اچھی کٹھ پتلی، بری کٹھ پتلی
گزشتہ سال قبل از عام انتخابات سینٹ الیکشن میں عمران خان اور آصف زرداری نے متفقہ طور پہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کو اپنے سینٹرز کے ذریعے چیئرمین منتخب کرایا تھا، جب کہ مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت بھی کی۔ لیکن اس وقت سیاسی طور پہ اتحادی بنی پیپلزپارٹی اور پی ٹی آء نے مسلم لیگ ن کی ایک نہ سنی، اور یوں ہارس ٹریڈنگ کے تحت ووٹوں کی خرید و فروخت کے ساتھ، چئیرمین سینٹ منتخب کیا گیا۔ اس وقت عمران خان نے انکشاف کیا تھا کہ، ایک میمبر کا ووٹ خریدنے کے لیے چار کروڑ تک کی رقوم ادا کی گئی تھیں۔
مسلم لیگ ن اور پی ٹی آء نے یہ اعتراف بھی کیا کہ، ان کے پارٹی کے رکن بھی بکے ہیں، پر تاحال نہ انہیں پارٹی سے فارغ کیا گیا، نہ ہی وفاداری بدلنے پر ان کا احتساب کیا گیا۔ پی پی پی کا منتخب کردہ چئیرمین سینٹ سنجرانی صاحب نے، کچھ باتیں ماننے سے انکار کیا تو یہ سنجرانی پہ غصہ ہوگئے۔ جب آصف زرداری اور اس کی ہمشیرہ فریال تالپور کی نیب احکامات پہ گرفتاریاں ہوئی، اور ایسے حالات میں جب صادق سنجرانی پ پ پ سے تعاون نہ کرنے کے لیے ڈٹ گیا، تو شریک چیئرمین پ پ پ آصف زرداری نے دھمکی دی کہ، وہ جب چاہے اُسے اس عہدے سے فارغ کر سکتا ہے۔
بس منہ سے یہ الفاظ نکلنے کی دیر تھی کہ، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی فنکشنل، اور دیگر اپوزیشن جماعتیں نے سر جوڑ لیا کہ اسے جلد ہٹایا جائے۔ یہ فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹی کانفرنس میں ہوئا، جس کا اعلامیہ ان کی تشکیل کی گئی رہبر کمیٹی نے دیا۔ جب کہ پ پ پ چیئرمین بلاول بھٹو کہتے ہیں، اس سے پہلے کے ہم عدم اعتماد کی قرارداد پیش کریں، صادق سنجرانی کو خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیے، پر سنجرانی صاحب ابھی استعیفا دینے کا نہیں سوچ رہے۔
وہ تو وزیراعظم عمران خان کے پاس جا پہنچے، کہا کہ میری امداد کرو۔ جس پہ اس نے مدد کرنے کی خاطری کرائی ہے۔ سینیٹ کی نمبر گیم پہ نظر کریں تو اس وقت اپوزیشن کے پاس اڑسٹھ ووٹ ہیں، اور حکومتی ممبران کی تعداد چھتیس ہے۔ سینٹ میں کل ایک سو چار ممبر میں سے، ایک سو تین موجود ہیں۔ حکومتی جماعت تحریک انصاف کا یہ دعویٰ ہے کہ، ہمیں مسلم لیگ ن میں شامل تیرہ آزاد ممبران کی حمایت حاصل ہے، جب کہ یہ ووٹنگ خفیہ طریقے سے ہوتی ہے، اور اسی وجہ سے ہارس ٹریڈنگ کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اب اگر پچھلی بار کی طرح خفیہ خرید و فروخت ہوئی تو، اپوزیشن کو مشکلاتیں درپیش آ سکتی ہیں۔ پر یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ، جس خرید و فروخت کی سب سیاسی جماعتیں مخالفت کرتی آئی ہیں، کیمرے کے پیچھے وہ ساری اس کالے دھندے میں ملوث ہیں۔ بلاول بھٹو سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں والے یہ جو راگ آلاپتے رہتے ہیں، کہ وزیراعظم کٹھ پتلی ہے، سیلیکٹ کر کہ لایا گیا ہے، ان سے بھی تو کوئی یہ پوچھے، کہ صادق سنجرانی بھی سیلیکٹ شدہ تھا، اور اُسے اس لیے ہی ہٹایا جا رہا ہے کہ، وہ پیپلزپارٹی کی امیدوں پہ پورا نہیں اترا، جسے انہوں نے مسلم لیگ کی مخالفت کر کے منتخب کروایا تھا۔
آج پ پ پ والے اُسی مسلم لیگ ن پارٹی کی مدد سے چیئرمین کو ہٹانے جا رہے ہیں۔ ہو نہ ہو، اپوزیشن جماعتیں اپنی اکثریتی ووٹوں کی مدد سے سینٹ چیئرمین کی روپ میں ایک کٹھ پتلی ہی چاہتی ہیں، جو ان کی کبھی کوئی بات نہ ٹالے۔ تو پھر فرق کیا رہہ گیا حکمران جماعت میں اور اپوزیشن جماعتوں میں؟ آپ نے عمران خان کو تو سیلیکٹڈ وزیراعظم کا لقب دیا ہوئا ہے، اور اسے کٹھ پتلی کہتے نہیں تھکتے، تو اس پر صادق سنجرانی کو کس لقب سے نوازے گیں، جو آپ کی مرضی سے سیلیکٹ ہوئا اور اب اسے ہٹانے جا رہے ہو؟
اور یہ بھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ، رہبر پارٹی کا نامزد کردہ سینٹ چیئرمین حاصل بزنجو، جس کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے، اگر وہ توقعات پہ پورا نہ اترا تو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرو گے جو صادق سنجرانی سے ساتھ کرنے جا رہے ہو؟ اگر ہاں تو، بس یہی فرق رہ جاتا ہے اپوزیشن اور حکمران جماعت میں کہ، ہم سیلیکٹ کریں تو اچھی کٹھ پتلی، اور آپ کریں تو بری کٹھ پتلی۔


