میں سمجھا یہاں کا یہی دستور ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک رنگروٹ کو کافی عرصے بعد چھٹی ملی۔ جس گاؤں کا وہ رہنے والا تھا وہاں تک کسی بھی قسم کی کوئی سواری میسر نہیں تھی۔ ”ڈبلیو 11“ یعنی اپنی ٹانگوں پر چل کر یا با الفاظِ دیگر پیدل ہی سارا فاصلہ طے کرنا ہوتا تھا جو بہت طویل تھا۔ ڈھوک در ڈھوک گزرتا، دوپہر کا چلا سورج غروب ہونے کے قریب آن پہنچا لیکن اب بھی گاؤں کافی فاصلے پر تھا۔ گاؤں دیہات میں آج بھی سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے لوگ کھانا پکاکر اور کھا پی کر فارغ ہو جایا کرتے ہیں۔

سورج غروب ہونے سے پہلے ہر ڈھوک کی آبادی سے ہلکا ہلکا اٹھتا دھواں رات کے کھانے کی تیاری کا پتہ دے رہا تھا۔ فضاؤں بھی تنور کی روٹیوں کی مہک اشتہا کو بڑھا رہی تھی۔ ایک تو پیدل کا طویل فاصلہ اور دوسرے فضاؤں میں کھلی تنوری روٹیوں کی مہک نے رنگ روٹ کی بھوک کے صبر کا پیمانہ بالکل ہی لبریز کردیا تھا۔ گھر اب بھی کافی فاصلے پر تھا اس لئے ایک ڈھوک کے زیادہ نزدیک سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک مائی پر پڑی جو روٹیاں تھاپ رہی تھی اور ایک دو ڈھائی سالہ بچہ اس کے قریب بیٹھا مٹی پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔

گاؤں ڈھوک والے ایک دوسرے کے خوب واقف ہوتے ہیں، مائی کے لئے بھی یہ رنگ روٹ کوئی اجنبی نہیں تھا اس لئے ”ماسی“ کہہ کر سلام کیا اور بھوک لگنے کی شکایت کی۔ مائی نے پیار سے کہا بیٹھ پتر، میں ابھی تیرے لئے روٹیاں تھاپتی ہوں۔ مائی روٹی تھاپ رہی تھی کہ کہیں آواز کے ساتھ مائی کی ریح خارج ہو گئی۔ مائی نے جھینپ مٹانے کے لئے قریب بیٹھے اپنے بچے کی کمر پر ایک دھپ لگادی جیسے یہ شرارت بچے ہی کی ہو۔ رنگ روٹ ساری کہانی سمجھ چکا تھا۔

چلتے چلتے اس کے پیٹ میں پہلے ہی گڑبڑ مچی ہوئی تھی اس لئے ذرا سی کوشش کے بعد وہ بھی آواز نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔ آواز کے ساتھ ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور مائی کے بچے کی کمر پر ایک دھپ لگادی۔ مائی کو بڑا غصہ آیا۔ اسنے رنگ روٹ کو مخاطب کرکے کہا کہ پتر ایک تو میں تیرے لئے روٹیاں تھاپ رہی ہوں اور تو میرے ہی بیٹے کو ماررہا ہے۔ رنگ روٹ نے مائی سے کہا، معاف کرنا ماسی، میں سمجھا اس ڈھوک کا یہی دستور ہے۔

پاکستان میں ایک طویل عرصے سے اسی قسم کا مذاق جاری ہے۔ یہاں کسی کے جرم کی سزا کسی اور کو دینے کا ایسا پکا رواج ہے کہ دور و نزدیک اس بات کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آتا کہ دستور کی یہ شق کبھی آئین پاکستان سے حزف بھی ہو سکے گی۔ یہاں ہر جرم کی سزا عوام کو دی جاتی ہے۔

جنرل ضیا الحق کے زمانے سے ایک نئی ریت کی بنیاد پڑی۔ اپنے ہی تراشیدہ بت کو پہلے خدا مانا گیا اور پھر اس کو کافر کہہ کر ڈھا دیا گیا۔ ضیا کے زمانے کی جھوٹے سچے اور دکھاوے کے انتخابات کے نتیجے میں خود ہی ایک حکومت بنائی گئی لیکن پھر اسی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات لگا کر فارغ کر دیا گیا۔ کرپشن کے یہ الزامات بھی پاکستان کی ایک ایسی شخصیت پر لگائے گئے جس کا کردار بلاشبہ ہر قسم کی بدعنوانیوں سے پاک تھا اور اگر ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو پاکستان میں اتنے شریف النفس لوگ خال خال ہی ہیں ورنہ کہنے کو یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن اس میں ڈھونڈے سے نہ سچے مسلمان ملتے ہیں اور نہ ہی جموریت۔

یہ شخصیت سندھ کے ایک مشہور خاندانی سلسلے ”جونیجو“ سے تعلق رکھتی تھی اور انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی شخصیت کا نام ”محمد خان“ تھا جس کو وزارت عظمیٰ کا قلمدان بھی ایک جنرل نے یہ کہہ کر سپرد کیا تھا کہ یہ پاکستان کا ایک شریف ترین انسان ہے اور اس میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ پاکستان کی قسمت بدل کر رکھ سکتا ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد نہ تو وہ شریف رہا اور نہ ہی پاکستان کی تقدیر بدل سکا البتہ وہ نہایت ذلیل کرکے، ہزاروں الزامات اپنے سر لے کر اور درگاہ ”ضیا وندی“ سے قیامت تک کے لئے ملعون قرار دے کر نکال دیا گیا۔

ضیا الحق کے دور کے بعد خواہ سول حکومتیں بنیں (یا بنائی گئیں ) ان سب کو بھی کرپشن کے الزامات لگا کر توڑا گیا۔ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات کا سلسلہ اب اتنا دراز ہو چکا ہے کہ شاید ہی پاکستان میں کوئی شریف کہلائے جانے کے قابل رہ گیا ہو۔

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ پوری دنیا کو ایک گائے نے اپنے سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ دنیا میں جو ہلکے یا زوردار زلزلے آتے ہیں یہ محض اس لئے آتے ہیں کہ جب گائے تھک کر دنیا کو ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتی ہے تو زمین لرز اٹھتی ہے بالکل اسی طرح جب بھی ہماری کوئی حکومت بدلتی ہے اور دوسری حکومت آتی ہے تو پورے پاکستان میں کرپشن کرپشن کی چیخ و پکار کا ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے اور آنے والا جانے والے کے پیچھے پورے بینڈ باجوں کے کے ساتھ ڈھول پیٹتا ہوا دوڑ کھڑا ہوتا ہے کہ دیکھو دیکھو کون بھاگا چور بھاگا چور بھاگا۔

چور چور کہتا جاتا ہے اور ہرشے کی قیمتوں میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اٹھنے والے شور کے طوفان میں کسی کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کایا کہاں سے کہاں تک الٹ چکی ہے وہ تو جب اشیائے خردنی و ضروریہ کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہیں اور روٹیاں گلوں میں پھنس کر زندگی کی ڈور کھینچنے لگتی ہیں تب کہیں جاکر عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ چور چور کا شور مچانے والا تو خود سب سے بڑا چور تھا جو اس کے تن بدن کے کپڑے تک اتار کر اسے الف ننگا کر گیا۔

چور چور کا شور مچایا جارہا ہے۔ عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ چوروں کو پکڑا جارہا ہے اور سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ نواز چورپکڑا گیا، پٹول مہنگا کردو۔ زرداری کی چوریاں الم نشرح ہو گئیں اس خوشی میں گیس بھی مہنگی کردو۔ شہباز شکنجے میں آگیا، بجلی کی قیمت بڑھا دو۔ گزشتہ دس بارہ سال کی حکومتوں کو احتساب ہونا ہے، روپے کو ردی بنا کر رکھ دو۔ عوام کے لئے 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے ہیں، ہستی بستی بستیاں مسمار کردو۔

لوگوں کو ایک کروڑ ملازمتین دینی ہیں، ملوں اور کارخانہ داروں کے حالات اتنے خراب کردو کہ دو کروڑ افراد بے روزگار ہوجائیں۔ خالی راشیوں، بدعنوانوں، ملک کی دولت کو باپ کی جاگیر سمجھ کر لوٹنے والوں کی چیخوں کا کیا مزا آئے گا، ان کی چیخوں کی گیتوں کے صوتی اثرات (بیک گراؤنڈ میوزک) کے لئے عوام کی بلند ہوتی ہوئی چیخیں جب تلک سماں نہیں باندھیں گی، درد بھرے گیت کا آخر کیا لطف آئے گا اس لئے عوام پر عرصہ زندگی اتنا تنگ کردو کہ پورا پاکستان چیخ اٹھے۔ ملک کی دولت لوٹنے والوں کی سزا اگر عوام کو نہیں دی جائے تو کیا یہ عین انصاف ہوگا؟ یہی تو وہ بد بخت ہیں جو ہر سبزباغ دکھانے والے کے پیچچھے دم ہلاتے دوڑ جاتے ہیں اس لئے چیخوں کے بول کے ساتھ عوام کی چیخوں کے صوتی اثرات گیت میں وہ جان ڈال دیں گے کہ ہر کان میں رس کھول کر رکھ دیں گے۔

لوٹا لوٹنے والوں نے، سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ ملک کی معیشت کو تباہ و برداد کیا مل اونرز نے، سزا عام کو دی جارہی ہے۔ جائیدادیں بنائی لٹیرے سرمایا داروں نے، مکانات غریبوں کے گرائے جا رہے ہیں۔ بڑی بری ملیں اور کارخانے بنائے فراڈیوں نے اور چھوٹی چھوٹی دکانیں، ٹھیلے، خوانچے، ریڑھیاں اور کھوکھے غریبوں کے ڈھائے جارہے ہیں۔ ملک کی دولت کو باہر لیجانے اور بڑی بڑی کوٹھیاں، فلیٹ، مکانات اور جزیرے خریدیں ملک کی مقدتر، مضبوط اور لمبے ہاتھوں والی ہستیاں اور چھاپے ریڑھی بانوں، خوانچہ فروشوں، ٹھیلے والوں اور گھر گھر آواز لگا کر اپنے بیوی بچوں کے لئے نان شبینہ کا انتظام کرنے والوں پر مارے جائیں۔

رات دن ٹی وی چینلوں پر ایک نئی ڈرامہ سیریز چل رہی ہوتی ہے اور اس کا ایک ہی موضوع ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے پر بڑے بڑے اور گھٹیا الزامات لگانا۔ وہ چینل جن کا کام عوام تک درست، مستند اور سچی خبریں سنانا یا لوگوں کے لئے اصلاحی پروگرام نشر کرنا ہوتا ہے وہ رات دن ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور عوام کے اخلاق بگاڑنے کی مشن پر مصروف نظر آتے ہیں۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ ہر حکمران، ہر مقتدر ادارے اور با اختیار محکمے نے یہ طے کر رکھا ہے کہ ملک میں خواہ کوئی بھی لوٹ مار کررہا ہو، کوئی کسی بھی جرم میں ملوث ہو، اس ملک کی بنیادیں کوئی بھی ہلارہا ہو، اس کی حقیقی یا نظریاتی سرحدوں کی کوئی بھی بیخ کنی کررہا ہو حتیٰ کہ اس ملک کے دشمنوں کے ساتھ کسی کی کتنی بھی یاری ہو، سزا عوام ہی کو دینی ہے۔ مہنگائی کرنی ہے، معیشت برباد کرنی ہے، شاہی سواریوں کے لئے شاہراہیں بند کرنی ہیں، اپنے لئے ہر عیاشی کا سامان جمع کرنا ہے۔ گویا پاکستان کا آئین و قانون اور رنگ روٹ کے گاؤں کے درمیان جو ڈھوک ہے اس کا دستور یہی ہے کہ آوازیں خود نشر کرو اور اس کی سزا دو ڈھائی سالہ معصوم بچے کو دو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •