کیا انڈیا چاند کی سطح پر محفوظ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن پائے گا؟
انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تیکنیکی مسائل کی وجہ سے انڈیا نے چاند کی جانب روانہ کیے جانے والا اپنا دوسرا مشن اس کی لانچنگ سے ایک گھنٹہ قبل روک دیا ہے۔
انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ‘انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن’ کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’لانچنگ سے ایک گھنٹہ قبل خلائی گاڑی کے سسٹم میں ایک تیکنیگی مسئلہ دیکھا گیا ہے۔ حفظ ماتقدم کے طور پر چندرایان-2 (خلائی گاڑی کا نام) کی آج کے دن ہونے والی لانچنگ منسوخ کی جاتی ہے۔ آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔‘
انڈیا چاند پر اپنا دوسرا مشن بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اگر یہ مشن کامیاب رہا تو انڈیا چاند کی سطح پر سافٹ لینڈِنگ یعنی محفوظ طریقے سے اترنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔
اب تک صرف امریکہ، چین اور روس چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کا مشن چاند: چندرایان-2 کی رونمائی
کیا انڈیا انسانوں کو خلا میں بھیج سکتا ہے؟
’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا
چندرایان-2 نامی اس مشن پر 15 کروڑ امریکی ڈالر خرچ آیا ہے اور اس کا مقصد چاند کی سطح سے پانی، معدنیات اور چٹانوں کی ساخت کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنا ہے۔
اس مشن کے لیے تیار کی گئی خلائی گاڑی چاند کے جنوبی قطب پر ستمبر کے آغاز میں اترنے کی امید ہے۔ اور کامیابی کی صورت میں یہ پہلی خلائی گاڑی ہو گی جو چاند کے اس حصے پر اترے گی۔
انڈیا کے خلائی ادارے ‘انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن’ کے سربراہ کے سیوان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ‘پیچیدہ خلائی مشن ہے جو اس سے قبل شاید ہی خلائی ادارے نے سرانجام دیا ہو۔’
انڈیا میں تیار کی گئی سیٹلائیٹ کو پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح دو بج کر اکیاون منٹ پر شری ہری کوٹا خلائی سٹیشن سے خلا کے لیے روانہ کیا جانا تھا۔
تاہم اطلاعات کے مطابق روانگی سے صرف 20 منٹ قبل اس کو ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا۔
انڈیا نے سنہ 2008 میں چندرایان-1 نامی پہلا خلائی مشن چاند پر بھیجا تھا۔ اگرچہ اس مشن نے چاند پر سافٹ لینڈنگ نہیں کی مگر اس پر نصب ریڈارز کے ذریعے پہلی مرتبہ چاند پر پانی کی تلاش کا جامع اور تفصیلی کام سرانجام دیا گیا تھا۔
دوسرے خلائی مشن کا مقصد کیا ہے؟
چندرایان-2 نامی خلائی گاڑی چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ کی کوشش کرے گی۔
اس مشن کا مقصد چاند کی سطح پر فوکس کرنا ہے تاکہ وہاں دوسری چیزوں کے علاوہ پانی، معدنیات اور چاند پر آنے والے زلزلوں کا پتا لگایا جائے۔
اس مشن کے لیے انڈیا اپنا سب سے طاقتور ‘دی جیوسینکورنس سیٹلائیٹ لانچ وہیکل مارک 3’ نامی راکٹ استعمال کر رہا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 640 ٹن ہے، یہ وزن ایک مکمل بھرے ہوئے 747 جمبو طیارے کے وزن سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ جب کی اس کی بلندی 14 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔
جب کہ خلائی گاڑی کا وزن لگ بھگ 2379 کلوگرام ہے اور یہ تین حصوں پر مشتمل ہے، یعنی آربٹر (مدار میں گھومنے والا حصہ)، لینڈر (چاند کی سطح پر اترنے والا حصہ) اور روور (سطح پر چلنے والا حصہ)۔
آربٹر، جو کہ خلا میں ایک سال تک رہ سکے گا، چاند کی سطح کی تصاویر بنائے گا جبکہ یہ چاند کے لطیف ماحول کو ‘سونگھنے’ کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
لینڈر، جس کو وکرم کا نام دیا ہے، کا وزن مکمل خلائی گاڑی کے آدھے وزن کے برابر ہے۔ اس کے درمیانی حصے یا پیٹ میں 27 کلوگرام وزنی روور ہو گی۔ روور کا کام چاند کی سطح کی جانکاری ہے۔ روور، جسے پراگیان کا نام دیا گیا ہے، چاند کی سطح پر 14 دن رہ پائے گی اور یہ لینڈر سے دور آدھا کلومیٹر تک کے ایریا میں سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ روور حاصل کردہ ڈیٹا اور تصاویر تجزیے کے لیے واپس زمین پر بھیجنے کا کام بھی سرانجام دے گی۔
ڈاکٹر سیوان کے مطابق ‘روور جب چاند کی سطح پر اترے کی تو یہ امید ہے کہ یہ چاند سے لی گئی پہلی سیلفی تصویر انڈیا کو بھیجے گی۔’
انڈیا کے سپیس پروگرام کی نئی جہت
پالاوا باگلا، بی بی سی نمائندہ سائنس، کا تجزیہ
چاند پر سافٹ لینڈنگ کی صورت میں یہ انڈیا اور اس کے خلائی ادارے کی ایک بڑی ٹیکنالوجیکل کامیابی ہو گی۔
یہ انڈیا کے مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں کے خلائی مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ انڈیا کے چاند پر اپنے خلا باز بھیجنے کے منصوبے کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہو گا۔ انڈیا سنہ 2022 تک خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انڈیا اپنے آپ کی سپیس پاور کے طور پر پہچان چاہتا ہے۔ اور اس حوالے سے انڈین قوم کے جذبات بلند ہیں کہ وہ چاند کی سطح پر اپنا جھنڈا گاڑ سکیں۔
موجودہ مشن کا کامیاب ہونا انڈیا کے خلائی ادارے کی بھی کامیابی ہو گی۔ انڈین خلائی ادارے نے حال ہی میں کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
سنہ 2014 میں انڈین خلائی ادارے نے کامیابی سے مریخ کے مدار میں اپنی سیٹلائیٹ کو چھوڑا۔ اور ایسا کرنے والا یہ چوتھا ملک تھا۔ سنہ 2017 میں انڈیا نے اس وقت تاریخ رقم کی جب اس نے ایک مشن کے دوران 104 سیٹلائیٹس کامیابی کے ساتھ لانچ کیں۔ اس سے قبل بیک وقت زیادہ سے زیادہ 37 سیٹلائیٹس لانچ کرنے کا ریکارڈ روس کے پاس تھا جو سنہ 2014 میں بنا تھا۔
ایک دفعہ پھر تمام نظریں انڈیا کے خلائی ادارے کی جانب متوجہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی ڈائریکٹر آؤٹر سپیس افیئرز سیمونیٹا ڈی پیپو کے مطابق عالمی دنیا کی انڈیا کے خلائی مشن میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘مشن سے حاصل ہونے والی چاند کی جغرافیائی رپورٹ، علم معدنیات، چاند کی فضا کی بیرونی تہہ اور پانی اور آکسیجن پر رپورٹس بنی نوع آدم کی سائنسی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گی۔’
اس مشن کو لے کر انڈیا کی خلا میں دلچسپی رکھنے والی کمیونٹی کافی بے چین اور مضطرب ہے۔
ڈاکٹر سیوان کے مطابق ‘ اگرچہ اس مشن میں حائل تمام پیچیدگیوں کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے تاہم غیر یقینی اور ناگہانی حالات اس مشن کو ناکام کر سکتے ہیں ۔’
چاند تک سفر کتنی دیر کا ہو گا؟
اس خلائی مشن کی لانچنگ 384000 کلومیٹر طویل سفر کی صرف ابتدا ہو گی۔ یہ خلائی گاڑی لانچنگ کے 54 روز بعد چھ اور سات ستمبر کے درمیان چاند کی سطح پر اترے گی۔
اس خلائی مشن کے لیے فائنل کیا گیا رؤٹ زمین کی کشش ثقل کا فائدہ لیتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور کشش ثقل کی مدد سے سیٹلائیٹ کو چاند کی جانب دھکیلا جائے گا۔ انڈیا کے پاس اتنا طاقتور راکٹ نہیں ہے کو چندرایان-2 کو چاند کے سیدھے راستے پر دھکیل سکے۔
ڈاکٹر سیوان کہتے ہیں کہ ‘لینڈر کو چاند کے جنوبی قطب کی جانب دھکیلنے کے بعد پہلے 15 منٹ سائنسدانوں کے لیے بہت خوف زدہ کر دینے والے ہوں گے۔’
اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ تمام ذمہ داران جو کہ خلائی گاڑی کو کنٹرول کر رہے ہوں گے اس دروان ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ چاند کی سطح پر لینڈنگ کا مکمل دارومدار صرف اس بات پر ہو گا کہ یہ کام سرانجام دینے والے تمام سسٹم ویسے ہی کام کرتے رہیں جیسا کہ انھیں کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو لینڈر چاند کی سطح سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو جائے گا۔
اس سال کے آغاز میں اسرائیل کا پہلا خلائی مشن ایسے ہی حادثے کا شکار ہوا تھا۔
اس ٹیم میں کون کون شامل ہے؟
اس خلائی مشن پر تقریباِ ایک ہزار انجینیئرز اور سائنسدان کام کر رہے ہیں۔ مگر پہلی مرتبہ انڈیا کے خلائی ادارے نے ایک خاتون کو مشن لیڈ کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔
درحقیقت دو خواتین ہیں جو انڈیا کے خلائی سفر کو لیڈ کر رہی ہیں۔ جبکہ پروگرام ڈائریکٹر موتایا ونیتھا کے برس ہا برس چندرایان-2 کی حفاظت کی ہے جبکہ ریتو کریدھال اس کی صحیح راستے پر رہنمائی کریں گی۔
ڈاکٹر سیوان کہتے ہیں کہ خواتین کی طاقت نے انڈیا کی چاند کے حوالے سے امنگوں کو طاقت ور کیا ہے۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے خلائی ادارے میں ‘خواتین اور مرد سب برابر ہیں۔ یہاں صرف قابلیت کو وقعت دی جاتی ہے۔’


