دو خودکش حملوں میں بچ جانے والا شخص


\"abdul-hai-kakar\"

ملک امین اللہ کاکڑ صبح اٹھے، نماز پڑھی اور اخبار پڑھتے پڑھتے ان کی نظریں ایک تصویر پر آکر اٹک گئیں۔
یہ تصویر تھی محب اللہ داوی کی جس کے ساتھ لکھا گیا تھا
”محب اللہ داوی کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے“
ملک امین اللہ سوچنے لگے، اس حملے میں مارا جاتا تو آج میری بھی تیسری برسی ہوتی۔
اب ان کو اپنے پڑوسی اور دوست کی وہ بات یاد آئی جب اس نے فون کرکے ملک امین سے درخواست کی کہ چونکہ آپ عید کے لئے گاؤں جارہے ہیں اور میری بہن کی شادی ہے لہذا اپنا مکان ایک آدھ دن کے لئے مجھے دے دیا جائے۔ ملک امین نے کہا سر آنکھوں پر، ایک دن کے لئے کیا، پورے ہفتے کے لئے رکھ لیں۔
تھوڑی دیر بعد باہر محلے میں فائرنگ ہوئی اور پتہ چلا کہ کوئٹہ سٹی کے ایس ایچ او محب اللہ داوی کو مسلح افراد نے قتل کردیا۔
ملک امین اللہ جنازے میں شرکت کے لئے پولیس لائن پہنچے اور ابھی نماز جنازہ ہونے کو تھی کہ زوردار دھماکہ ہوا جس میں ڈی آئی جی سمیت تیس افراد ہلاک ہوئے۔ ملک امین کو خراش تک نہیں آئی۔
یہ واقعہ آٹھ اگست 2013 کو پیش آیا۔
جس دن ملک امین اللہ ان یادوں کو کھرچ رہے تھے وہ بھی آٹھ اگست کا دن تھا۔
وہ گھر سے عدالت کی طرف نکلے۔
ایک مقدمے میں پیش ہوئے کہ سماعت کے دوران خبر آئی کہ کوئٹہ بار کونسل کے صدر بلال کاسی پر فائرنگ ہوئی ہے اور انہیں سول ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
وہ بھی دیگر وکلا کی طرح ہسپتال پہنچ گئے۔

\"amin-ullah-1\"
فعال وکیل رہنما باز محمد کاکڑ اور سنئر وکیل قاہر شاہ ایڈوکیٹ کے ساتھ اس بات پر صلاح مشورہ ہورہا تھا کہ بلال کاسی کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے ؟
ملک امین اللہ نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لئے سندھ، پنجاب ، خیبر پختونخوا اور پاکستان بار کونسل کے ساتھ رابطہ کیا جانا چاہیے۔
ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ باز محمد کاکڑ نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی اور وکلا کی بڑی تعداد میں موجودگی کو دیکھ کر کہا ” خدا نہ کرے کہ کوئی ٹاگٹ کلنگ ہو۔“
انہوں نے امین اللہ کاکڑ کو ذمہ داری سونپ دی کہ وہ جہاز کا شیڈول معلوم کرلیں تاکہ ملک کے دیگر وکلا سے رابطے کے لئے اپنے چند نمائندے بھیج دیں۔
ابھی بات ہو ہی رہی تھی کہ زوردار دھماکہ ہوا۔
ملک امین اللہ نے کچھ دیر بعد خود کو اس جگہ سے جہاں پر وہ کچھ دیر پہلے کھڑے تھے، سے چند فٹ کے فاصلے پر خون میں لت پت پایا۔
انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ جسم پر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ کندھوں پر گوشت کے لوتھڑے پڑے ہیں۔
وہ گھبرائے لیکن اس دوران ان کی مدد کے لئے ایک ڈاکٹر پہنچ چکے تھے اور انہوں نے تسلی دی کہ آپ کے بدن پر گوشت کے ٹکڑے آپ کے ساتھیوں کے ہیں۔
ان کو تیسری منزل پر واقع آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔ وہاں پر بھی ملک امین نے خون کے دھبے اور بدن کے ٹکڑے دیکھے اور پوچھنے لگے کیا یہاں پر بھی دھماکہ ہوا \"amin-ullah-2\"ہے ؟
جواب ملا ، نہیں بلکہ اسی دھماکے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کا خون اور بدن کے ٹکڑے ہیں۔
ملک امین اللہ ایڈوکیٹ کا بائیں بازو ٹوٹ چکا ہے اور ایک کان کا پردہ پھٹ چکا ہے۔
وہ آٹھ اگست 2013 کے خودکش حملے میں محفوظ رہے اور آٹھ اگست 2016 کے خودکش حملے میں بھی زندہ رہے۔
اگلے سال یعنی آٹھ اگست 2017 کی صبح جاگنا ہے، نماز پڑھنی ہے اور اخبار پڑھنا ہے جس میں انہوں نے 74 تصویریں دیکھنی ہیں،
”سول ہسپتال میں ہونے والوں کی آج پہلی برسی منائی جارہی ہے۔“
پاکستان میں سالگرہوں سے زیادہ برسیاں منائی جارہی ہیں۔
پشتو شاعر رحمت شاہ سائل کے ایک شعر کا مصرعہ ہے ”یہ تاریخ کا جبر ہے اور جبر ہمارا لاڈلا ہے“۔

( یہ تحریر پہلے مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تھی)

Facebook Comments HS

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 42 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar