ایک کالم: مردوں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے کی کیا دنیا کی مظلوم ترین صنف عورت ہے۔ جس کی مظلومیت کی حد ابھی تک مقرر نہیں ہو سکی۔ عورت مغرب کی ہو یا مشرق کی اس پر خود کو مظلوم ثابت کرنا فرض ہے۔ ہر عورت کو لگتا ہے کہ وہ اس معاشرے کی مظلوم ترین عورت ہے۔ اور جتنا ظلم اس پر ہوتا ہے دنیا میں کسی پر نہیں ہوتا۔ حد تو یہ ہے کہ ہر عورت اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میرا ہی حوصلہ ہے جو تمھارے ساتھ گذارہ کر رہی ہوں۔ میری جگہ کوئی اور ہوتی تو کب کی جا چکی ہوتی۔

اور حیرانی کی بات کہ یہی الفاظ بنا ردو بدل کے ہر عورت اپنے شوہر سے کہتی ہے۔ عورت ہر دوسرے انسان سے اپنے شوہر کی برائی کرتی نظر آتی ہے۔ حد تو یہ کہ وہ انسان سے تو کیا دیواروں کو بھی خاوند کی برائیوں سے آگاہ کر رہی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیے تو میں نے عورت کے بہت ہی بھیانک روپ دیکھے ہیں وہ مرد پر حاکم بننے کے لئے منصوبے بناتی رہتی ہے۔ وہ اس مرد کو اپنا محکوم بنانے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے جس نے اپنے گھر کی سلطنت اسی کو سونپ رکھی ہوتی ہے۔

اسے شکوہ ہے کہ مرد اس کو پیسے نہیں دیتا اور اس کے لئے وہ تعویذ گنڈے کرنے والوں کے پاس جا کر مرد ہی کا کمایا پیسہ اجاڑ کر آ جاتی ہے۔ یہ سوچے بنا کہ اگر اس کا مرد اسے خرچ نہیں دیتا تو جادو ٹونہ کروانے کے لئے اس کے پاس پیسہ کہاں سے آیا۔ معاشرے کی پچاس فیصد خواتین اپنے مرد کے پیچھے ان کی عزت کا جنازہ نکال رہی ہیں۔ اپنی مظلومیت کا رونا رونے والیوں کو کبھی اپنے اس قبیح فعل پرشرمندگی بھی نہیں ہوتی۔ غیر مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات بنا نے والیوں کے مردوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں، شملے گر جاتے ہیں اور جنھیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے وہ اکڑتی پھرتی ہیں۔ (معاشرے کی پچاس فیصد عورتوں پر اس قدر سنگین الزام لگاتے ہوئے آپ کو چاہیے تھا کہ اپنے موقف کی تائید میں کسی مستند تحقیق یا سروے کا حوالہ دیتیں۔ آپ نے ایسا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مدیر)

اور الٹا شوہر ہی کو برا بھلا کہتی ہیں کہ یہ جھوٹا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا شوہر دنیا کا ظالم ترین انسان ہے۔ عورت کو جاذب نظر مرد چاہیے۔ خوبصورت جملے بولنے والا، دلکش سیلری والا مرد چاہنے والی عورت اپنے رویے کی بدصورتی جانے کیوں بھول جاتی ہے۔ اگر دیانت داری سے دیکھا جائے تو مرد ظالم نہیں ہے۔ کسی بھی عورت کا شوہر اسے ایک مضبوط چھت مہیا کرتا ہے۔ گھر کی عورت پر بری نظر رکھنے والے کو جان سے مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ (قانون کو ہاتھ میں لینے کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے خواہ اس کے لئے کوئی بھی جواز دیا جائے۔ کجا یہ کہ قتل جیسے جرم کے لئے ستائشی لہجہ اختیار کیا جائے۔ مدیر)

وہ عورت کی عزت کا محافظ بنتا ہے اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہے۔ اس کے بچوں کا خیال رکھتا ہے۔ بیوی بچوں کی ضروریات زندگی کو مہیا کرنے کے لئے دن رات محنت کرتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کو اپنی بساط سے بڑھ کے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر حد تک چلا جاتا ہے۔ کڑی دھوپ میں کھلے آسمان تلے سارا دن مزدوری کرتا ہے۔ اپنے خاندان کے چہروں پر خوشی دیکھنے کے لئے، ان کو سہولیات دینے کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کثیر المنزلہ عمارتوں پر چڑھ کے مزدوری کرتا ہے۔

جان ہتھیلی پہ رکھ کر کمایا پیسہ اپنی عورت کو لاکر دیتا ہے۔ وہ اس محنت سے کمائے پیسے کو اپنے پاس نہیں رکھتا۔ بیوی اور بچوں پہ خرچ کرتا ہے۔ خود پھٹے کپڑے پہن کر مزدوری کرنے والا بیوی بچوں کو نئے کپڑے لاکر دیتا ہے۔ مرد کا حوصلہ ہے کہ وہ محنت سے کمایا ہیسہ لا کر عورت کی ہتھیلی پہ رکھ دیتا ہے۔ کیا یہ ظلم ہے ایک۔ مرد کا؟ عورت بیوی کے روپ میں ہو یا ماں کے وہ دونوں کے لئے سب کچھ کرتا ہے۔ لیکن بہت معذرت کے ساتھ کہ دونوں ہی اس کی قدر نہیں کرتیں۔

دونوں اس کی احسان مند ہونے کے بجائے اس پر لعن طعن کرتی ہیں۔ دونوں مرد پر حق جماتی ہیں۔ دونوں مرد کی کمائی کھاتی ہیں اور دونوں کہتی ہیں کہ ہمیں تم نے کچھ نہیں دیا۔ دن کے تھکے ہارے مرد کو اپنی زبان کے نشتر چلا کر مزید تھکاتی ہیں۔ وہ مرد جس کی پیدائش کے لئے عورت مری جاتی ہے کہ اس کے گھر بیٹا ہو۔ اسی بیٹے کی شادی کرتے ہی اس کا جینا محال کر دیتی ہیں۔ ماں کا فرمانبردار بیٹا نکاح کے دو بول پڑھتے ہی نا فرمان اور سب سے بڑا مجرم بن جاتا ہے۔

بیوی اسے ماں کا غلام اور ماں اسے زن مرید کہتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ وہ بیچارہ دونوں ہی کا غلام ہوتا ہے۔ اسے دونوں ہی عورتوں سے محبت ہوتی ہے۔ مرد اپنی ساری کمائی عورت کے ہاتھ میں یہ کہہ کر تھماتا ہے کہ یہ لو اپنے پیسے۔ مجھے کسی مرد کی سب سے خوبصورت بات یہ لگتی ہے کہ دو عورتوں ماں اور بیوی کے درمیان گھن چکر بنا مرد ان دونوں کو کبھی یہ نہیں کہتا کہ میرا ہی حوصلہ ہے جوتم دونوں کے ساتھ گزارا کرتا ہوں۔

باہر کے جھمیلوں میں الجھا، دن کا تھکا ہارا مرد اتنا حق تو رکھتا ہے کہ اس کے اہل خانہ اس کے گھر کا ماحول خوشگوار رکھیں۔ اسے ذہنی سکون عطا کریں۔ نا کہ الگ الگ کمروں میں اس کے آگے شکایات لگا لگا کر اس کو ذہنی طور پر ٹارچر کریں۔ کیا مرد کا مرد ہونا جرم۔ ہے؟ میں نے مرد کو دو عورتوں کے بیچ پستے دیکھا ہے۔ کیا مظلوم صرف عورت ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ۔ مرد عورتوں سے زیادہ مظلوم ہے لیکن یہ مانتا کوئی نہیں۔ اور اس کا ادراک خود مرد کو بھی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •