عثمان بزدار بھی شہبازشریف کے نقش قدم پرچل پڑے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہورکالکشمی چوک ویسے توذائقوں کی وجہ سے اہل ذوق میں خاصا مقبول ہے مگربارش کے دنوں میں یہاں میڈیاہرسال سب سے زیادہ ں ظریں جمائے رکھتاتھا۔ میں سابق ادوار کی بات کررہاہوں جب میاں شہبازشریف بارش ہوتے ہی اس چوک پرپہنچ جاتے اور اپنے لانگ شوزپہن کرپانی میں کھڑے ہوجاتے۔ افسران الرٹ رہتے اور واسا اہلکاروں کی دوڑیں لگی ہوتی تھیں۔ حتی کہ ارکان اسمبلی اور وزراء کوبھی نکاسی آب کاجائزہ لینے کی ہدایت ہوتی تھی۔

جہاں جہاں اہم شخصیات دورے کرتیں ان کی ویڈیوز اور تصاویروائرل کی جاتی تھیں پھراپنے لوگ تعریفوں کے پل باندھتے اور بیگانے اسے شوبازیوں کانام دیاکرتے تھے۔ بہرحال نکاسی آب کے نظام میں جتنادم ہے پانی تو اسی حساب سے رفتہ رفتہ راوی کی طرف نکلتاتھا۔ اس باربارش ہوئی تووہ یادیں پھرسے تازہ ہوگئیں اور لوگوں کی نظریں ٹی وی سکرین پرکچھ ایسے مناظردیکھنے کے لیے بے چین تھیں کہ اسی دوران ایک دم بریکنگ کے لال پھٹے ٹی وی سکرینز پرنمودارہوئے۔

ساتھ ہی وہ خصوصی فوٹیج چلناشروع ہوگئی جس کی توقع نہیں تھی مگرکسی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکو بڑا کمال کامشورہ دیا۔ وہ افسر یقینا خاصا تیزدماغ والاہوگا جس نے وزیراعلیٰ کواپنے دفترسے سڑک پرنکل کرموسم انجوائے کرنے کی صلاح دی اور ساتھ کیمرے لیجانابالکل نہیں بھولے تاکہ بوقت ضرورت فوٹیج ریلیزکی جاسکے۔ اس میں قباحت بھی نہیں۔ جب سبھی کرتے ہیں توسردارصاحب نے بھی کوئی عجیب کام نہیں کیا۔ چونکہ پہلی دفعہ ایسا ہوا اس لیے کچھ لوگوں کو تھوڑا انوکھالگا۔

اس بارش میں سردارعثمان بزدارصاحب نے ایک کام میاں شہبازشریف سے بھی چندقدم آگے بڑھ کرکیا۔ میاں صاحب صرف افسران کونکاسی آب کی ہدایت کرتے اور جب ضرورت پڑتی توکسی افسر کوعہدے سے ہٹانے کی حکم بھی دے دیتے تھے مگرسردارصاحب نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ خاموشی سے نکاسی آب کاجائزہ لیا۔ گاڑی خود چلائی۔ لانگ شوزالبتہ فوٹیج میں نظرنہیں آئے لیکن بارش میں گرین بیلٹ پرکھڑی خواتین کوان کی منزل پرپہنچانے کی آفرکی جسے انہوں نے خوشی خوشی قبول کرلیا۔ یہ کتنا خوشگوار احساس ہوتا ہے جب کوئی حکمران اپنے عہدے سے نیچے آکرعوامی سطح پر کھڑا ہو کر ان کے دکھ درد کو محسوس کرتاہے اور ان کی مدد بھی کرتاہے مگرکیا اس کے لیے ہر بار عوام کوطوفانی بارش کا انتظارکرناپڑے گا؟

زلزلے۔ طوفان۔ بارش اور ان جیسی دیگرصورتحال میں یقیناحکمرانوں کاعوام میں جاکران کے دکھ دردبانٹناقابل تعریف ہے مگرایسے اعمال میں اگرتسلسل ہوتوپھرکیاہی بات ہے۔ بارش کے پانی میں سڑکوں پرنکل کرصورتحال کاجائزہ لینے میں ہرج نہیں مگریہ پانی اتنی مقدارمیں جمع کیوں ہوتاہے، کیا اس کی وجوہات ڈھونڈکرانہیں مستقل طورپرختم کرنے کی ضرورت زیادہ نہیں؟ میاں شہبازشریف اور ان سے پہلے ادوارمیں بے شک نکاسی آب کانظام بہترکرنے کے دعوے کیے گئے اور کسی حدتک کام بھی ہوا مگر یہ کون سے منصوبہ سازتھے جنہیں یہ تک سمجھ نہ آئی کہ پانی نشیبی جگہوں سے کس طرح نکالناہے اور زیادہ بارش ہونے کی صورت میں شہریوں کی مشکلات کم سے کم رکھنے کے لیے کیا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شہری آبادی میں یہ کوئی حل نہیں کہ بارش کے وقت اہلکاروں کوسڑکوں پربرساتیاں پہنا کر کھڑے کردیاجائے۔ چوکوں پرکیمپ لگادیئے جائیں۔ اخباروں اور ٹی وی پراشتہارچلادیئے جائیں۔ ہم نے یہ کردیا۔ انہوں نے یہ نہیں کیا۔ ہم نے حکم دیدیا۔ یہ مشکلات ہیں۔ وہ پریشانیاں ہیں وغیرہ۔

ضرورت اس چیز کی ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے نقصانات کم سے کم رکھنے کے لئے بروقت منصوبہ بندی کی جائے۔ شہری آبادی میں نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے والے نالے اور دیگرذرائع کی استعدادکاربڑھائی جائے۔ صرف بارش کے ہی دنوں کی بجائے نالوں کی مسلسل صفائی اور ان سے وقفے وقفے سے ویسٹ نکالنے کاکام یقینی بنایاجائے۔ اگرشہری آبادی میں پانی کی مقدارزیادہ ہوتی ہے تواضافی ایسی پائپ لائنزبچھائی جائیں جوپانی کوبراہ راست آبادی سے نکالیں اس کے لیے ایک میگاپروجیکٹ کی ضرورت ہے۔

یہ اتنابڑامسئلہ ہے کہ چھوٹے موٹے پائپ اور نالے تعمیرکرنے سے حل ہونے والانہیں۔ نئی آبادیوں کواس منصوبہ بندی سے تعمیرکیاجائے کہ آنے والے دوسوسال تک بھی پانی جمع ہونے کاخطرہ نہ ہو۔ اسی طرح سیلاب متاثرین کوکلوآٹا۔ چینی اور خشک دودھ دے کراحسان کرنے کی بجائے انہیں نقصان سے قبل ازوقت بچانے کی منصوبہ بندی کریں۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیم بنانے پربھی اب تک صرف سیاست اور نعرے ہی لگے ہیں۔ ایسے ٹھوس اقدامات ں ظرنہیں ّآئے جن کاکوئی ثمربھی سامنے آیاہو۔ ۔

مسئلہ بارش سے شہروں میں جمع ہونے والے پانی کی نکاسی کاہویاسیلاب متاثرین کا۔ ضرورت ایسے اقدامات کی ہے جن سے عوام کی مشکلات ختم ہوجائیں۔ اگرصرف میڈیاکوریج حاصل کرکے سادہ لوح عوام کی نظروں میں اپنا اچھاتاثربنانامقصد ہے توبسم اللہ کریں اس کے لئے حکومتی عہدہ نہ بھی ہوتوایک رکشہ یونین بناکربھی اچھی بھلی کوریج مل سکتی ہے کیوں کہ وہ بھی عوامی مسائل کانعرہ لگاکرخاصے مقبول ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکواپنے ہی اندازمیں اچھاکام کرنے کی ضرورت ہے۔ خادم اعلیٰ کے نقش قدم پرچل کروہ بارش میں لکشمی چوک پرتوپہنچ جائیں گے مگرصحیح معنوں میں عوامی توجہ نہیں حاصل کرپائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •