تبدیلی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر اس مضمون کے عنوان سے آپ یہ سمجھے ہیں کہ یہ مضمون ملکِ عزیز میں آئی یا لائی گئی سیاسی تبدیلی کا قصیدہ یا نوحہ ہے تو آپ غلط سمجھے ہیں۔ اس موضوع پر قدآور لکھاریوں کی بڑی تعداد روزانہ لکھتی ہے اور اپنے اپنے حصّے کی داد و گالیاں وصول کرتی ہے۔ راقم کا موضوع وہ قضیہ ہے جو ہر سال عیدین پر سر اٹھاتا ہے اور پھر دس ماہ کے لئے سو جاتا ہے۔

ایک اخباری خبر کے مطابق اس عید الفطر پر مہنگائی کے باعث بازاروں میں رونق پچھلے برسوں کے مقابلے میں کم رہی۔ راقم کے پاس اس خبر کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں۔ لیکن اگر عید کی گہما گہمی میں کوئی کمی آئی بھی تھی تو چاند کے معاملے پر ہونے والے تماشے نے اس کمی کو پورا کر دیا۔ مفتی منیب الرحمٰن و مفتی پوپلزئی تو ہر برس ہلالِ رمضان و عید پر پنجہ آزمائی کرتے ہیں لیکن اس برس اس دنگل میں ہمارے وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین بھی کود پڑے اور سائنسی بنیادوں پر رویتِ ہلال کا مسئلہ نہ صرف حل کرنے کا وعدہ کیا بلکہ اسے حل کرنے کا دعوٰی بھی کر دیا۔

خاکسار کی رائے میں تو جب سے چوہدری صاحب سیاسی افق پر وارد ہوئے ہیں، یہ پہلی ڈھنگ کی حرکت ہے جو ان سے سرزد ہوئی ہے۔ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ جہاں چوہدری صاحب کی طرزِ سیاست کے راقم جیسے ناقدین نے بھی اس مسئلے پر چوہدری صاحب کی حمایت کی وہاں مرکز میں ان کی حکومت نے عملی طور پر ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی اور خیبر پختونخواہ میں تو ان کی جماعت کی حکومت نے ان کو باقاعدہ ٹھینگا دکھا دیا۔ عصرِ حاضر کے دیگر سیاستدانوں کی طرح اصول پسندی چونکہ چوہدری صاحب کو چھو کر بھی نہیں گزری لہٰذا اس ہزیمت کے بعد بھی وہ وزات کے عہدے پر براجمان ہیں اور اپنے گٓذشتہ کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی ساتھیوں سے سینگ لڑائے رکھتے ہیں۔ اگر کبھی موقع مل جائے تو منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کسی صحافی کو ایک آدھ تھپّڑ بھی جڑ دیتے ہیں۔

جہاں تک ہمارے قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام کا تعلق ہے تو گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی ان کے رویّوں پر شدید تنقید ہوئی لیکن چونکہ دورِ جدید کے عالمانِ دین کا اپنی رائے سے رجوع کرنا اس کائنات کے ناممکنات میں سے ہے لہٰذا گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی کوئی معجزہ رونما نہیں ہوا اور تمام تر نکتہ چینی سے ہمارے قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام کے کانوں پر نہ کوئی جوں رینگی نہ ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ عوام النّاس بھی حسبِ معمول بُڑبڑا کر خاموش ہو گئی اور قابل صد احترام مفتیانِ کرام کے درمیان اگلا میچ شروع ہونے تک خاموش رہیں گے۔

تاہم خاکسار کا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے مدلّل طریقے سے چاند کی رویت کے معاملے کو سائنسی بنیادوں پر حل کرنے کی حمایت کی، وہ عید منانے کے لئے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کیوں کرتے رہے؟ راقم کی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چاند کی رویت کے بارے میں حکم کی اصل روح یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کر لی جائے کہ نیا قمری مہینہ شروع ہو چکا ہے، وہ اپنے آپ کو ہمارے قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام کے اعلانات کا محتاج کیوں سمجھتے ہیں؟ اگر کوئی رمضان یا عید کے چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے، اسے روزہ رکھنے یا عید منانے کے لئے کسی سرکاری اعلان کی ضرورت رہ جاتی ہے؟

چاند کو دیکھنے کے لئے تیز نظر کے ساتھ ساتھ مطلع کا صاف ہونا بھی ضروری ہے۔ جن لوگوں نے راقم جیسی نظر پائی ہے انہیں تو جب تک نیا چاند خود آ کر نہ بتا دے کہ صاحب میں نکل آیا ہوں تب تک تو وہ نئے چاند کے وجود سے بے خبر ہی رہیں گے چاہے آسمان پر کسی بادل کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ ہو۔ چنانچہ راقم کے لئے تو سائنس کی گواہی بصری گواہی سے کئی درجے زیادہ قابلِ اعتبار ہے۔ اس باب میں سائنس کی افادیت کا قائل ہونے کے باوجود اگر راقم رمضان و شوّال کے آغاز کے لئے قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام کے اعلانات کا انتظار کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس کے حق میں خاکسار جو پرجوش دلائل دیتا ہے ان کا خود بھی دل سے قائل نہیں۔

قابلِ صد احترام مفتیانِ کرام کہ رویّوں میں تبدیلی کا انتظار کرتے دہائیاں بیت گئیں۔ مزید انتظار کرنے سے بہتر نہیں کہ ہم خود ہی تبدیل ہو جایئں؟ کسی اجنبی مقام پر قبلہ کے رُخ کا تعین کرنے کے لئے آپ اپنے سمارٹ فون پر اعتبار کریں گے جو قطب شمالی کا تعیّن کرنے کے بعد آپ کو قبلہ کا ٹھیک ٹھیک رخ بتاتا ہے یا آپ اپنے ہمسفر مولوی صاحب کو ٹہوکا دے کر پوچھیں گے کہ ’حضرت! کس طرف منہ کریں‘ ؟ (اگر آپ اپنے ہمسفر مولوی صاحب کو ٹہوکہ دیں گے تو اوّل تو یہ مضمون پڑھنا آپ کے قیمتی وقت کا سراسر ضیاع ہے اور دوم غالب امکان یہی ہے کہ آب کے سوال کے جواب میں مولوی صاحب ستاروں کو دیکھ کر قبلہ کی سمت تعین کرنے کی بجائے اپنے یا آپ کے سمارٹ فون سے ہی رجوع کریں گے ) ۔

اگر آپ راقم کی سوچ پر یہ سوچ کر ہنسیں کہ ایسی صورتِ حال میں جہاں اپنے بچّوں کے نکاح اور اپنے پیاروں کے جنازے خود پڑھانا تو درکنار، نومولود کے کان میں اذان دینے کے لئے بھی محلّے کے امام مسجد کو زحمت دی جاتی ہو، وہاں یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ لوگ رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کیے بغیر قمری کیلنڈر دیکھ کر روزے رکھنا شروع اور ختم کر دیں گے تو جواب میں خاکسار یہی کہے گا کہ تبدیلی اسی کو کہتے ہیں۔ آگے آپ کی مرضی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •