مقامی بسوں کا ارتقا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1980 کی دہائی میں جب میں نے ہوش سنبھالا تو بین الاضلاعی سفر کے لیے صرف سادہ بسیں مستعمل تھیں جن میں ائیر کنڈیشنز کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ یہ بسیں اب بھی رواں دواں ہیں۔ ان میں اے سی نہ ہونے کی وجہ سے تازہ ہوا کے لیے کھڑکیاں کھولنی پڑتی ہیں، لیکن یہی تازہ ہوا موسم گرما میں لو کے تھپیڑوں اور موسم سرما میں یخ بستہ جھونکوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مزید برآں دوران سفر بیرونی گردوغبار اور گاڑیوں کے دھوئیں سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔

نقش و نگار سے سجی ان بسوں کی آمد کادور سے ہی پتا چل جاتا ہے کیونکہ یہ بسیں چلنے کے ساتھ ساتھ کھڑکتی بھی ہیں۔ ان بسوں میں عموما کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ بیٹھنے کی جگہ بمشکل ملتی ہے۔ اگر آپ کی قسمت اچھی ہے، آپ نے دور جانا ہے اور زیادہ کرایہ ادا کیا ہے تو آپ کو نشست میسر آجاتی ہے۔ تاہم مقررہ نشست تک پہنچنے کے لیے آپ کو گزر گاہ میں کھڑے مسافروں کو دھکیلنا اور گزرگاہ میں رکھے سامان کو بھی پھلانگنا پڑتا ہے۔

اس بس کے اندر کا سماں بھی نرالا ہوتا ہے۔ بس میں انواع و اقسام کے مسافر ہوتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے چھوڑتے نوجوان، دھوئیں سے کھانستے بزرگ، بھوک اور گرمی سے بلکتے بچے اور روتے بچوں کو پچکارتی مائیں۔ انسانوں کے علاوہ مرغیاں اور بکریاں بھی آپ کی ہم نشست ہو سکتی ہیں۔

بس کی نشستیں اتنی تنگ ہوتی ہیں کہ ہر ہچکولے پر آپ کے گھٹنے اگلی نشست سے جا ٹکراتے ہیں اور سر ساتھی مسافر کے سر کے ساتھ ٹکراتا ہے۔ بس میں موسیقی کا اہتمام بھی ہوتا ہے لیکن یہ غذا کے بجائے روح کی سزا ہوتی ہے۔ موسیقی کا آغاز علی الصبح قوالیوں سے ہوتا ہے۔ اس کے بعدعلی التتریب ملی نغمے اورہندوستانی گانے اور بعد ازاں علی التواتر ناقابل سماعت اور ناقابل بیان پنجابی گانے بجائے جاتے ہیں۔

اس بس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ جہاں بھی برلبِ سٹرک کوئی جاندار جامد حالت میں نظر آئے، ڈرائیور صاحب اسے سوار کروانے کے لیے بس روک لیتے ہیں۔ چاہے اندر تل دھرنے کی جگہ بھی نہ ہو۔ پائیدان پر کھڑے کنڈیکڑ صاحب محبوس مسافر کو اپنے ہاتھ سے اوپر کھینچتے اور پھر پشت سے دھکیل کر بس کے اندر مسافروں کے جم ِغفیر میں شیرو شکر کر دیتے ہیں۔ ہر اڈے پر بس ایک شفاخانے کا روپ اختیار کر جاتی ہے اور مسافر مریضوں کا۔

مسافروں کی جملہ بیماریوں کے علاج کے لیے طرح طرح کے عطائی ڈاکڑ اندر آدھمکتے ہیں۔ کبھی نام نہاد ماہرِ چشم جادوئی سرمہ کی تشہیر کرنے تشریف لے آتے ہیں۔ ایسا سرمہ جوان کے بقول بصارت کی تمام بیماریوں کا شافی علاج ہے۔ مثلاً آنکھوں میں ککرے، آنکھوں سے پانی آنا، آنکھوں میں سرخی، آنکھوں میں جلن، دھندلا پن، سفید موتیا اور کالا موتیا وغیرہ۔ کبھی کوئی ماہر امراضِ معدہ ایسا چورن بیچنے تشریف لاتے ہیں جس میں ضعفِ معدہ ضعفِ جگر اور شکم سے متعلقہ تمام عوارض کا علاج موجود ہوتا ہے۔ اور کبھی کوئی ماہر امراضِ مخصوصہ طلسمی سفوف پیش کرتے ہیں جس میں تمام دائمی پوشیدہ امراض کا علاج موجود ہوتا ہے۔ یہ سب حضرات اپنی چرب زبانی اور دروغ گوئی کے سبب اچھی خاصی کمائی کر کے واپس جاتے اور اگلی بس کا انتظار کرتے ہیں۔

ذرائع آمدورفت میں ترقی کے بعد اے سی بسوں کا ظہور ہو اور وہ متوسط طبقے کی پسندیدہ سواری کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ ان بسوں کے آنے سے آلودہ ماحول اور موسمی تغیرات سے نجات مل گئی بشرط یہ کہ ان کا اے سی درست کام کرتا رہے۔ ان بسوں میں نشستیں نسبتاآرام دہ ہوتی ہیں لیکن انتہائی تنگ۔ مسافروں کے درمیان اتنی قربت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ران میں کھجلی کرنا چاہیں تو آپ کا ہاتھ بغلی مسافر کے پہلو کو گدگداتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا اٹھتا ہے۔ اگر ساتھی مسافر کو اونگھ آ جائے تو اس کا سر مختلف سمتوں میں ڈولتے ہوئے اپنی منزل مقصود یعنی آپ کے شانے پر آٹکتا ہے۔ اب آپ شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں کہ یاتو اس کی نیند میں مخل ہوں ورنہ پھر مجسمے کی طرح ساکن بیٹھیے رہیں اور اپنے کندھے کی سلامتی کی خیر منائیں۔

ان بسوں میں موجود جگہ کو انتہائی کفایت شعاری سے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ڈرائیور کے بغل میں واقع انجن کے کوہان پر بھی فوم بچھا کر دواضافی نشستوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ یا درہے کہ اس جگہ کو مقامی زبان میں۔ ٹاپا کہتے ہیں۔ مزید برآں نشستوں کے درمیان موجود قدم گاہ میں بھی بچہ نشستیں پیوستہ ہوتی ہیں۔ یہ بچہ نشستیں دہری ہو کر بوقت ضرورت بند ہو جاتی ہیں۔ یہ بغلی نشستیں بس مالکان کے لیے اضافی آمدن کا موجب بنتی ہیں۔

سب سے مضحکہ خیز صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بس کی عقبی نشستوں پر بیٹھے کسی مسافر کو راستے میں اترنا پڑے۔ ایسی صورت میں بغلی نشستوں پر بیٹھے مسافروں کو با جماعت کھڑا ہو کے اس مسافر کو راستہ دینا پڑتا ہے اور عجب افرا تفری کا عالم ہو تا ہے۔ یہی صورتحال سرِ راہ کسی مسافر کے سوار ہونے پر پیش آتی ہے۔

ان بسوں میں پانی کی اضافی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔ جو داخلی دروازے کے ساتھ ہی آہنی شکنجے میں کسے آبی برادیے (واٹر کولر) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان بسوں کے ڈرائیور اس تیز رفتاری سے بس کو چلاتے بلکہ اڑاتے ہیں کہ بس پر طیارے کا گمان ہوتا ہے۔ ہر سفر سفرِ آخرت محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی بسوں کے عقب میں وڑائچ طیارہ وغیرہ بھی لکھا ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں بسوں کی جدید قسم کی طرف جو آسودہ حال لوگوں کی اولین پسند ہے۔ یہ ہر گز ضروری نہیں کہ اس سے سفر کرنے کے بعد بھی وہ آسودہ ہی رہیں۔ لاہور اسلام آباد موٹروے بننے کے بعد ایک بد یشی بس کمپنی نے ان بسوں کی طَرح ڈالی اور اب کئی مد مقابل کمپنیاں اس میدان میں ہیں۔ ان بسوں نے کئی ایسی سہولتوں اور آسائشوں سے روشناس کروایا جو قدیم بسوں میں مقفود تھیں۔

اس بس میں ڈرائیور صاحب وردی میں ملبوس بلکہ ملفوف ہوتے ہیں۔ سر پر ٹوپی ہوتی ہے جس سے غالبا ڈرائیور کو یہ باور کروانا مقصود ہوتا ہے کہ ڈرائیوروں کی بادشاہی کا تاج تمہارے سر پر ہے۔ بس میں میزبانی کے فرائض کی ادائیگی کے لیے بری میزبان مامور ہوتی ہے۔ گاڑی میں سوار ہوتے ہی آپ کی تواضع ایک عدد باسی سینڈوچ اور ولایتی مشروب سے کی جاتی ہے۔ ہر نشست کے ساتھ ایک عدد برقی جرس موجود ہوتی ہے۔ جس کو پیاس لگنے پر دبایا جا سکتا ہے۔ اس کو بجانے پر میزبان آپ کو فراہمی ِآب توکر دیتی ہے لیکن ساتھ ہی خشمگیں نگاہوں سے گھورتی ہے۔ اور آپ اس وقت کو کوستے ہیں جب پیاس لگنے پر موصوفہ کے آرام میں مخل ہوئے۔

آغازِ سفر پر میزبان گاڑی کی منزل مقصود پر متوقع آمد کے وقت کا رسمی اعلان مکبرالصوت (لاوڈسپیکر) پر کرتی ہے۔ لیکن عموماً تاخیر ہو ہی جاتی ہے۔ اس بس میں انفرادی موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے۔ جس کے لیے ہمسایہ ملک کے فلمی گانے بجائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک عدد ٹی وی بھی موجود ہوتا ہے۔

چونکہ بس کو دوران سفر رکنے اور اس میں طلسمی سرمہ، پریکٹیکل انگلش گرامر اور ہاضم چورن جیسی کارآمد اشیاء فروخت کرنے کی بنفس نفیس اجازت نہیں، لہذا مصنوعات کی تشہیر کا کام اس ٹی وی سے لیا جاتا ہے۔ طویل اشتہارات کے درمیانی وقفے میں انگریزی فلم دکھائی جاتی ہے۔ ان بسوں کی آرام گاہیں بھی نسبتا آرام دہ اور اے سی سے آراستہ ہیں تاکہ مسافروں کو انگریزی والا سفر (Suffer ) نہ کرنا پڑے۔

اب سننے میں آیا ہے کہ ایک جدید ترین بس بھی ہمارے ملک میں متعارف ہو چکی ہے جس میں بیت الخلاء کی سہولت بھی میسر ہے۔ نشستیں کافی کشادہ ہیں اور ہر مسافر کے لیے ذاتی پردہ سکرین موجود ہے۔ دیکھیے بس کی ترقی کا یہ سفر کہاں اختتام پزیر ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •