افغانستان پر ایک ماہرانہ و فکر انگیز تجزیہ

ماہ اگست کا اہم ترین موضوع ممکنہ طور پر افغانستان ہے۔ راقم کو افغانستان کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ماسوائے اس کے کہ افغانی اس ملک کی کرنسی کا نام ہے جبکہ اس کے باشندوں کو افغان کہتے ہیں۔ لیکن آج کل میڈیا پر بظاہر ہر وہ شخص جس نے افغانستان کا نام سن رکھا ہے افغانستان پر رائے زنی کر رہا ہے چاہے اسے افغان اور افغانی کا فرق بھی معلوم نہ ہو تو راقم نے سوچا

Read more

جنازہ: مقبولیت کی دلیل ہے یا قبولیت کا پیمانہ

اگر راقم مرحوم کی توصیف میں کچھ کہنا چاہے (اگر یہ توصیف کے زمرے میں آتا ہے ) تو یہ کہے گا کہ مذہب بطور سیاسی ہتھیار ہر دور میں استعمال ہوتا رہا ہے لیکن پچھلے چند برس میں اس کا سب سے موثر استعمال مرحوم نے کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جو رونق پہلے فیض آباد دھرنے نے لگائی وہ دوبارہ نہیں لگ سکی۔ فیض آباد دوئم اور سوئم میں نہ کسی میڈیا ہاؤس کے مالک نے دینی جذبے سے مغلوب ہو کر دیگوں کا اہتمام کیا، نہ پی ٹی آئی کے حامیوں نے دھرنے میں شامل ہونے کے لئے اپنی قیادت پر دباؤ ڈالا اور نہ ہی ’ان‘ کی طرف سے ’اپنے لوگوں‘ پر نرمی برتنے کا بن مانگے مشورہ آیا۔

Read more

کورونا کی وبا اور مراد علی شاہ کی نقاب کشائی

اگر آپ راسخ العقیدہ جیالے نہیں ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بطور ایک حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کا انتہائی نا اہل اور کرپٹ ہونا آپ کے سیاسی ایمان کا حصّہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس معاملے میں آپ کو مورد الزام ٹھہرانا مشکل ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے دوران سنائی گئیں ’عجب کرپشن کی غضب کہانیوں‘ میں شاعرانہ مبالغہ آمیزی اپنی جگہ لیکن اس ضمن میں پیپلز پارٹی کا اپنا رویہ

Read more

خان صاحب کے بیانات پر اب ہنسی نہیں آتی، ڈر لگتا ہے

تبدیلی سرکار کو ایک سال سے کچھ اوپر ہو گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی تبدیلیوں پر بحث جاری ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ جس کا انتظار تھا وہ سحر ابھی نہیں آئی جس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا ہے کہ اینکران کرام اور تجزیہ کاران عظّام کا ایک گروہ جو کبھی خان صاحب کا دم بھرتا تھا اب آہیں بھرتا ہے۔ راقم اپنا شمار چونکہ ان لوگوں میں کرتا ہے جنہیں جنّت کی حقیقت معلوم

Read more

اسلامی چینل۔ چند سوالات

اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقاریر دلپذیر کی پٹاری سے اب تک جو برآمد ہوا ہے وہ ایک اسلامی چینل کے قیام کا فیصلہ ہے جو پاکستان، ترکی اور ملائشیا ملکر قائم کریں گے۔ اس چینل کے مقاصد ہمارے وزیر اعظم نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس طرح بیان کیے ہیں۔ ’صدر ارگان، وزیر اعظم مہاتیر محمد اور میں نے آج ملاقات کی اور فیصلہ کیا کہ ہم تیں وں ممالک ملکر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کریں گے

Read more

کامیاب دورہ

لیجیے صاحب، مشرقِ وسطیٰ کو تسخیر کرنے کے بعد ہمارے وزیرِ اعظم امریکہ بھی فتح کر آئے ہیں۔ اس جملے کی بنیاد نسبتاً غیر جانبدار مبصّرین کی رائے ہے نہ کہ شاہ محمود قریشی صاحب کا سینہ پھلائے پھرنا۔ کچھ برس پہلے جب ہیلری کلنٹن بطور وزیر خارجہ پاکستان آئیں تھیں تو ہمارے قریشی صاحب اسی طرح چہچہاتے دکھائی دیے تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پچھلی بار پاک امریکہ تعلقات میں برف پگھلانے کے لئے حرارت فراہم کرنے کا

Read more

تبدیلی!

اگر اس مضمون کے عنوان سے آپ یہ سمجھے ہیں کہ یہ مضمون ملکِ عزیز میں آئی یا لائی گئی سیاسی تبدیلی کا قصیدہ یا نوحہ ہے تو آپ غلط سمجھے ہیں۔ اس موضوع پر قدآور لکھاریوں کی بڑی تعداد روزانہ لکھتی ہے اور اپنے اپنے حصّے کی داد و گالیاں وصول کرتی ہے۔ راقم کا موضوع وہ قضیہ ہے جو ہر سال عیدین پر سر اٹھاتا ہے اور پھر دس ماہ کے لئے سو جاتا ہے۔ ایک اخباری خبر

Read more

موازنۂ ڈار و عمر

حکومتی کارکردگی جانچنے کے لئے سو دن کی بظاہر بے معنی حد معیّن کرنے کے پیچھے جو حکمت کارفرما تھی وہ یا تو وزیرِاعظم جانتے ہیں یا خدا۔ خاکسار نے تو اتنے قلیل عرصے میں صرف ٹی وی سکرینوں پر جلوہ افروز اینکر و تجزیہ نگاران کو محض اینکر یا تجزیہ نگار سے سینئر اینکر یا سینئر تجزیہ نگار بنتے دیکھا ہے۔ بظاہر ’سینئر‘ کی پخ بھی محض یہ بتانے کے لئے لگائی جاتی ہے کہ موصوف یا موصوفہ نے اس میدان میں چند ہفتے گذار لئے ہیں۔یہ اس بات کی ہرگز ضمانت نہیں کہ ان خواتین و حضرات کی رائے کو سنجیدگی کی ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ حکومت کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں، اس کی کاکردگی پر بحث جاری ہے۔ کس فریق کے دلائل میں کتنا وزن ہے اس کا دارومدار سننے والے کی فہم و فراست سے زیادہ اس کی سیاسی وابستگی پر ہے۔ راقم نہ تو صاحبِ فہم ہونے کا دعویدار ہے اور نہ ہی کسی خاص جماعت کا حامی (اگلے انتخابات میں ووٹ خریدنے کا ارادہ رکھنے والے خواتین و حضرات نوٹ فرما لیں ) لہذا اسے ان آٹھ ماہ میں مچائے گئے شوروغل میں سے محض تین باتیں سمجھ میں آئی ہیں۔

Read more

سوشل میڈیا پر ہماری آپ کی رائے ہمیشہ غلط ہوتی ہے

پچھلے چند برسوں میں راقم نے جن ذاتی علّتوں میں اضافہ کیا ہے ان میں ایک سوشل میڈیا پر وقت صرف کرنا ہے۔ شروعات فیس بک سے ہوئی۔ خاندان کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر افراد، کچھ پرانے اور کچھ مزید پرانے دوستوں سے تجدیدِ تعلقات اولاً خوشگوار تجربہ تھا۔ لیکن جیسا کہ بالمشافہ گفتگو میں بالآخر ”اور سناوؑ“ والا مقام آ جاتا ہے، اسی طرح فیس بک پر بھی احباب نے کچھ عرصہ بعد اپنے اقوال کی بجائے دینی

Read more