ملتان کی نجی محفل میں ریکارڈ کی گئی غیراخلاقی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا: ارشد ملک


 اس ویڈیو سے مجھے صدمہ پہنچا۔ ویڈیو دکھانے کے بعد ناصر جنجوعہ اور ناصر بٹ نے مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور نواز شریف کی مدد کرنے کے لئے مجھے بلیک میل کیا۔ ناصر جنجوعہ نے مجھے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس میں سزا سنائی جا چکی ہے، نواز شریف کی تسلی کے لئے میں ایک آڈیو ریکارڈ کرتا ہوں جس میں آپ یہ کہہ دیں کہ آپ پر ہل میٹل ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے کے لئے با اثر حلقوں کی جانب سے بہت دباؤ تھاحالانکہ الزامات کو ثابت کرنے کے لئے شواہد بھی ناکافی تھے۔

 ناصر جنجوعہ نے یقین دہانی کرائی کہ یہ آڈیو پیغام صرف اور صرف نواز شریف کی تسلی کے لئے ہے اور انہیں سنانے کے بعد اسے ختم کر دوں گا۔ میرے انکار پر انہوں نے پھر اس کا تقاضا کیا۔ اس کے بعد ناصر بٹ مجھے ملے اور کہا کہ آپ کے عدم تعاون کے باوجود ناصر جنجوعہ نے آپ کی آواز ریکارڈ کر لی تھی، نواز شریف نے آڈیو ریکارڈنگ سن لی ہے لیکن وہ اس پر مطمئن نہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جاتی امراء میں ان کے سامنے یہ بیان دیں۔

ناصر بٹ نے مجھے ملتان ویڈیو کی ایک بار پھر دھمکی دی۔ اس پر میں ناصر بٹ کے ساتھ غالباً 6 اپریل 2019ء کو جاتی امراء گیا جہاں نواز شریف نے خود ہمارا استقبال کیا۔ اس ملاقات میں ناصر بٹ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نواز شریف کے سامنے دعویٰ کیا کہ میں (ارشد ملک) نے میرے سامنے تسلیم کیا تھا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس میں عدلیہ اور فوج کے دباؤ پر سزا سنائی۔ تاہم ملاقات کے دوران میں نے نواز شریف کو نرمی سے واضح کرنے کی کوشش کی کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس کا فیصلہ میرٹ پر سنایا کیونکہ اس میں استغاثہ کی جانب سے الزامات کی بابت شواہد موجود تھے اور چونکہ فلیگ شپ ریفرنس میں شواہد ناکافی تھے اس لئے اس میں انہیں بری کیا۔

 نواز شریف میرے جواب پر ناخوش تھے۔ ملاقات ختم ہوئی اور جاتی امراءسے واپسی پر ناصر بٹ واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے غصے سے مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے وعدہ پورا نہیں کیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب آپ اپیل میں ہماری مدد کریں، اپیل کی تیاری کے لئے وکلاءٹیم تشکیل دیدی ہے، آپ اس ڈرافٹ کا جائزہ لیں اور اپنی رائے دیں تاکہ نواز شریف کے سامنے میری پوزیشن بحال ہو سکے۔ میں نے بلیک میلنگ کے تناظر میں ان کا مطالبہ مان لیا۔

جاتی امراء سے واپسی کے چند روز بعد ناصر بٹ اپیل کا ڈرافٹ لے کر میرے پاس آئے جس کا میں نے جائزہ لیا اور ہچکچاہٹ کے ساتھ ان کے مطالبے کے مطابق انہیں کچھ تجاویز دیں۔ 6 جولائی 2019ء کو مریم نواز کی مسلم لیگ ن کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس دیکھ کر مجھے لگا کہ جس ملاقات میں اپیل ڈرافٹ کے حوالے سے تجاویز دیں اس کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئی تھی اور پریس کانفرنس میں ایڈٹ شدہ ویڈیو دکھائی گئی۔ 28 مئی 2019 ءکو میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لئے روانہ ہو گیا۔

یکم جون 2019 ءکو عشاءکی نماز کے بعد ناصر بٹ مجھے مسجد نبوی کے باہر ملے اور مجھے کہا کہ آپ حسین نوازسے ملاقات کے لئے میرے ساتھ چلیں۔ میرے انکار پر ناصر بٹ نے مجھے پھر دھمکی دی کہ میری ایک فون کال پر پاکستان میں آپ کے لئے مشکل اور شرمندگی پیدا ہو سکتی ہے۔ حسین نواز کا لہجہ اور رویہ جارحانہ اور دھمکی آمیز تھا۔ انہوں نے مجھے 500 ملین روپے کی رشوت، برطانیہ، کینیڈا یا کسی بھی ملک میں اہلخانہ سمیت رہائش، بچوں کی نوکریوں اور منافع بخش کاروبار کی پیشکش کی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں آپ کو باضابطہ طور پر اس بنیاد پر مستعفی ہونا ہو گا کہ نواز شریف کو دباؤ میں اور بغیر شواہد سزا دینے کی وجہ سے میں ضمیر کے بوجھ کی وجہ سے مزید کام نہیں کر سکتا۔ حسین نواز نے بلیک میلنگ کے انداز میں کہا کہ استعفیٰ پر دستخط کے بعد وہ میرا ہر طرح کا خیال رکھیں گے اور صرف وہی انہیں تحفظ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مجھے فوری جواب دینے کے لئے دباؤ ڈالا۔ میں نے حسین نواز کی پیشکش ٹھکرا دی اور 8 جون 2019ء کو وطن واپس آ گیا۔

اس کے بعد ناصر بٹ نے مجھے متعدد فون کالز کیں اور زور دیا کہ مدینہ منورہ میں حسین نواز کی پیشکش پر غور کروں اور ساتھ مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ ناصر بٹ نے خرم یوسف کے ذریعے بھی مجھ سے رابطہ کیا لیکن میں نے دونوں کو انکار میں جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے ناصر بٹ کی فون کالز سننا بند کر دیں۔ ظاہر ہے اس کے ردعمل میں جب انہیں یہ محسوس ہوا کہ میں ان کے غیر قانونی مطالبے کو تسلیم نہیں کر سکتا تو 6 جولائی 2019 ءکو پریس کانفرنس کر کے مجھ پر جھوٹے اور شر انگیز الزامات لگا دیے گئے اور مجھ سے جھوٹی باتیں منسوب کی گئیں جن کا تذکرہ میں نے 7 جولائی کو اپنی پریس ریلیز میں بھی کیا جو اس وجہ سے جاری کرنا پڑی کیونکہ اس پریس کانفرنس کو میڈیا پر بار بار دکھایا جا رہا تھا۔

ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ انہوں نے ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے خوف، دباؤ اور لالچ کے بغیر دستیاب شواہد اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر سنائے تا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ انصاف کا پیمانہ اور عدلیہ کا وقار مقدم رہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہترین محافظ اور عظیم معاف کرنے والا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2