میں اپنی والدہ کو کبھی سچ نہیں بتا سکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری والدہ کا پھر مجھے فون آیا ہے۔ فون کی بابت بتانے سے پہلے ضروری ہے کہ میں اپنی والدہ کا تعارف کروا دوں۔ میری والدہ کی عمر 84 برس ہے۔ 60 کی دہائی میں بہت کم ایسی خواتین تھیں جنہوں نے ڈبل ایم اے کیا۔ امی نے پہلے فارسی اور پھر اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ فارسی کی پروفیسر ہو گئیں۔ فلسفہ مولانا روم، سعدی کی حکایتیں، غالب کا فارسی کلام، اقبال شناسی ہم نے ان سے سیکھی۔

حافظ شیرازی، نظیری، فردوسی، مومن، میر تقی میرؔ، سودا اور ذوق کے بارے میں بھی انہوں نے ہی بتایا۔ ہمیں بچپن میں اگر ڈانٹ پڑی تو کسی لفظ کے غلط تلفظ پر، شعر غلط کہنے پر یا لفظ کے غلط املا پر پڑی۔ میرے والد اور والدہ کی ملاقات اورینٹل کالج میں 1962 ء میں ایم اے فارسی کے زمانے میں ہوئی۔ اس زمانے میں وٹس ایپ کی سہولت میسر نہ تھی اس لئے خط لکھے جاتے تھے۔ میری والدہ نے میرے والد کے وہ خط بہت سنبھال کر رکھے اور شادی کی پچاسیوں سالگرہ پر ان کو کتابی شکل ”انور مسعود کے خط صدیقہ انور کے نام“ کے عنوان سے چھپوا دیا۔

 کچھ لوگ معترض ہوئے کہ یہ بہت ذاتی سی باتیں ہیں، ان کو چھپوانا معیوب ہے لیکن امی کی دلیل تھی کہ محبت کرنا ہر شخص کا حق ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ محبت میں احترام اور شائستگی ہونی چاہیے۔ اس کتاب سے یہی سبق نوجوان بچوں کو دینا مقصود ہے۔ میرے والد کا اسی زمانے کا شعر ہے

قسم خدا کی محبت نہیں عقیدت ہے

دیارِ دل میں بڑا احترام ہے تیرا

میرے والدین کی زندگی کا بہت سا عرصہ عسرت میں گزرا۔ بقول میری والدہ کے ”میری جوانی کے دن تو تمہارے والد کے کپڑے رفو کرتے گزرے“ دو پروفیسروں کی اس زمانے میں تنخواہ ہی کیا تھی؟  گھر میں کل چودہ افراد تھے۔ امی کا کالج نو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ تانگے والا آٹھ آنے کرایہ مانگتا تو امی یہ سفر پیدل طے کرتیں کہ آٹھ آنے بچ جائیں تو گھر کے لئے کھانے کی کوئی چیز خرید لیں۔ میرے والدین کی شادی کو 54 برس ہو گئے اور ان برسوں میں ان کی روز ہی ایک موضوع پر بحث ہوتی ہے کہ غالبؔ بڑا شاعر تھا یا اقبالؔ۔ میرے والد اقبال کے عشق میں گرفتار اور والدہ غالب کی دلدادہ۔ یہ نہ ختم ہونے والی بحث سنتے ہمارا بچپن گزرا۔

 1997 ء میں امی کو کینسر ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈاکٹرز نے جواب دے دیا اور وہ تین دن تک کومے کی حالت میں رہیں۔ اللہ نے اس مقام سے شفا دی۔ کینسر سے صحتیابی کے بعد ان میں ایک تبدیلی آئی کہ ان کا رجحان مذہب کی طرف بہت ہو گیا۔ انہوں نے محلے کی خواتین کو قرآن کریم باترجمہ پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ استاد تو وہ شروع سے تھیں۔ جلد ہی دور دور سے خواتین ان سے قرآن کا درس لینے آنا شروع ہو گئیں۔ اب ان کا اوڑھنا بچھونا درس قرآن ہے۔

 ان کا تکیہ کلام ”شکر ہے، شکر ہے“ حالات جیسے بھی ہوں وہ شکر ادا کرنے میں ایک لمحے کی غفلت نہیں برتتیں۔ اب ان کے ہاتھ رعشہ سے کانپتے ہیں، چائے کا کپ دونوں ہاتھوں سے پکڑنے پر بھی چھلک جاتا ہے مگر شکر کا کلمہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔ میری بڑی ہمشیرہ فارسی کی پروفیسر اور چھوٹی بہن سماجی موضوعات پر بلاگ لکھتی ہیں۔ میری بڑی بھابھی امجد اسلام امجدؔ کی صاحبزادی ہیں، پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ برصغیر میں خواتین کے مزاحمتی ادب پر ان کا کام بہت قابلِ ذکر ہے۔

میری اہلیہ شنیلہ عمار صحافی ہیں اور کئی انٹرنیشنل فورمز پر سیاسی موضوعات پر بڑے جی دار کالم لکھتی ہیں۔ میرا چھوٹا بھائی میری والدہ کے ساتھ رہتا ہے وہ ٹویٹر اور فیس بک پر جو گالم گلوچ، دھمکیاں اور غداری کے فتوے مجھ پر لگتے ہیں، ان سے میری والدہ کو بہت نیک نیتی سے آگاہ کرتا ہے۔ امی گھبرا کر مجھے فون کرتی ہیں اور کہتی ہیں ”بیٹا ہم نے ساری زندگی عزت ہی کمائی ہے، نہ کسی نے گالی دی، نہ کسی نے جیل بھیجنے کی دھمکی دی، نہ غدار کہا نہ مار ڈالنے کی دھمکی دی، نہ کسی نے رشوت کا الزام لگایا، نہ کسی کو ماں بہن کی گالیاں پڑیں۔

تم یہ سیاست وغیرہ پر لکھنا، ٹی وی پروگراموں میں جاہلوں سے بحث کرنا چھوڑ دو، نوکری تم کو نہیں ملتی، کاروبار تم سے نہیں ہوتا، لکھنے لکھانے سے بھی کچھ نہیں بنتا تو پھر یہ بدنامی کس لئے؟ تم تو کہانیاں لکھا کرتے تھے تو پھر کہانیاں لکھا کرو۔ محبت کی، انسانیت کی، بھائی چارے کی“۔ میں ہمیشہ ان کی بات سن کر ہوں ہاں کر دیتا ہوں۔ میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ جیسی نیکی اور پارسائی کی زندگی انہوں نے بسر کی، میں ایسی زندگی بسر نہیں کر سکا، میری کتابِ زیست کا ہر صفحہ خطاؤں سے آلودہ ہے، جس میں ان کی تربیت کا کوئی قصور نہیں۔

 میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ آج کل سچ کہنے والے ہر صحافی کو دشنام کے اس غلیظ جوہڑ سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ میں اب محبت کی کہانیاں نہیں لکھ سکتا۔ سیاست کے بحر خار زار میں جو الم، جو مظالم میں نے دیکھے ہیں اس کے بعد محبت فروعی سا جذبہ لگتا ہے۔ میری والدہ کو مریم نواز بہت پسند ہیں، میں انہیں کبھی نہیں بتا سکتا کہ منڈی بہاؤ الدین کے جلسے والے روز مریم نواز کے بارے ٹویٹر پر کیا ٹاپ ٹرینڈ تھا؟

میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ جو راہ میں نے اختیار کی اس میں مالی مشکلات تو دور، ہر لمحے جان کا خطرہ ہے۔ میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ بہت سے صحافی سچ بولنے کے جرم میں جان سے گئے، بہت سے ماریں کھاتے رہے اور بہت سے جیل میں سڑتے رہے۔ میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ یہ گالم گلوچ سب لوگ نہیں کرتے یہ چند لوگوں کا ایک گروہ ہے جو ہر مختلف سوچ والے صحافی کی تذلیل پر مامور ہے۔ میں انہیں کبھی نہیں بتا سکا کہ یہ پچیس، تیس ہزار کی تنخواہ پر رکھے چند بچے ہیں جن کی نوکری ہمیں گالیاں دینے پر لگی ہوئی ہے۔

آخری بات میں انہیں اس لئے بھی نہیں بتا سکا کہ اگر انہیں ان بچوں کے ذریعہ رزق کے بارے میں پتا چلا تو انہیں یہ فکر لاحق ہو جائے گی کہ اگر ان کی نوکری چلی گئی، انہوں نے گالیاں دینا بند کر دیں تو ان کے گھر کا خرچ کیسے چلے گا؟ پھر وہ ان کے رزق میں کشادگی کی دعا کریں گی اور کہیں گی ”شکر ہے شکر ہے دیکھو اللہ نے تمہیں کتنے بچوں کے رزق کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ کتنے گھر تمہاری وجہ سے چل رہے ہیں۔ شکر ہے، شکر ہے“۔ ایسے میں مَیں ان کو سمجھا بھی نہیں پاؤں گا۔ اس لئے کہ مائیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کے دامن میں سب بچوں کے لئے بس دعائیں ہی ہوتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 176 posts and counting.See all posts by ammar