گھر ہے، یتیم خانہ نہیں – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہزاد لطیف سے نوجوانوں کی ایک تربیتی ورکشاپ میں ملاقات ہوئی۔ کیری ڈبے سے وہ اترا اور دن بھر ورکشاپ میں جاری سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ ہنستا اور کھیلتا ہمجولیوں کے ساتھ لیکن دوسروں سے الگ تھلک دکھتا۔ اچانک سنجیدہ ہوجاتا۔ گہری سوچ میں ڈوب جاتا۔ سیکھنے اور سمجھنے کی جستجو میں دوسروں پر اکثر سبقت لے جاتا۔ انتظامی کاموں میں ہمارا ہاتھ بٹاتا۔ سرے شام نوجوان گھروں کو لوٹنے لگے تو ڈرائیور اسے لینے آیا۔

سوٹڈ بوٹڈ شہزاد لطیف سے تبادلہ خیال کرنے اور اس کی کہانی جاننے کی خواہش نے دفعتاًدل میں انگڑائی لی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایم بی اے کررہا ہے او راس کا تعلق نیلم ویلی کے ایک گاؤں سے ہے لیکن اب مستقل طور پر میرپور میں مقیم ہے۔ چار دن کی ورکشاپ تمام ہونے کو آئی تو شہزاد لطیف رخصت ہونے سے قبل تپاک سے ملا اور دعوت دی کہ سر کچھ وقت نکالیں اور کورٹ آئیں ہم بہن بھائیوں سے ملنے کو۔

کورٹ کا نام سن کر ایسے میں چونکا جیسے کرنٹ لگاہو۔ وہ آپ یتیم خانے۔ شہزاد کے چہرے کی رنگت بدل گئی اور اس نے میری بات کاٹ دی۔ اداس اور بجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا: نہیں سر! یتیم خانہ نہیں وہ ہمارا گھر ہے۔ زندگی میں پہلی بار سنا کہ کوئی یتیم خانے کو اپنے گھر کے نام سے پکارتا ہو۔

برسوں پہلے شمالی پاکستان اور مظفرآباد میں آنے والے زلزلے نے نہ صرف شہزاد کے خاندان سے چھت چھنی بلکہ والدین کا سایہ بھی سرسے اٹھ گیا۔ کہتاہے کہ ہمارا کوئی سہارا تھا نہ وجود۔ یتیم اوربے آسرا بچوں کو لوگ گود لینے کے نام پر ہتھیانے پر تلے تھے۔ نوسربازوں کے گروہ کے گروہ زلزلہ زدگان کے غم خوار بن کر بستیوں میں پھیل گئے۔

چودھری محمد اختر نامی ایک شخص رحمت کا فرشتہ بن کر مظفرآباد پہنچا۔ دارالحکومت قبرستان کا منظر پیش کررہا تھا۔ لمحے بھر میں شہر کے رئیس کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگئے۔ وہ چند یتیم اور بے سہارا بچوں کو میرپور لے آیا۔ کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جو آج کورٹ کے نام سے معروف ہے۔ نیت صاف ہوتو قدرت مالی وسائل اور جسمانی مشقت کرنے کی استعداد مہیا کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتی۔ بند دروازے چوپٹ کھلنا شروع ہوگئے۔

سردار عتیق احمد خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو انہوں نے کورٹ کے لیے سرکار کی طرف ایک قطعہ زمین عطیہ کیا۔ شہر سے بہت باہر۔ بے رونق اور غیرآباد، لق ودق ناہموار میدان۔ سردار عتیق نے عطیات دینے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور چودھر ی محمد اختر کا حوصلہ بڑھایا۔ بیرون ملک بالخصوص برطانیہ کے اہل ثروت اور اہل خیر نے کندھے سے کندھا ملایا۔ منگلا میں پاکستان آرمی کی اسڑایکنگ کور کا ہیڈکوارٹر ہے۔ افسروں اور جوانوں نے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا جیسے کہ یتیم خانہ نہیں بلکہ ان کا اپنا آشیانہ تعمیر ہو رہا ہے۔

جنرل کمانڈنگ آفیسر منگلا نے کورٹ کے بورڈ کا رکن بن کر چودھری محمد اختر کا ہاتھ تھام لیا۔ عوامی عطیات سے میرپور کے نواح میں ایک شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ ہاسٹل، کھیل کا میدان، سکول اور کالج۔ آج 96 کمروں پر مشتمل کورٹ کی بلڈنگ کسی یورپی یونیورسٹی کا منظر پیش کرتی ہے۔ ایشیا کا سب سے بڑا یتیم خانہ دیکھنے لوگ دور دیسوں سے آتے ہیں اور چودھری محمد اختر کی ہمت اور ویژن کی داد دیتے ہیں۔

فاطمہ ہاؤس کے نام سے پانچ سو یتیم طالبات کے لیے رہائش گاہ تعمیر کی گئی۔ یہ ہاسٹل جدید ترین سہولتوں سے مزین ہے۔ کھیل کی سہولتوں کے علاوہ ٹی وی اور دیگر ضروری انتظامات دستیاب ہیں۔ جناح ہاؤس کی خوبصورت عمارت دیکھ کر لمز لاہور کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ عالیٰ شان عمارت پانچ سو طالب علموں کی رہائش کے لے کفایت کرتی ہے۔ ایک عظیم الشان کچن تعمیر کیا گیا۔ اس کا فرنیچر اور صفائی دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔ بیک وقت بارہ سو کے لگ بھگ لوگ کھانا کھاسکتے ہیں۔ یہ کچن کسی بھی آرمی میس سے کم نہیں۔

کورٹ میں مقیم بچوں میں سے جو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں انہیں یونیورسٹی میں داخلے دلوانے میں بھی انتظامیہ مدد کرتی ہے۔ کئی ایک نوجوان تعلیم مکمل کرکے نہ صرف اچھا روزگار کما تے ہیں بلکہ کورٹ کے سفیر بھی بن چکے ہیں۔

کورٹ میں آباد ہر بچے کی ایک الگ کہانی ہے جو سننے والے کو سحر زدہ کردیتی ہے۔ کورٹ اب صرف متاثرین زلزلہ ہی کی کفالت نہیں کرتابلکہ پنجاب اور خیبر پختون خواکے یتیم بچوں کا مسکن بھی بن چکا ہے۔ قدرتی آفات، حادثات اور طبی موت مرنے والوں کی اولادوں کا ہاتھ بھی تھامتا ہے۔ رنگ نسل، فرقے، علاقے یا مذہب پر کسی سے کوئی امتیاز نہیں۔

محمد اختر ایک خدا ترس اور خداداد صلاحیتوں کی مالک شخصیت ہیں۔ چہرے مہرے سے سادے سے انسان ہیں۔ گوروں کی طرح ٹنڈے، جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اکثر نظرآتے ہیں۔ کاروبار کرتے اور برطانیہ میں آسودہ زندگی بسرکرتے تھے۔ 2005 کے زلزلے نے ان کی زندگی کی کایاپلٹ دی۔

اس پر عزم انسان نے گزشتہ چوبیس برسوں میں کورٹ کو ایک یونیورسٹی کی شکل دی۔ ایک اقامتی تعلیمی ادارہ کھڑا کردیا۔ ان کے تشکیل دیے ہوئے نظام پر اہل خیر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی اپیل پر وافر مقدار میں خیرات اور عطیات فراہم کرتے ہیں۔ کورٹ کے تعمیراتی منصوبوں میں اپنی استعداد سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ چنانچہ کورٹ اب محض بے سہارا بچوں کی پناہ گاہ نہیں بلکہ تعلیم تربیت اور ہنر سیکھنے کا ایک علاقائی مرکز بن چکا ہے۔

انسان تنہا کچھ نہیں کرسکتا۔ روپیہ اور پیسہ بھی ادارے بنانے میں کام نہیں آتا جب تک کہ مردان کار ہمرکاب نہ ہوں۔ محمد اختر نے صاف ستھرے کردار اور خدمت کے جذبے سے سرشار لوگوں کی ٹیم جمع کی۔ محمد شکیل، اگرچہ پیشہ کے اعتبار سے ایک براڈکاسٹر اور میرپور ریڈیو کے ڈائریکٹر ہیں لیکن کورٹ کے انتظامی اور توسیع کے منصوبوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ پندرہ کروڑ روپے کورٹ کا سالانہ بجٹ ہے۔ ساڑھے چار سو کے قریب بچے کورٹ کے زیر کفالت ہیں۔ یہ تعداد پندرہ سو تک پہنچنے کا ارادہ ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ اگلے کچھ برسوں میں یتیم ہی نہیں بلکہ لاوارث اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کی رہائش، تعلیم اور تربیت کا انتظام بھی کورٹ کرے۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ذاتی دلچسپی لے کر کورٹ کو مزید زمین دلوائی ہے اس پر ایک ڈینٹل کالج اور ہسپتال بنا نے کا منصوبہ ہے تاکہ مالیاتی خودانحصاری کا سفر بھی شروع کیا جاسکے۔
آیئے! کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر میں عیدالالضحیٰ کے موقع پر ہم بھی اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 125 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood