موازنۂ ڈار و عمر

حکومتی کارکردگی جانچنے کے لئے سو دن کی بظاہر بے معنی حد معیّن کرنے کے پیچھے جو حکمت کارفرما تھی وہ یا تو وزیرِاعظم جانتے ہیں یا خدا۔ خاکسار نے تو اتنے قلیل عرصے میں صرف ٹی وی سکرینوں پر جلوہ افروز اینکر و تجزیہ نگاران کو محض اینکر یا تجزیہ نگار سے سینئر اینکر یا سینئر تجزیہ نگار بنتے دیکھا ہے۔ بظاہر ’سینئر‘ کی پخ بھی محض یہ بتانے کے لئے لگائی جاتی ہے کہ موصوف یا موصوفہ نے اس میدان میں چند ہفتے گذار لئے ہیں۔یہ اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ ان خواتین و حضرات کی رائے کو سنجیدگی کی ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں، اس کی کاکردگی پر بحث جاری ہے۔ کس فریق کے دلائل میں کتنا وزن ہے اس کا دارومدار سننے والے کی فہم و فراست سے زیادہ اس کی سیاسی وابستگی پر ہے۔ راقم نہ تو صاحبِ فہم ہونے کا دعویدار ہے اور نہ ہی کسی خاص جماعت کا حامی (اگلے انتخابات میں ووٹ خریدنے کا ارادہ رکھنے والے خواتین و حضرات نوٹ فرما لیں ) لہذا اسے ان آٹھ ماہ میں مچائے گئے شوروغل میں سے محض تین باتیں سمجھ میں آئی ہیں۔

Read more

سوشل میڈیا پر ہماری آپ کی رائے ہمیشہ غلط ہوتی ہے

پچھلے چند برسوں میں راقم نے جن ذاتی علّتوں میں اضافہ کیا ہے ان میں ایک سوشل میڈیا پر وقت صرف کرنا ہے۔ شروعات فیس بک سے ہوئی۔ خاندان کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر افراد، کچھ پرانے اور کچھ مزید پرانے دوستوں سے تجدیدِ تعلقات اولاً خوشگوار تجربہ تھا۔ لیکن جیسا کہ بالمشافہ گفتگو…

Read more