خان صاحب کے بیانات پر اب ہنسی نہیں آتی، ڈر لگتا ہے

تبدیلی سرکار کو ایک سال سے کچھ اوپر ہو گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی تبدیلیوں پر بحث جاری ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ جس کا انتظار تھا وہ سحر ابھی نہیں آئی جس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ اینکران کرام اور تجزیہ کاران عظّام کا ایک گروہ جو…

Read more

اسلامی چینل۔ چند سوالات

اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقاریر دلپذیر کی پٹاری سے اب تک جو برآمد ہوا ہے وہ ایک اسلامی چینل کے قیام کا فیصلہ ہے جو پاکستان، ترکی اور ملائشیا ملکر قائم کریں گے۔ اس چینل کے مقاصد ہمارے وزیر اعظم نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس طرح بیان کیے ہیں۔ ’صدر ارگان، وزیر…

Read more

کامیاب دورہ

لیجیے صاحب، مشرقِ وسطیٰ کو تسخیر کرنے کے بعد ہمارے وزیرِ اعظم امریکہ بھی فتح کر آئے ہیں۔ اس جملے کی بنیاد نسبتاً غیر جانبدار مبصّرین کی رائے ہے نہ کہ شاہ محمود قریشی صاحب کا سینہ پھلائے پھرنا۔ کچھ برس پہلے جب ہیلری کلنٹن بطور وزیر خارجہ پاکستان آئیں تھیں تو ہمارے قریشی صاحب…

Read more

تبدیلی!

اگر اس مضمون کے عنوان سے آپ یہ سمجھے ہیں کہ یہ مضمون ملکِ عزیز میں آئی یا لائی گئی سیاسی تبدیلی کا قصیدہ یا نوحہ ہے تو آپ غلط سمجھے ہیں۔ اس موضوع پر قدآور لکھاریوں کی بڑی تعداد روزانہ لکھتی ہے اور اپنے اپنے حصّے کی داد و گالیاں وصول کرتی ہے۔ راقم…

Read more

موازنۂ ڈار و عمر

حکومتی کارکردگی جانچنے کے لئے سو دن کی بظاہر بے معنی حد معیّن کرنے کے پیچھے جو حکمت کارفرما تھی وہ یا تو وزیرِاعظم جانتے ہیں یا خدا۔ خاکسار نے تو اتنے قلیل عرصے میں صرف ٹی وی سکرینوں پر جلوہ افروز اینکر و تجزیہ نگاران کو محض اینکر یا تجزیہ نگار سے سینئر اینکر یا سینئر تجزیہ نگار بنتے دیکھا ہے۔ بظاہر ’سینئر‘ کی پخ بھی محض یہ بتانے کے لئے لگائی جاتی ہے کہ موصوف یا موصوفہ نے اس میدان میں چند ہفتے گذار لئے ہیں۔یہ اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ ان خواتین و حضرات کی رائے کو سنجیدگی کی ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں، اس کی کاکردگی پر بحث جاری ہے۔ کس فریق کے دلائل میں کتنا وزن ہے اس کا دارومدار سننے والے کی فہم و فراست سے زیادہ اس کی سیاسی وابستگی پر ہے۔ راقم نہ تو صاحبِ فہم ہونے کا دعویدار ہے اور نہ ہی کسی خاص جماعت کا حامی (اگلے انتخابات میں ووٹ خریدنے کا ارادہ رکھنے والے خواتین و حضرات نوٹ فرما لیں ) لہذا اسے ان آٹھ ماہ میں مچائے گئے شوروغل میں سے محض تین باتیں سمجھ میں آئی ہیں۔

Read more

سوشل میڈیا پر ہماری آپ کی رائے ہمیشہ غلط ہوتی ہے

پچھلے چند برسوں میں راقم نے جن ذاتی علّتوں میں اضافہ کیا ہے ان میں ایک سوشل میڈیا پر وقت صرف کرنا ہے۔ شروعات فیس بک سے ہوئی۔ خاندان کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر افراد، کچھ پرانے اور کچھ مزید پرانے دوستوں سے تجدیدِ تعلقات اولاً خوشگوار تجربہ تھا۔ لیکن جیسا کہ بالمشافہ گفتگو…

Read more