ٹیکس نظام کو سمجھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی حکومت کے پاس ملکی اخراجات پورے کرنے کے تین بنیادی طریقے ہوتے ہیں۔ آمدن (ٹیکس اور نان۔ ٹیکس) ، قرض اور نوٹ چھاپنا۔

ٹیکس اکٹھا کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک بلاواسطہ (ڈائریکٹ) اور دوسرا بالواسطہ (انڈائریکٹ) ۔ وہ ٹیکس جو ایک تنخواہ دار کو تنخواہ دیتے ہوئے منہا کر لیا جاتا ہے، بلاواسطہ ٹیکسز کی مثال ہے۔ جبکہ اشیا کی خرید و فروخت پر عاٰئد کیا جانے والا سیلز ٹیکس بالواسطہ ٹیکسز کی مثال ہے۔

بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکسز میں بنیادی فرق انہیں اکٹھا کرنے کے نظام کا ہے۔ بلاواسطہ ٹیکسز میں ظاہری اور اصلی ٹیکس گزار ایک ہی شخص (یا ادارہ) ہوتا ہے اور ٹیکس براہِ راست حکومت کو ادا کیا جاتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسز میں حکومت اور اصلی ٹیکس گزار کا براہِ راست تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ بظاہر ٹیکس گزار کوئی اور ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ خود یہ ٹیکس ادا نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض حکومت کے لئے دوسروں سے وصول کر رہا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ٹیکس چاہے بلاواسطہ اکٹھا کیا جائے یا بالواسطہ، بنیادی اور اصلی ٹیکس گزار ایک ہی ہے، اور وہ ہے ملک کا شہری۔ ٹیکس نظام کو سمجھنے کے لئے یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔

نان۔ ٹیکس آمدن کا بڑا حصہ حکومتی اداروں کی براہِ راست کمائی سے آتا ہے۔ پاکستان میں ان اداروں کی مثالیں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان ریلویز اور پاکستان سٹیل ملز ہیں۔ کئی بڑے حکومتی اداروں کے گزشتہ کئی سال سے مسلسل خسارے میں ہونے کی وجہ سے حکومتِ پاکستان کی کل آمدن میں نان۔ ٹیکس آمدن کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ نان۔ ٹیکس آمدن کا دوسرا بڑا ذریعہ حکومتی اثاثہ جات کی فروخت ہے۔ لیکن ملکی اخراجات پورے کرنے کے لئے یہ کوئی طویل المدتی حل نہیں ہے کیونکہ کسی ایک ادارے کی فروخت سے یہ آمدن صرف ایک ہی مرتبہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

ملکی اور غیر ملکی بینکوں، عالمی اداروں یا دوسرے ملکوں سے قرض لے کر وقتی طور پر تو معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی کوئی طویل المدتی حل نہیں ہے۔ کیونکہ جو بھی قرض لیا جاتا ہے، آخر کار نہ صرف اسے ادا کرنا پڑتا ہے، بلکہ اس کے اوپر اچھا خاصا سود بھی دینا پڑتا ہے۔ قرض اور سود کے اس گرداب سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ ان واجبات کی ادائیگی کی رفتار مزید قرضہ لینے کی رفتار سے زیادہ ہو اور اس کے لئے ٹیکس اور نان۔ ٹیکس آمدن کے علاوہ اور کوئی حتمی راستہ نہیں۔

اسی طرح مزید نوٹ چھاپنا بھی معاشی مسائل کا مستقل حل نہیں۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت صرف اپنی کرنسی چھاپ سکتی ہے اور اسے صرف اندرونِ ملک ادائیگیوں کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ مزید نوٹ چھاپ کر بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔ دوسرا یہ کہ مزید نوٹ چھاپنے سے معیشت کی بنیادی پیداواری صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ جب قابلِ فروخت اشیا اتنی ہی رہیں لیکن خریداروں کے پاس موجود کرنسی کی ظاہری مالیت بڑھ جائے تو اس کا نتیجہ مہنگائی، افراطِ زر اور قوتِ خرید کی کمی کی شکل میں نکلتا ہے۔

کوئی معیشت واقعی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے یا صرف مصنوعی طور پر مضبوط دکھائی جا رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی حکومتی آمدنی کا انحصار کس حد تک ٹیکسز اور وہ بھی بلاواسطہ ٹیکسز پر ہے۔ بلاواسطہ ٹیکسز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ٹیکس گزاروں کی ٹیکس ادا کرنے کی استعداد سے براہِ راست منسلک ہوتے ہیں۔ جس کی آمدن جتنی زیادہ ہے، وہ اتنا زیادہ ٹیکس دے، اور جس کی آمدن ایک حد سے کم ہے، اس سے کوئی ٹیکس نہ لیا جائے۔

اس کے مقابلے میں بالواسطہ ٹیکس ہر شہری سے ایک ہی شرح سے لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر موٹر سائیکل 30 ہزار ماہانہ تنخواہ والے کی ہو یا 60 ہزار ماہانہ تنخواہ والے کی، اس کی پٹرول کی فی کلومیٹر کھپت تقریباً برابر ہو گی۔ جب موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے پر ایک ہی شرح سے سیلز ٹیکس لیا جائے گا تو 30 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے پر اس کا بوجھ 60 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گا۔ اس طرح بالواسطہ ٹیکسز کا نظام سماجی انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

کوئی پسند کرے یا نہ کرے، حکومت کو ملکی اخراجات پورے کرنے ہی ہوتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ان اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ بلاواسطہ ٹیکسز کی شکل میں ان لوگوں سے وصول کیا جائے جو واقعی ٹیکس دینے کی استعداد رکھتے ہیں۔ ٹیکس بلاواسطہ ہو یا بالواسطہ، آخرکار دینا ہم شہریوں نے ہی ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم نے سماجی انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اپنے وسائل کے مطابق بلاواسطہ ٹیکس دینا ہے یا حکومت کو مجبور کرنا ہے کہ وہ بالواسطہ ٹیکسز اور قرض جیسے دیگر ذرائع کو بروئے کار لائے تا کہ ہم اپنے سے کم آمدنی والے طبقات کے سر پر عیاشی کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •