سیزر کی بیوی اور احتساب کی اندر سبھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صورت حال کو سیدھے سیدھے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تشویش یہ ہے کہ اگر معاشرے میں مصلحت اور خاموشی کی ثقافت پھیل جائے تو درد کے درماں کا امکان بھی مفقود ہو جاتا ہے۔ بحران ایک خاص نقطے سے گزرنے کے بعد ایسی ہمہ گیر خرابی میں ڈھل جاتا ہے جہاں زوال کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں رہتا۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ایک کر کے روزن بند کر رہے ہیں۔ ایسے میں بہتر یہی ہے کہ ایران توران کی داستانیں کہی جائیں۔ تاریخ اور جغرافیے کی بھول بھلیوں سے گزرتے ہوئے کوئی آدھی ادھوری بات بے راہ رو ہو جائے تو اسے بھول چوک کے دفتر میں شمار کیا جائے۔

سلطنت روما کی ایک حکایت دیکھتے ہیں۔ جولیس سیزر نے 67 قبل مسیح میں پومپیا نامی خاتوں سے شادی کی۔ سیزر، اپنے منصب کی رعایت سے، رومن مذہب کا اعلیٰ ترین عہدے دار بھی تھا۔ اس عہدے پر فائز شخص کی بیوی کو ہر برس نیکی کی دیوی کا ایک خاص جشن منعقد کرنا ہوتا تھا جس میں صرف عورتیں شریک ہوتی تھیں۔ کسی مرد کو اس مجلس میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

ایک برس روم کا ایک نامور شخص کلاڈیس بھیس بدل کر اس تقریب میں داخل ہو گیا۔ اور گرفتار ہو گیا۔ الزام تھا کہ وہ سیزر کی بیوی پومپیا کو ورغلانے کی نیت رکھتا تھا، مقدمہ چلا۔ سیزر نے تمام شواہد کے باوجود کلاڈیس کے خلاف گواہی نہیں دی لیکن اس کے بری ہوتے ہی اپنی بیوی پومپیا کو یہ کہہ کر طلاق دے دی کہ سیزر کی بیوی کو شک سے بالا ہونا چاہیے۔ سیزر کی اہلیہ کو تھوڑی دیر کے لئے بھول کر سابق مشرقی جرمنی چلتے ہیں۔

اگست 1990 میں جرمنی کے دونوں حصے پھر سے یکجا ہوئے تو 45 برس کے پردے میں چھپی کہانیاں بھی سامنے آئیں۔ 2006 میں ’دوسروں کی زندگیاں‘ (The Lives of Others) کے عنوان سے بننے والی فلم نے تہلکہ مچا دیا۔ یہ فلم مشرقی جرمنی کے خفیہ ادارے سٹاسی (Stasi) کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر اپنے ہی شہریوں کی زندگی میں مداخلت کی کہانی ہے۔ نظریے کے نام پر ریاست کو کیسے زوال آتا ہے، کار سرکار میں کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، فرد پر کیا عذاب اترتے ہیں۔ بظاہر قانون اور ضابطے کی بے داغ چادر تلے جرم اور بدعنوانی کے دھبے کیسے نمودار ہوتے ہیں۔ معیشت کیسے تباہ ہوتی ہے، تمدن کی سانس کیسے گھٹتی ہے؟

2006 میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی یہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ صرف ایک منظر سن لیجیے۔ سٹاسی کا ایک کارندہ گرڈ وائزلر لفٹ میں داخل ہوتا ہے۔ کوئی چار برس کا ایک معصوم سا بچہ ایک بڑی سی گیند اٹھائے لفٹ میں موجود ہے۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد بچہ وائزلر سے مکالمہ کرتا ہے۔

آپ واقعی سٹاسی والے ہو؟ (وائزلر) تمہیں معلوم ہے کہ سٹاسی کیا ہوتی ہے؟ (بچہ) ہاں، سٹاسی والے برے لوگ ہوتے ہیں جو کسی کو پکڑ کر قید کر لیتے ہیں۔ (وائزلر) تمہیں کس نے بتایا؟ (بچہ) میرے ابا نے۔ (وائزلر۔ شکرے جیسی تیزی سے ) کیا نام ہے تمہارے۔۔۔؟ (بچہ) کس کا نام؟ (وائزلر بچے کی معصومیت پر ہچکچا جاتا ہے ) میرا مطلب ہے۔ تمہاری گیند کا کیا نام ہے؟ (بچہ) پاگل ہو کیا؟ گیند کا بھی کوئی نام ہوتا ہے؟

اس مکالمے سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر ریاست کا حقیقی چہرہ اس حد تک بے نقاب ہو جائے کہ معصوم بچے بھی اس کے خدوخال جان لیں تو سمجھ لیجیے کہ اب دامن یوسف کی بخیہ گری مشکل ہو چکی۔ سیزر کی بیوی کا قصہ یہ ہے کہ ہمارا نظام عدل 10 مئی 1955 ءسے کٹہرے میں ہے۔ اس روز جسٹس منیر نے مولوی تمیز الدین کی آئینی درخواست مسترد کی تھی۔ اس فیصلے کی قانونی حقیقت خود جسٹس صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد 22 اپریل 1960 کو لاہور بار ایسوسی ایشن سے الوداعی تقریر میں بیان کر دی تھی۔

’فیڈرل کورٹ کا فیصلہ دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس مقدمے کے فیصلے نے ججوں کو جس اذیت سے دوچار رکھا، الفاظ اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ججوں کی اس کیفیت کو عدالتی ایذا رسانی کہنا چاہیے۔ ‘ اگر 1955 میں دباؤ کا یہ عالم تھا تو ڈوسو کیس کی حقیقت معلوم۔ اعلیٰ عدلیہ پر دباؤ کی تاریخ کا ایک منظر تو یہی ہے کہ نصرت بھٹو کیس کے ٹائپ شدہ فیصلے میں جنرل ضیا الحق کے لئے ’آئینی ترمیم کا اختیار‘ جسٹس انوار الحق نے 9 اور 10 نومبر 1977ء کی درمیانی شب اپنے ہاتھ سے ایزاد کیا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے سائے آج بھی ہماری سیاست پر منڈلا رہے ہیں۔ حاجی سیف اللہ کیس میں وسیم سجاد کی بھاگ دوڑ 29 مارچ 1993 کو جسٹس افضل ظلہ کی عدالت میں ثابت ہو گئی۔ ظفر علی شاہ کیس میں جسٹس ارشاد حسن کی اطاعت گزاری تاریخ کا حصہ ہے۔ جسٹس افتخار محمد اور جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں ایگزیکٹو میں مداخلت سامنے کی بات ہے۔ رکوڈیک کیس میں چھ ارب ڈالر کا عدالتی جرمانہ ابھی سامنے آیا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار ڈیم فنڈ کے نو ارب روپے اچانک چھ کروڑ رہ گئے۔ ہم نے جسٹس شوکت عزیز کو سبکدوش کر دیا اور جسٹس فائز عیسیٰ کا معاملہ زیر سماعت ہے۔ سیزر کی بیوی کی کچھ دستاویزات چیئرمیں نیب کے معاملے میں باہر نکلیں تو کچھ جج ارشد ملک کے پیمانے سے چھلک اٹھیں۔ نتیجہ یہ کہ احتساب کے تنبو کی طنابیں اکھڑ رہی ہیں۔

ہم نے ریاست اور یہاں رہنے والوں کو ایک ایسے پھیلے ہوئے ہمہ جہتی جرم کی سازش بنا دیا ہے جس میں پوری قوم کا ضمیر آلودہ ہو رہا ہے۔ سیاسی قیادت کا احتساب تو ہماری تاریخ کا مستقل ضمیمہ رہا ہے لیکن ہم نے گزشتہ دس برس میں کرپشن کے احتساب کو ایک ہتھیار کی صورت میں اس نیم خواندہ ہجوم کو تھما دیا ہے جس نے نفرت، خود ترسی، خود فریبی، خود پسندی اور احساس کمتری کے خمیرہ مغلظ بہ ورق نقرہ پیچیدہ پر پرورش پائی ہے۔ ہم نے عوام کو مسائل سمجھنے اور حل کرنے کا ہنر سکھایا ہی نہیں۔ چنانچہ وہ ہر وقت ایک معجزے اور ایک مسیحا کی جستجو میں ہیں۔ کبھی وہ ایٹمی صلاحیت کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔ کبھی رکو ڈیک کے سونے پر نگاہیں جما کے بیٹھ جاتے ہیں۔ کبھی تھر کے کوئلے میں انگلیاں پھیرتے ہیں۔ کبھی سمندر سے تیل نکلنے کی خبر سن کر ناچتے ہیں۔ کبھی انہیں چنیوٹ کے پاس لوہے کے ذخائر نظر آتے ہیں۔ کبھی سوئس بینکوں سے دو سو ارب ڈالر کی واپسی کا انتطار کرتے ہیں۔ جب یہ خواب پورے نہیں ہوتے تو وہ ’چند ہزار لٹیروں‘ کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اجتماعی بندوبست کی ناکامی کو کسی نامزد گروہ سے اندھی نفرت میں بدلنا فسطائی ہتھکنڈہ ہے۔ حکومت فسطائی ہے یا نہیں، ہم نے ملک میں فسطائیت کی نفسیات پیدا کر دی ہے۔ حالیہ واقعات میں کسی کو خیال آیا کہ عشروں پہلے ہم نے جرم اور گناہ کو گڈمڈ کر کے آج کی عریاں رسوائی کا دروازہ کھولا تھا؟ آمریت ریاست اور حکومت میں فرق نہیں کرتی۔ اسی سے اداروں کی خجالت کا سامان ہوا ہے۔ ہم نے معیشت اور سیاست کا نامیاتی تعلق ختم کر کے اپنی ترقی پذیر معیشت کو قریب قریب ناممکن صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ ریاست اور عوام میں اعتماد کا بحران بڑھ رہا ہے۔ یہ بحران احتساب کی اندر سبھا سے حل نہیں ہو گا، معاشی استحکام کے لئے شفاف سیاسی عمل کو موقع دیجئے ورنہ سال رواں کے آخر تک معاملات خطرناک رخ اختیار کر لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •