جانور راج: پون چکی کی تباہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ہی وہ وقت تھا جب سؤر، رہائشی عمارتوں میں جابسے۔ جانوروں کو ایک بار پھر ایسا لگا کہ شروع میں اس کے خلاف بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی اور ایک بار پھر چیخم چاخ انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب رہا کہ معاملہ یہ نہیں تھا۔ یہ بے حد ضروری تھا کہ سؤروں کو، اس نے کہا، جو کہ باڑے کا دماغ ہیں، کام کرنے کو ایک پر سکون جگہ ملے۔ یہ ’لیڈر‘ کی عظمت کو خاص تھا (کچھ عرصے سے اس نے نپولین کو ’لیڈر‘ کے خطاب سے پکارنا شروع کر دیا تھا) کہ وہ سؤروں کے باڑے کی بجائے مکان میں رہے۔

اس کے باوجود کچھ جانور وں نے جب یہ سنا کہ سؤر نہ صرف یہ کہ باورچی خانے میں کھانا کھاتے ہیں، نشست گاہ کو تفریح گاہ کے طور پہ استعمال کرتے ہیں بلکہ سوتے بھی بستروں میں ہیں تو وہ کچھ متردد ہوئے۔ باکسر نے تو ہمیشہ کی طرح یہ کہہ کے ٹال دیا کہ ’نپولین ہمیشہ درست ہی ہوتا ہے!‘ ، مگر کلوور جس کو لگاکہ اسے یاد ہے کہ بستروں کے خلاف تو ایک قرارداد لازمی منظور ہوئی تھی۔ وہ گودام کے آخری حصے تک گئی اور ساتوں نکات جو وہاں کندہ تھے، پڑھنے کی کوشش کی۔ خود کو فقط الگ الگ حروف پڑھنے کے قابل پا کر وہ میوریل کو بلا لائی۔

”میوریل“، اس نے کہا، ”مجھے ذرا چوتھا نکتہ تو پڑھ کر سناؤ، کیا اس میں کبھی بھی بستر میں نہ سونے کے بارے میں کچھ لکھا ہے؟ “
تھوڑی دقت سے، ہجے کر کے میوریل نے پڑھا۔
”اس میں لکھا ہے، ’کوئی بھی جانور بستر میں چادر بچھا کے نہیں سوئے گا‘۔“ اس نے آخر کار پڑھ ہی ڈالا۔

مقامِ حیرت کہ کلوور کو یاد نہ تھا کہ چوتھے نکتے میں چادروں کا ذکر تھا؛ مگر چونکہ یہ دیوار پہ لکھا ہوا تھا، تو یہ ایسا ہی ہو گا۔ اور چیخم چاخ نے جو کہ اس لمحے دو یا تین کتوں کے ہمراہ وہاں سے گزر رہا تھا سارے معاملے کو درست زاویے سے واضح کیا۔

”تو پھر آپ سن ہی چکے ہیں کامریڈز، “ اس نے کہا ”کہ ہم سؤر رہائشی عمارت کے چھپر کھٹوں میں سوتے ہیں؟ اور کیوں نہ سوئیں؟ یہ تو فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ چھپر کھٹوں کے خلاف کوئی قرار داد کبھی تھی بھی؟ بستر تو فقط سونے کا ایک ٹھکانہ ہے۔ اگر دیکھیں توتھان پہ پیال کا ڈھیر بھی بستر ہی ہے۔ قانون، چادروں کے خلاف تھا، جو کہ انسانی اختراع ہے۔ ہم نے فارم ہاؤس کے چھپر کھٹوں سے چادریں ہٹا دی ہیں اورکمبلوں میں سوتے ہیں۔ اور وہ بھی کیا آرام دہ بستر ہیں! میں آپ کو بتا سکتا ہوں کامریڈز اس تمام ذہنی بیگار کے مقابلے میں جو ہم آج کل کر رہے ہیں یہ اتنے آرام دہ نہیں جتنے ہمیں درکار ہیں۔ آپ ہم سے ہمارا سکون تو نہیں چھینیں گے؟ کیا چھینیں گے کامریڈز؟ ، آپ ہمیں اتنا تو نہ تھکنے دیں گے کہ ہم اپنے فرائض ہی ادا نہ کر پائیں؟ یقیناً آپ میں سے کوئی بھی جانی صاحب کی واپسی نہیں چاہتا؟ “

اس موقعے پہ جانوروں نے اسے فٹا فٹ یقین دہانی کرائی، اور سؤروں کے فارم ہاؤس کے بستروں پہ سونے پہ مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔ اور جب کچھ روز بعد، یہ اعلان ہوا کہ اب سے سؤر باقی جانوروں کی نسبت ایک گھنٹہ دیر سے جاگا کریں گے، تواس پہ بھی کوئی شکایت نہ اٹھی۔

خزاں تک، جانور تھک چکے تھے مگر خوش تھے۔ انہوں نے ایک سخت سال گزارا تھا، اوربھوسے کا کچھ حصہ اور مکئی کی فروخت کے بعد خوراک کے ذخائر بھی کچھ زیادہ نہ تھے، لیکن پون چکی ہر شے کا ازالہ کرتی تھی۔ اب تک وہ قریباً آدھی تعمیر ہو چکی تھی۔ کٹائی کے بعد کچھ عرصہ کھلا موسم رہا اور جانوروں نے پورا پورا دن پتھروں کو ادھر سے ادھر ڈھونے میں ہمیشہ سے زیادہ مشقت کی کہ اس طرح وہ دیوار کو ایک فٹ ہی مزید اونچا کر لیں۔ باکسر اکثر راتوں کو بھی باہر نکل آتا اور خود ہی، کٹائی کے چاند کی روشنی میں ایک سے دو گھنٹے کام کرتا۔ اپنے فراغت کے لمحات میں وہ ادھوری پون چکی کا طواف کرتے اس کی دیواروں کی قامت اور مضبوطی پہ سر دھنتے اور یہ سوچ کے جھومتے کہ وہ اس قدر پر شکوہ چیز تعمیر کرنے پہ قادر ہیں۔ صرف بوڑھے بنجامن نے پون چکی پہ جذباتیت کا مظاہرہ نہ کیا البتہ ہمیشہ کی طرح وہ قنوطیت سے دہراتا رہا کہ گدھے بہت طویل عمر پاتے ہیں۔

جاڑا، تند پچھمی ہواؤں کے ساتھ آیا۔ تعمیر روکنی پڑی کیونکہ اب سیمنٹ بنانے کے حساب سے ہوا بہت نم تھی۔ آخر ایک رات ایسی آئی کہ سرد جھکڑوں نے باڑے کی عمارتوں کی نبیادیں تک ہلا دیں، گودام کی چھت سے کچھ اینٹیں اکھڑ کے جا پڑیں۔ مرغیاں دہشت سے کڑکڑاتی ہوئی اٹھیں کیونکہ ان سب نے ایک ہی خواب دیکھا تھا جس میں دور کہیں گولی چلی تھی۔ صبح جانور اپنے تھانوں سے باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ جھنڈا اڑ اڑا گیا تھا، پھلوں کے باغ کے آخر میں لگا ٹاہلی کا ایک درخت گاجر کی طرح اکھڑا پڑا تھا۔ انہوں نے اسی لمحے وہ دیکھا اور تب جانوروں کے حلق سے دکھ کی کراہ اکٹھی نکلی۔ ایک بھیانک منظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ پون چکی کھنڈر بن چکی تھی۔

وہ ایک ساتھ جائے حادثہ کی طرف دوڑے۔ نپولین جو شاذ ہی دوڑتا تھا، ان سب سے آگے تھا۔ ہاں وہ وہیں پڑا تھا، ان کی محنتوں کا ثمر، اپنی بنیادوں تک برباد شد، وہ پتھر جو انہوں نے انتہائی محنت سے توڑے اور ڈھوئے تھے سب طرف بکھرے ہوئے تھے۔ گنگ کھڑے وہ تائسف سے گرے ہوئے پتھروں کے ملبے کو دیکھا کیے ۔ نپولین خاموشی سے آگے پیچھے قدم رکھتا، گاہے زمین کو سونگھتا پھرا۔ اس کی دم اکڑ گئی تھی اور ادھر سے ادھر ہل رہی تھی۔ اس کی شدید ذہنی مشقت کی علامت۔ اچانک وہ رکا جیسے اسے کچھ سوجھ گیا ہو۔

” کامریڈز!“ اس نے آہستگی سے کہا، ”کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا آپ اس دشمن کو جانتے ہیں جو رات کو آیا اور ہماری پون چکی اکھیڑ گیا؟ سنو بال!“ وہ اچانک، طوفان کی طرح گرجا۔ ”یہ حرکت سنو بال نے کی ہے! نری کینہ پروری میں ہمارے منصوبے کو برباد کرنے اور اپنی بدنامی اورجلاوطنی کا انتقام لینے کے لئے وہ رات کی تاریکی میں آیا اور ہماری قریباً ایک سال کی محنت کو برباد کر گیا۔ کامریڈز! اسی وقت اور ان ہی قدموں پہ میں اس کے لئے سزائے موت کا اعلان کرتا ہوں، جو اسے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا اس کے لئے میں ’ نشان الوحوش درجہ دوئم ‘ اور نصف من سیبوں کے انعام کا اعلان کرتا ہوں اور جو کوئی اسے زندہ پکڑ کر لائے گا اسے من بھر سیب عطا کیے جائیں گے!“

سنو بال بھی ایک ایسا جرم کر سکتا ہے یہ سن کر جانور ایک لامتناہی تحیر سے دوچار تھے۔ غم وغصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہر جانور سوچنے لگا کہ اگر دوبارہ کبھی سنو بال آیا تو اسے کیسے پکڑا جائے۔ بس اچانک ہی ٹیکری کے پاس گھاس پہ ایک سؤر کے کھروں کے نشان مل گئے، وہ فقط چندگزوں تک ہی جارہے تھے اور پھر باڑ کے ایک مورے میں گم ہو جاتے تھے۔ نپولین نے انہیں خوب سونگھا اور اعلان کیا کہ یہ سنو بال ہی کے ہیں۔ اس نے اپنی رائے دی کہ ممکن ہے سنو بال ’بوہڑ والا‘ کی طرف سے آیا ہو۔

”مزید تعطل نہیں کامریڈز! “ نپولین کھروں کو دیکھ لینے کے بعد چلایا۔ ”کام ہونے والا ہے، اسی صبح ہم پون چکی کو دوبارہ تعمیر کریں گے، اور ہم تمام جاڑوں میں تعمیر کریں گے، بارش اور دھوپ میں تعمیر کریں گے۔ ہم اس بدنصیب غدار کو بتا دیں گے کہ وہ ہماری محنت کو اتنی آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔ یاد رکھیں کامریڈز! ہمارے منصوبوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہو گی: وہ اپنے وقت پہ مکمل ہوں گے۔ قدم بڑھائیے کامریڈز! پون چکی زندہ باد! جانور راج پائندہ باد! “

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: انسانوں سے تجارت کی شروعاتجانور راج: معاشی بحران اور مرغیوں کے انڈے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •