اوِئے تم تو ہندو ہو تمہارا کیا واسطہ قرآن سے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یقین مانیں کہ میں نے قرآن پاک کا مطالعہ صرف اس وجہ سے نہیں کیا کہ میں جدی پشتی مسلمان ہوں اور اس کو پڑھنا میرے لئے فرض ہے۔ یا پھر اس کو پڑھنے کے فضائل کی دھاک سے بھی اس کی طرف مائل نہیں ہوا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر میں مسلمان نہ بھی ہوتا تو قرآن کو پڑھ اور سمجھ کر تب بھی اس پر فدا ہو چکا ہوتا۔ اس حوالہ سے میرا پیدا ہوتے ہی مسلمان کہلایا جانا ایک اضافی نعمت ہے جو مجھے بغیر کسی تگ و دو کے حاصل ہو گئی۔

قرآن مجھے ہمیشہ اپنے ایک یوزر مینول کی طرح لگتا ہے۔ جو مجھے میری بنیاد اور اوقات کے بارے آگاہی دیتا ہے۔ میں کیا تھا، ہوں اور کیا ہوں گا جیسے سوالوں کا جواب دیتا ہے۔ جو کہیں مثالوں سے، کہانیوں سے، کہیں ڈانٹ ڈپٹ کے جلد باز، نا شکرا کہتے ہوئے اور کہیں ڈراتے ہوئے مجھے سیٹ رکھتا ہے۔ تبھی جو باتیں اور احکامات واضح ہیں ان پر عمل کرنے میں لگا اور جو متشابہات ہیں اس پر غور و فکر کی سعی جاری رکھی کہ یہی قرآن کا بھی فرمان ہے۔

ہمیشہ اس کو کہیں نفاست سے لپٹے یا بہت ساری کتابوں کے درمیان پڑے ہوئے دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ کتنا معصوم ہے۔ ہم نے اسے اپنے اپنے مقصد کے حصول کے لئے، اپنی مرضی کی تشریح کرتے ہوئے، اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا ہے۔ ایک آسان سی کتاب کو اتنا مشکل بنا کر پیش کیا یا پھر صرف ثواب کمانے کا سبب بنا دیا۔ عزت و احترام سے لپیٹ کر اونچائی میں رکھ دیا۔ اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں کا ٹیگ لگا کر عام لوگوں سے دور کر دیا۔ جو کتاب اس کائنات کے ہر فرد کے لئے ہے اسے صرف مسلمانوں کی مذہبی کتاب کہہ کر صرف انہی کے لئے مخصوص کر دیا۔

یہ قرآن کی معصومیت ہی تو ہے کہ اسے جس نے جیسے چاہا استعمال کیا مگر اس نے کچھ نہ کہا اور چپ چاپ وہی بیان کرتا رہا جو اس میں ازل سے ہے۔ قاتل کو بھی وہی پیغام جو مقتول کو، شریف کو بھی ویسا ہی سمجھایا جو بدمعاش کو، حرامی، حلالی، زناکار، بدکار، پرہیزگار، ایمان دار، کرپٹ، سود خور، امیر، لا دین، غریب، کرسچن، یہودی غرض کے ہر انسان کے لئے ایک جیسا پیغام، احکامات اور رہنمائی۔ کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ جو مرضی پڑھے۔ مگر ہم مسلمانوں نے ہی اس کو کو اکیلا کر ڈالا۔ اوروں سے الگ تھلگ کر کے اسے بے زبان کر ڈالا۔ اس کا مفہوم جاننے کی بجاے اپنی پسند کی تشریح کرتے فرقہ واریت میں الجھ کر خود کو اقوامِ عالِم سے تنہا کر کے کمزور بنا لیا۔

کیا ہی اچھا ہو اگر اس عظیم کتاب کو اسی کی مرضی کے مطابق رہنے دیں۔ وہ جو بیان کرتی ہے اس کو سنیں اور سمجھیں۔ اس کو تنہائی کا شکار نہ بنایں۔ جو مرضی اس سے فائدہ اٹھایے ہمیں کیا ہے۔ کیوں نہیں ہم اس کو کسی غیر مسلم کو بھی اسی چاہت سے پڑھنے دیتے جیسے ہم پڑھتے۔ کیا اس کا صرف مسلمانوں کے گھروں میں ہونا ہی باعثِ برکت ہے؟ کسی غیر مسلم کو کوئی نفع نہیں مل سکتا؟ کیا اس کی زندگی میں بدلاؤ نہیں آ سکتا؟

تو صاحبو اس تحریر کی وجہ ایک بک شاپ پر ایک مسلمان صاحب کا ایک غیر مسلم کو یہ کہنا والا جملہ تھا کہ ”اوے توں تا تھوڑی آں تیرا کی کم قرآن نال ( او تم تو تھوڑی ’ہندوں کی نچلی ذات‘ ہو تمہارا قرآن سے کیا واسطہ) ۔ تو اس ہندو صاحب نے تھوڑا ڈرتے کہا کہ میری بیٹی کی شادی ہے تو برکت کے لئے ساتھ دینا ہے۔ تو وہ مسلمان پھر بولا کہ مسلمان ہو جا، اس کو پڑھ کے دیکھ ایسے رکھنے کا کیا فائدہ۔

خیر میرے لئے یہ ایک تکلیف دہ مکالمہ تھا۔ تبھی خیال آیا کہ اسے صرف شیلف پر سجانے والی کتاب کس نے بنایا؟ صرف اس کے رکھنے کو ثواب کس نے بتایا؟ صرف مسلمانوں کی ہی پڑھنے والی کتاب کس نے بنایا؟ کیا قرآن نے خود؟ نہیں نا؟ تو ہوا نا پھر قرآن معصوم؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •