ویڈیوز … ہاتھ سے لگائی گرہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرنٹ میڈیا پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر میں حالتِ نزع میں ہے۔ روایتی صحافت کی وہ قسم جسے پیشہ وارانہ زبان میں Long Form Journalism کہا جاتا ہے قارئین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ سمارٹ فونز پر ویڈیوز کا سیلاب ہے۔

لوگ اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر فون کی سکرین دیکھتے ہیں۔ کوئی شے جو اِن کے دلوں میں جاگزیں تعصبات کا مؤثر اظہار کرے، فوری تسکین پہنچاتی ہے۔ کئی لوگ اپنی پسند کی ویڈیو کو دیکھ کر دوستوں کو فارورڈ کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے مقبول ہوئی ویڈیوز کا دورانیہ اصولی طور پر دو منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔ سب سے چونکا دینے والی ’’شے‘‘ تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا دورانیہ ٹی وی ڈراموں پر ٹاک شوز کے درمیان چلائے کمرشلز سے زیادہ نہیں ہوتا۔

کالم ویڈیو نہیں بناتا۔ یہ تحریر ہے۔ اسے لکھنا پڑتا ہے۔ اخبار کے لئے لکھی شے کو پڑھنے والوں کی ضرورت ہے۔ کالم نگار اخبار میں چھپے کالم کو لہٰذا انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کے بعد اس بات کا بھی کھوج لگائے رہتا ہے کہ اسے کتنے لوگوں نے محض پسند کیا یا پڑھنے کے بعد فیس بک کے ذریعے شیئر کیا یا ٹویٹر پر RTکیا۔

یہاں تک لکھنے کے بعد خیال آیا کہ مجھ ایسے ڈنگ ٹپائو کالم نگاروں کے برعکس زبان وبیان پر مکمل گرفت کے حامل جید لکھاری میری تمہید سے ناراض ہو سکتے ہیں۔ شاید غالبؔ کی طرح وہ ستائش یا صلہ سے بے نیاز ہو کر لکھتے ہیں۔ کاش مجھے ان جیسا اعتماد نصیب ہوتا۔

سوشل میڈیا سے کئی مہینوں سے تقریباََ کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس کی بدولت ذہن کو بہت سکون نصیب ہوا ہے۔ کتابیں پڑھ کر ختم کرنے کی عادت لوٹ آئی ہے۔ اس کے باوجود جب یہ کالم چھپے گا تو اسے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر پہلی فرصت میں پوسٹ کروں گا اور دن میں مناسب وقفوں سے یہ بھی جاننے کی کوشش کروں گا کہ اس کے بارے میں کس نوعیت کی تبصرہ آرائی ہوئی ہے۔ ستائش سے غالبؔ جیسی بے اعتنائی نصیب نہیں ہوئی۔

سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ Likes،Share یا RTs حاصل کرنے کے لئے مگر ضروری ہے کہ سیاست کے بازار میں سب سے Hotموضوع پر کالم لکھا جائے۔

آج سے چند دن قبل احتساب عدالت کے ایک معزز جج کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی۔ مجھ بے وقوف نے مگر اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے دوسرے دن اپنے کالم کے آغاز ہی میں اعلان کردیا کہ میں مذکورہ ویڈیو کی بابت کچھ لکھنے نہیں جا رہا۔ اس ویڈیو کو نظرانداز کرنے کی بنیادی وجہ اس سے چند ہفتے قبل منظرِ عام پر آیا ایک اور ویڈیو تھا۔ میرا آج بھی اصرار ہے کہ ملکی سیاست کے وسیع تر تناظر میں اور انصاف کا بول بولا ہونے کے دعوے کے دوران اس ویڈیو کی اہمیت احتساب کے جج کے بارے میں برسرعام ہوئی ویڈیو سے کہیں زیادہ تھی۔ ہم اسے لیکن بھلاچکے ہیں۔

حالیہ ویڈیو کو بھلانا مگرمشکل ہورہا ہے۔ پنجابی محاورے والی ہاتھ سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔ ’’دانت‘‘ اگرچہ اب استعمال ہوچکے ہیں۔ احتساب عدالت کے جج کو ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی نوکری البتہ اپنی جگہ موجود ہے۔ لاہور ہائی کورٹ سے مستعار لئے گئے تھے۔ واپس بھیج دئیے گئے ہیں۔ ہمیں خبر نہیں کہ ان کے خلاف کوئی اور انضباطی کارروائی ہو گی یا نہیں۔ شاید کچھ عرصہ OSDافسروں کی طرح گھر بیٹھے رہیں اور بعدازاں ’’رولامک‘‘ جانے کے بعد کہیں سیشن جج لگا دئیے جائیں۔

ان کی برسرِعام ہوئی ویڈیو نے مگر نواز شریف کے چاہنے والوں کے دلوں میں جو امید دلائی تھی میری ناقص رائے میں اب برقرار نہیں رہ پائے گی۔ اس ویڈیو کے حوالے سے آنے والے دنوں میں جو ہو سکتا ہے اس کا ’’سکرپٹ‘‘ میری دانست میں اس حلف نامے کی صورت لکھا جا چکا ہے جو مذکورہ جج صاحب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حوالے کیا۔

قانون کی باریکیوں سے قطعاً نابلد ہوتے ہوئے میں نے اس حلف نامے کو پانچ سے زائد مرتبہ پڑھا ہے۔ انتہائی مہارت سے لکھے اس حلف نامے سے تاثر یہ اجاگر ہوتا ہے کہ 2003/4 میں ان صاحب کی کسی ’’نجی محفل‘‘ میں ایک ویڈیو بنائی گئی۔ اس ویڈیو میں کیا تھا یہ ہمیں معلوم نہیں۔ اگرچہ اس کے ذریعے ارشد ملک صاحب کو ’’غیر اخلاقی حرکات‘‘ کا مرتکب ٹھہراکر بلیک میل کرنے کی کوشش ہوئی۔

حلف نامے کی عبارت کو اگر غور سے پڑھیں تو عیاں ہوتا ہے کہ جج صاحب ہرگز بلیک میل نہیں ہوئے۔ نواز شریف کو سزا سنا دی۔ یہ سزا سنا دینے کے باوجود وہ مسلسل بلیک میل کیوں ہوتے رہے؟ اس سوال کا جواب اگرچہ میسر نہیں۔

بہت سے لوگ اس گماں میں مبتلا ہیں کہ جج صاحب کے لکھے حلف نامے پر عدالتوں میں جرح ہو گی۔ اس جرح کی بدولت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ نواز شریف کی سزا برقرار رہنے کا اخلاقی، سیاسی اور قانونی جواز باقی نہ رہ پائے گا۔

جان کی امان پاتے ہوئے میں یہ امکانات دیکھنے سے محروم ہونے کا اعتراف کر رہا ہوں۔ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک معزز شہری کی درخواست پر اس ویڈیو پر تین رکنی بنچ کے ذریعے غور کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سائبر کرائم کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے۔ نماز بخشوانے کی خواہش روزے کے حکم کے ساتھ واپس لوٹ سکتی ہے۔

یہ لکھتے ہوئے مجھے احساس ہے کہ بہت سے قارئین میری اس رائے کو شکست خوردہ ذہن کی ناامیدی ٹھہراتے ہوئے مایوسی پھیلانے کا مرتکب ٹھہرائیں گے۔ نیک دل لوگ تو شاید میرے دل میں جاگزیں ہوئی ناامیدی کو میری رائے کا واحد سبب ٹھہرا کر آگے بڑھ جائیں۔ سوشل میڈیا پر حاوی پارسائی فروش مگر یہ بھی تو سوچ سکتے ہیں کہ شاید مجھے بھی کوئی میری کوئی ’’غیر اخلاقی ویڈیو‘‘ جو ’’نجی‘‘ مگر ’’محفل‘‘ میں بنائی گئی ہو دکھا کر ’’خاموش‘‘ کر دیا گیا ہے۔ اپنی خاموشی کو ناامیدی کا جواز گھڑتے ہوئے قابل اعتبار بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

ایسے کرم فرمائوں کی خدمت میں احتیاطاً عرض صرف یہ کرنا ہے کہ کئی برسوں سے حسرت گناہ کے بھی قابل نہیں رہا۔ ’’محفلوں‘‘ میں گئے بھی زمانہ بیت گیا۔ اپنے گھر تک محدود ہوا ٹھوس حقائق کے بارے میں بلکہ ضرورت سے زیادہ سوچنا شروع ہو گیا ہوں اور مسلسل غور کی عادت نے سمجھا دیا ہے کہ دنیا کی رونق میں دل نے تنہا ہی رہنا ہے۔

یہ دور Post Truthکا دور ہے۔ ’’معروضی حقائق‘‘ غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ ہفتے کے دن میری بیوی نے گوشت بھونا۔ ڈرائیور چھٹی پر تھا۔ مجھے گرماگرم نان لانے کو کہا۔ گھر سے نکلا تو ہدایت یہ بھی ملی کہ آتے ہوئے ڈبل روٹیوں کے چار پیکٹ بھی لیتا آئوں۔ میرے گھر سے محض چند قدم کے فاصلے پر اسلام آباد کی ضلع کچہری ہے۔ وہاں کئی ریستوران اور دکانیں ہیں۔ ان سے متعلقہ مارکیٹ کو ’’ایوب مارکیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہاں سب دکانیں بند تھیں۔ حتیٰ کہ دوائیاں بیچنے والی تین دکانوں کے شٹر بھی ڈائون تھے۔ مجھے گماں ہوا کہ اتوار کا دن ہے۔ جلد ہی مگر یاد آگیا کہ 13جولائی ہے اور اس روز تاجروں نے ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسلام آباد 1975میں آیا تھا۔ اس شہر کے تاجر ’’سیاسی‘‘ نہیں۔ احتجاج سے پرہیز کے عادی ہیں۔ نان کی تلاش میں ایک نسبتاََ چھوٹی مارکیٹ چلا گیا۔ اسے ’’مدینہ مارکیٹ‘‘ کہتے ہیں۔ وہاں تندور کھلاتھا۔ نان مل گئے۔ ڈبل روٹی کی امید صرف ایک دکان کو کھلادیکھ کر پیدا ہوئی۔ اس نے دوکان ایک بجے کھولی تھی۔ ڈبل روٹی کی سپلائی نہیں آئی تھی۔ منہ لٹکائے گھر لوٹ آیا۔

رات سونے سے قبل مگر ٹویٹر اور فیس بک وغیرہ دیکھے تو انداز ہوا کہ بے تحاشہ لوگوں کی نظر میں تاجروں کی ہڑتال بری طرح ناکام رہی تھی۔ بحث شدومد سے اب یہ جاری تھی کہ تاجر اگر حکومت کو ٹیکس نہیں دیں گے تو کاروبارِ ریاست کیسے چلے گا۔ سب سے مقبول مطالبہ یہ بھی تھا کہ جن تاجروں نے دکانیں بند کیں ان کی بجلی کے کنکشن کاٹ دئیے جائیں۔ ان کی دکانوں پر موجود سامان ’’بحقِ سرکار‘‘ضبط کرلیا جائے۔

برسوں سے میری تنخواہ میں سے حکومت کو واجب ٹیکس پیشگی کاٹ لیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر سال ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرواتا رہا ہوں۔ ٹیکس دینے سے مبینہ طورپر ’’منکر‘‘ تاجروں سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں۔ ساتھ ہی مگر ایک سیانے کا کہا ایک فقرہ بھی یاد آ گیا جو دعویٰ کرتا ہے کہ “You Can’t Fight Against the Market”۔ اس کا ترجمہ خود کر لیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •