پنڈی و اسلام آباد کا سیاسی ٹیسٹر کا کھیل


محمد امین

\"muhammad-ameen\"دنیا میں وفاداری جانچنے کے لیے ٹیسٹر (الیکٹرک ٹیسٹر مراد امتحانی نظام) لگانے کا نظام شروع تو نہ جانے کب ہوا، لیکن ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اس کی مثالیں روز مرہ زندگی میں ہمارے قرب و جوار میں بھری پڑی رہتی ہیں۔ دنیا کی چند ایک ان اشیاء میں شامل ہے جو جھونپڑی میں بسنے والے سے لے کر بادشاہوں کے محل تک ہر جگہ موقع و محل کے حساب سے استعمال ہوتی ہے۔ جیسے بجلی کے آلات میں خطرے کی بو سونگھنے والا ٹیسٹر اپنا کام کرتا ہے اور سرخ بتی جلا کر ہمیں ایسی چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے، ایسا ہی ایک انسانی ٹیسٹر بھی ہے، جو رویوں کی تبدیلی کو حقیقت یا افسانوی صورت میں تجزیہ کر کے پیش کرتا ہے۔ یہاں ٹیسٹر دراصل اس امتحان کو کہا جا رہا ہے جو لوگوں کے بدلتے رویے دیکھ کر ان سے لیا جاتا ہے۔ جگنی بابا پرانے زمانے کو یاد کر کے دل کی خوب بھڑاس نکالتے ہیں، کہنے لگے کیا دور آ گیا ہے کہ ہمسائے سے لے کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے آخری فرد تک کےلیے ہمارے دل میں وسوسے بھرے پڑے ہیں، کہ وہ ہمارا بدخواہ ہی ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ہر بندہ دوسرے کو ٹیسٹر لگا رہا ہے، قریبی عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں، حتیٰ کہ بھائی بھائی کو، بھائی بہن کو، بیٹا والدین کو، اور والدین بچوں کو ٹیسٹر لگا کر دیکھتے ہیں کہ آئندہ زندگی میں وہ ان کے حوالہ سے کیا پلاننگ کر رہے ہیں۔

لیکن یہ سب باتیں کرتے جگنی بابا اپنا زمانہ بھول گئے، جب وہ اپنے دوستوں میں بیٹھ کر اپنی محبوبہ کے حوالہ سے ٹیسٹر لگاتے تھے۔ تاکہ پتہ چل سکے، کسی کی بری نظر تو ان کی بسنتی کی طرف نہیں اٹھتی؟ میں نے پوچھ بھی لیا تو کہنے لگے اچھا اب کل کے لونڈے ہمیں ماضی کے طعنے دیں گے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ نا معلوم تاریخ مہینہ سال میں زمانہ قدیم سے شروع ہونے والا یہ کھیل بڑی تیزی سے مقبول ہوا۔ گو کہ ہر زمانے میں ٹیسٹر لگانے کے طریقہ ہائے کار بدلتے رہے، لیکن درباری لوگوں سے شروع ہونے والا یہ کھیل کبھی زوال کا شکار نہیں ہوا۔ گویا یہ ایک ایسا عالمگیر، ہمہ گیر اور لازوال کھیل ہے جس میں جنس، نسل، ذات، برادری، عمر، صنف، وقت، اصول، اور جگہ کی کوئی قید نہیں۔ زمانہ قبل مسیح سے جاری کھیل کا اولین کھلاڑی جوتشی رہا ہو گا، جس نے کسی دشمن کو بادشاہ کی نظروں میں گرانے کے لیے مصاحب خاص کو فرضی ستاروں کی چال ڈھال کا ٹیسٹر لگا دیا۔ کامیابی یقینی تھی، لہٰذا پھر خوابوں کی تعبیر بتانے والے میدان کارزار میں آئے اور حریفوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ کھیل کی مقبولیت دیکھتے ہوئے چغل خور، غیبت کرنے والے، حاسد، رقیب، شریک، دیوانے، پروانے، بد معاش اور شریف غرض ہر مکتبہ فکر کے لوگ کسی نہ کسی طور اس کھیل کے کھلاڑی بن گئے۔ کئی ایک تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس اصطبل کا حصہ بنے، جہاں ان کھلاڑیوں کی سواریاں ہوتی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کسی نامور کا ذہن اس طرف گیا ہو۔ لیکن پہلے برصغیر پر صدیوں حکومت کرنے والے تیموری خاندان نے وفاداروں اور بے وفاؤں کا تعین کرنے کے لیے گوہر نایاب ڈھونڈ نکالا۔ ٹیسٹر کے طور پر ہیجڑوں اور بازار حسن کی رونق بننے والی ادبی طوائفوں کو ایک عرصہ استعمال کیا۔ لیکن امور مملکت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے گھریلو سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے محض حرم کی \”حفاظت\” پر ہی مامور کیے رکھا، اور خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ انہی کے ہاتھوں اپنی بنیادیں کھدوا لیں۔ بعد ازاں دنیا کی غیر مسلم سپر پاورز اور خصوصاً ہندوستان کی اقوام نے عیاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے وفاداروں کو لگانے کے لیے یہی شاندار ٹیسٹر استعمال کیے۔ اور مادیت پرستی کے اس دور میں ان آلات کا کمرشل اور ڈومیسٹک سطح پر خوب استعمال کیا، جو اب بھی جاری ہے۔

تیسری دنیا کے اس جنگل میں جہاں زر خرید اور انتقام پر آمادہ لاتعداد وحشی بستے ہیں، وہاں جنگی ساز و سامان بیچنے والے تہذیب یافتہ ممالک فرقہ وارانہ، لسانی، مذہبی، ذات پات، معاشرتی اور عقائد کے ٹیسٹر بھی اکثر آزماتے رہتے ہیں۔ اور ان کی بتی بھی اکثر و بیشتر خون جیسی سرخ ہی ہوتی ہے۔ تو جیسا کہ عرض کیا جا چکا کہ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں بتایا جا سکتا جہاں ٹیسٹر لگانے کا کھیل نہ کھیلا جا رہا ہو۔ بلکہ بقول جگنی بابا کے اب لوگ محنت، وفاداری اور جذبے کے بجائے اس کھیل کو بنیاد بنا کر آگے نکلنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ انا کے سخت اور اکڑے ہوئے دھاگوں سے مخمل کا کپڑا بننے کے چکر میں کسی بھی شخص کو ٹیسٹر لگاتے نظر آتے ہیں۔ تو ایسا ہی ایک کھیل آج کل وطن عزیز میں بھی کھیلا جا رہا ہے، جہاں اس میں شامل ٹیموں کی تعداد وقت کے ساتھ کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ یوں تو پاکستان میں اقتدار کی غلام گردشوں میں اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور، کوئٹہ، اور چند ایک دیگر اہم شہروں کی روایتی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ سب سے مستقل مزاجی کے ساتھ راولپنڈی، اسلام آباد ایک دوسرے کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹر لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں کی بدلتی صورت حال میں کھلاڑی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن کھیل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ آج کل کی ملکی صورت حال پر نظر ڈالیں تو ٹیسٹر گیم کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں اپنے عروج پر ہے، جہاں بڑے کھلاڑی ٹیسٹر کی صورت میدان میں ہیں۔ لاہور کے شاہی قلعے کا کرنٹ چیک کرنے کے لیے پی ٹی آئی چیف عمران خان، منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری و دیگر بار بار چھو کر دیکھ رہے ہیں۔ شیخ رشید نے البتہ کرنٹ چیک کرنے کی کوشش میں ہمیشہ خود جھٹکا برداشت کیا ہے۔ دوسری طرف پاک سر زمین پارٹی کے چیف مصطفیٰ کمال کراچی میں نا معلوم افراد کی صورت میں شارٹ پوائنٹ جہاں سے یہاں کے باسیوں کو ہمیشہ سے جھٹکے لگتے ہیں، ان کی وائرنگ چیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جگنی بابا کی باتیں تو بہت ہی سادہ اور سیدھی ہیں، ان کا تو کہنا ہے کہ پتر جی پاکستان کو اللہ تعالی نے الیکٹریشن بڑے سیانے دئیے ہیں، سیاست دانوں اور گروہی بنیادوں پر کام کرنے والوں نے قومی وائرنگ میں جو کٹ لگائے ہیں، انہیں ڈھونڈنے کے لیے یہ ٹیسٹر لگانا بہت ضروری ہے۔ راز کی بات یہ بتا دی کہ عمران خان، طاہر القادری، شیخ رشید، مصطفیٰ کمال اور دیگر ٹیسٹر اس طرح استعمال کیے جا رہے ہیں کہ خرابی کی اصل جڑ کو پکڑا جائے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے کیمپ سے بھی کچھ ٹیسٹر آزمائے جا رہے ہیں، جن میں محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی اور بیرونی دوستوں سمیت دیگر بھی شامل ہیں۔ جو کبھی کبھار کرنٹ کے بہاؤ کی رفتار اور سیلاب کے خدشے کو چیک کرنے میں اپنے ٹیم انچارج کو مدد دیتے رہتے ہیں۔ ماضی قریب میں مقامی سطح کے ان ٹیسٹرز میں سے آخر الذکر محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی و دیگران نے قومی غیرت اور نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے حوالہ سے مقتدر حلقوں کی رائے جانچنے کے لیے ٹیسٹر لگایا، جس کے انہیں لعنت اور پھٹکار کی صورت میں جھٹکے بھی برداشت کرنا پڑے۔ دوسری طرف اول الذکر میں سے عمران خان اور طاہر القادری کے ساتھ مل کر شیخ رشید نے حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ، قانون و انصاف کے دیگر اداروں کو ٹیسٹر لگایا، جہاں سے ابھی تک سر خ بتی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ لیکن اصل ٹیسٹر مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کی صورت میں ایم کیو ایم کو لگایا گیا، جو اس جھٹکے سے نکلنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ پی ایس پی نامی ٹیسٹر کمپنی سے مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کو اب تک 6 ایم پی ایز ڈاکٹر صغیر احمد، افتخار عالم، بلقیس مختار، اشفاق مانگی، محمد دلاور، اور ایک ایم این اے سید آصف حسنین کے استعفوں کی صورت میں شدید جھٹکے دئیے ہیں۔ جبکہ سابق اراکین اسمبلی اور بلدیات کا حصہ رہنے والوں کی بڑی تعداد ان کے ایجنڈے سے متاثر ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی وائرنگ تبدیل ہو رہی ہے، اور ہر پوائنٹ (اراکین اسمبلی کے استعفے) پر ٹیسٹر (پی ایس پی) لگا کر چیک کیا جا رہا ہے، تاکہ بعد میں جہاں بھی رہیں، کم از کم شارٹ سرکٹ سے تو بچے رہیں۔ کیونکہ یہ نہیں تو کوئی اور سہی آخر ٹیسٹر کے کھیل کی مقبولیت تو کم نہ ہوگی۔

Facebook Comments HS