڈاکٹر یا حکیم کی بھی ضرورت نہیں بلکہ میڈیکل کالجوں کو بند کر دینا چاہیے کہ ہر قسم کے طبی ٹوٹکوں کے لئے مارننگ شوز موجود ہیں۔ پبلک لائبریوں کو بند کر دینا چاہیے کہ ادھر کا رُخ بھی کوئی نہیں کرتا کہ واٹس اپ پر سٹیس لگانے ہی سے فرصت نہیں۔

معیاری مزاح کی جگہ سیاسی چٹکلوں نے لے لی ہے۔ تفریحی کالم کی جگہ بھی سیاسی کالم چھا گئے۔ جو سیاست سے ہٹ کر لکھے اسے کالم نگار نہیں مانا جاتا بلکہ اس کو لکھنے والا بھی نہیں مانا جاتا۔ اگر کوئی بھولے سے تفریحی کالم لکھ ڈالے تو سب سے پہلے تو اسے اخبار کے ایڈیٹر کو وضاحت دینا پڑتی ہے کہ جناب یہ ایک تفریحی کالم ہے اس کے لئے بھی اگر اخبار میں جگہ نکال دی جائی تو مہربانی ہوگی۔ پھر اسے کالم کے پوائنٹ نوٹ کروانا پڑتے ہیں کہ یہ طنزیہ ہے جسے مزاح کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

تو ادھر سے جواب آتا ہے کہ یہ ذرا مشکل سا لگتا ہے قارئین کو سمجھنے میں دشواری ہو سکتی ہے بہتر ہے کہ اگر اس کے ساتھ آپ ایک تشریحی کالم بھی لکھ ڈالیں جس سے قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے تو ہو سکتا ہے اسے چھاپنے کے بارے سوچا جا سکے۔ معیاری اور تفریحی ادب ہماری زندگیوں سے رخصت ہو چکا اور اس کی جگہ سیاست ہمارا اوڑھنا بچھونا بن چکی۔ سینیئر لکھنے والوں کا ایک حلقہ نئے لکھنے والوں کو تلقین کرتا ہے کہ آپ لوگ سیاست سے ہٹ کر لکھیں اگر لکھنے کی صلاحیت ہے تو اچھوتے موضوعات منتخب کریں وہ لکھیں جس پر دوسرے نہیں لکھتے۔

سیاست کو ٹچ کئیے بغیر لکھیں جبکہ پیپر مالکان کہتے ہیں وہ لکھیں جو لوگ پڑھنا چاہتے ہیں اور قارئین سیاست میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ پیپر مالکان نے اپنا چورن بیچنا ہے ظاہر وہ لوگ وہی چھاپیں گے جو لوگ پڑھنا چاہیں گے۔ اب لکھنے والا مشکل میں۔ وہ ایڈیٹر کی مانے تو اہل ادب اسے لکھاری نہیں مانتے اور ادب والوں کی مانیں تو ایڈیٹر شائع کرنے کو نہیں مانتے لکھاری جائے تو جائے کہاں؟ جس معاشرے میں اللہ معاف کرے ہماری عادت نہیں چغلی کرنے کی کہہ کر دو گھنٹے دوسروں کے عیوب کھو لنے میں لوگ مشغول رہیں، کتاب سے شغف رکھنے والے کو خبطی، مولوی کو مذہبی جنونی، اسلام کی بات کرنے والے کو دہشت گرد سمجھا جائے جس معاشرے کے سیاستدان سیاست میں گالی کی زبان استعمال کریں، روزانہ رات ٹی وی سکرین پر ٹاک شو میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے گلے پڑتے ہوں، ہاتھا پائی تک پہنچ جاتے ہوں، جہاں سیاسی منڈیاں سجا کر روز عوام کو ایک ہیجان میں مبتلا کیا جائے اور جس معاشرے سے ادب رخصت ہو جائے اس معاشرے میں تفریحی کالم کے ساتھ تشریحی کالم لکھنے کی واقعی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •