بات بڑھتی چلی جا رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اصل جرم یہ نہیں کہ جج ارشد ملک نے کیا کیا؟ اصل جرم یہ ہے کہ ن لیگ اور شریف خاندان نے ایک انڈر ٹرائل آدمی کو سزا سے بچانے کے لئے جج کو خریدنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جو مقدمے کی سماعت کر رہا تھا، بد قسمتی یہ بھی ہے کہ میرے سمیت زیادہ تر لکھاریوں کے قلم کا ٹارگٹ جج صاحب ہی ہیں، شایدآج کے کالم میں بھی آپ کو یہی جھلک نظرآئے۔ لیکن حقائق کو دونوں جانب سے چانچنا مجھ  ناچیز کی ذمہ داری بھی ہے میں سمجھتا ہوں۔

کالعدم شہزادی مریم نواز کی جانب سے لیک کی گئی ویڈیو پر بات بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے، جج ارشد ملک کے بیان حلفی نے بھی انہیں ”مظلوم“ ثابت نہیں کیا، ابتک کی پیش رفت کے مطابق جج صاحب برابر کے ملزم دکھائی دے رہے ہیں، نواز شریف نے از خود انہیں کیا کیا پیش کش کی؟ ناصر بٹ نے کیا کیا آفرز لگائیں، حسین نواز نے کیا کیا سپنے دکھائے؟ یہ ساری باتیں اب بے معنی ہیں، اب وہ جو بھی اعترافات کر رہے ہیں وہ سب انہی کے خلاف شہادتیں بن رہی ہیں، جج ارشد ملک کے پاس کوئی آئینی اور قانونی گنجائش ہی نہیں تھی ورنہ وہ نواز شریف کو کبھی سزا نہ سناتے، آدھے کالعدم جج ارشد ملک کے بارے میں بڑے بڑے انکشافات سامنے آئیں گے، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ انہوں نے شریف خاندان سے بے شمار مالی فوائد حاصل نہکیے ہوں، کیونکہ نواز خاندان اس شخص سے مذاکرات کرتا ہی نہیں ہے جو ان کا ”کانا“ نہ ہو، جو ان سے پیسے نہ پکڑے وہ ان کا“ دشمن“ ہوتا ہے، جج صاحب تو ان کے ”گہرے دوست“ بن چکے تھے، ٹرائل کے دوران شریف خاندان کے افراد سے مسلسل رابطے اور مسلسل ملاقاتیں اور جج صاحب کی خاموشی بہت ساری کہانیاں سامنے آنے والی ہیں، ان کی منہ مانگی قیمتیں لگائی جا رہی تھیں اور وہ قیمت لگانے والوں سے پیچھا بھی نہیں چھڑا رہے تھے، ان کی پہنچ سے دور بھی نہیں ہو رہے تھے۔

ارشد ملک نے نواز شریف سے براہ راست آخری ملاقات ساڑھے تین ماہ پہلے جاتی عمرہ میں کی اور ویڈیو بھی اپنی مرضی سے ریکارڈ کرائی، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ان کی 16 سال پرانی غیر اخلاقی ویڈیوز دکھا کر بلیک میل کیا گیا، یہ ویڈیوز اس زمانے کی تھیں جب وہ ملتان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھے، ارشد ملک کی بہت سی بیہودہ ویڈیوز پاکستان کے عوام پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، بعض ویڈیوز میں انہیں رقص و سرود کی محفلوں میں دیکھا گیا، انہیں لوگوں نے پیتے ہوئے بھی دیکھا اور مخصوص خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب ہوتے ہوئے بھی، اس کے باوجود وہ نہ صرف جج کے عہدے پر فائز رہے بلکہ ان کی خدمات لاہور سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے لئے حاصل کی گئیں، پاکستان کی تاریخ کے نازک ترین مقدمات ان کی جھولی میں دیدیے گئے، سب کچھ انجانے میں نہیں ہو رہا ہوگا، خدشہ ہے سارے مراحل طے شدہ تھے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ 16 سال پرانی مبینہ ویڈیو میں کیا ہو سکتا ہے کہ جج صاحب کے بقول وہ کروڑوں روپوں کی کھلی رشوتیں بھی وصول نہیں کرتے اور ”بلیک میل“ بھی ہوتے رہتے ہیں؟

ہم آج اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ اس کیس کواعلیٰ عدالتی سطح پر ٹیک اپ کیا جا چکا ہے، جہاں امکانی طور پرکارروائی بھی جلد از جلد شروع ہونے والی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اسی حوالے سے ایک درخواست بھی سولہ جولائی کو سماعت کے لئے منظور کرلی ہے، بعض قانونی اور آئینی ماہرین یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی بریت کی جو درخواست زیر سماعت ہے، مریم نواز کی جانب سے لیک کردہ جج ارشد ملک کی ویڈیو بھی اس اپیل کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔

ہمارے کچھ ”دانشور“ دوستوں کا دعویٰ ہے کہ جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کے اقدام کے بعد نواز شریف کے خلاف دیا گیا ان کا فیصلہ بھی کالعدم ہو چکا ہے، یہ ذہین دوست تصویر کا دوسرا رخ کیوں نہیں دکھاتے کہ اگر واقعی ایسا ہو چکا ہے تو پھر فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کا فیصلہ بھی تو کالعدم ہو گیا ہوگا اور کیا جج ارشد ملک صرف نواز شریف کے مقدمے ہی سن رہے تھے؟ دوست ہمیں بتائیں کہ دیگر فیصلہ شدہ اور زیر سماعت مقدمات کی قانونی پوزیشن کیا ہوگی؟

پانامہ لیکس کے مقدمات کی سماعتوں کے دوران کالعدم شہزادی مریم نواز کو دستاویزات میں ٹیمپرنگ کی چمپئن قرار دیا گیا تھا، اور اب انہوں نے عدالتوں کو ”ٹیمپرڈ“ کرنے کی اپنی مہارت کا ثبوت بھی دے دیا ہے، بچپن میں ہم نے ذہین و فطین شاہزادیوں کی درجنوں کہانیاں پڑھیں، لیکن موجودہ عہد کی اس کالعدم شہزادی نے اپنی ”ذہانت“ سے سب کو مات دیدی ہے، کالعدم شہزادی نے ویڈیو لیک کرنے کے بعد منڈی بہاؤالدین میں ایک مبینہ بڑا جلسہ کیا، نواز شریف کو رہا کرو کے نعرے خود لگائے اور اس کے بعد سکرین سے غائب ہو گئیں، لوگ شہزادی کی گمشدگی اور خاموشی پر پریشان ہیں اور سوچ میں پڑے ہیں کہ کہیں انہوں نے گرفتاری کے خوف سے پردہ تو نہیں کر لیا۔

زمانہ بہت خراب ہو چکا ہے، زیادہ عمر کے بزرگ دوستوں کو مشورہ ہے کہ اگر انہیں اچانک نامعلوم لڑکیوں کی موبائل کالیں آنا شروع ہو جائیں تو وہ خوش ہونے کی بجائے محتاط ہو جائیں، بڑے شہروں میں آجکل ہو یہ رہا ہے کہ نامعلوم لڑکیاں ادھیڑ عمر عاشق مزاجوں کو دوست بناتی ہیں، انہیں ملاقاتوں کا وقت دیتی ہیں اور پھر جب بابے ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں تو ان سے پہلی فرمائش کی جا تی ہے، پوش علاقوں میں قائم کلب نما ریستورانوں میں ڈنر کرانے کی، میں پچھلے ہفتے اپنے ٹورنٹو سے آئے ہوئے ایک دوست کے ساتھ پوش علاقے کے ایک ریسٹورنٹ میں سوپ پینے چلا گیا، وہاں ایک ٹیبل پر ایک دیرینہ دوست جو عمر میں مجھ سے آٹھ دس سال بڑا ہے، بیس بائیس سال کی ایک حسینہ کے ساتھ بیٹھا ہوا نظرآیا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ تو لیا لیکن علیک سلیک نہ کی، میں نے اپنے مہمان دوست کے ساتھ دوسری ٹیبل پر بیٹھ کر سوپ آرڈر کردیا، اور ہم دونوں نے نئی پاکستانی فلموں پر گفتگو شروع کردی، اس سے پہلے کہ سوپ ہماری ٹیبل پرآتا، نوجوان حسینہ کے ساتھ اس ریستوران میں آیا ہوا بزرگ دوست میرے پاس پہنچ گیا، اس نے آنکھ کے اشارے سے مجھے اٹھایا اور ریستوران کی ایک نکڑ پر لے جا کر مجھ سے دو ہزار روپوں کا تقاضہ کیا، میں نے پیسے دیتے ہوئے از راہ تفنن سوال کیا، خیر تو ہے؟

اس بزرگ دوست کا جواب آپ بھی سن لیں۔ “ اس لڑکی کے کئی دنوں سے فون آ رہے تھے، آج اس نے یہاں کا وقت دے دیا، وہ مجھ سے پہلے بیٹھی ہوئی تھی، میرے آنے پر اس نے سب سے پہلے مینیو اٹھایا اور پوچھنے لگی“ کیا لیں گے؟ میں نے صرف پانی کی چھوٹی بوتل کا آرڈر دیا، باقی ڈشیں اس نے اپنے لئے منگوائیں، میں نے بل منگوایا تو ساڑھے چھ ہزار کا ہے، میری جیب میں صرف پانچ ہزار ہیں، لڑکی سے پندرہ سو ادھار مانگے تو کہتی ہے کہ میرے پاس تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہے اوبر کے پانچ سو بھی آپ نے مجھے دینا ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •