خان صاحب بہتر وزیر اعظم یا ”ڈرائیور“۔


عمران خان صاحب بلند بانگ دعووں کے ساتھ میدان میں اتر ے تھے اور عوام نے بھی اُنکے ساتھ اُمید یں وابستہ کی ہو ئی تھیں، لگتا تھا کہ خان صاحب عوام کی اُمیدوں پر پو رے اتر یں گے مگر جب سے خان صاحب حکو مت میں آئے ہیں، عوام کو واقعی میں ہی آٹا دال کا بھاؤ معلوم ہو گیا ہے۔ مہنگائی دن بہ دن عوام کی اُمیدیں اور کمر توڑ ر ہی ہے مگر ان سب کے ساتھ ہی میں خان صاحب کی ایک بات کی تو مداح ہو گئی ہوں کہ خان صاحب بہتر وزیراعظم بنے ہیں یا نہیں مگر ڈرائیور بہت ہی لا جواب بنے ہیں کیو نکہ جب سے حکو مت میں آئے ہیں ایک کام تو بہت شوق سے کر ر ہے ہیں اور وہ ہے ”ڈرائیوری“ بلکہ میں عوام کو اس بات کی خوش خبر ی بھی دینا چاہتی ہوں کہ آپ نے بہتر وزیراعظم نہیں بلکہ ایک بہتر ین ”ڈرائیور“ چُنا ہے مگر یہ ڈرائیوری والی پیشکش صرف اور صرف امیر ممالک کے سر براہان کے لئے آپ یا ہم اس پیشکش سے استعفادہ نہیں اُٹھا سکتے۔

خان صاحب ایسے بڑ ے دل والے انسان ہیں کہ جب بھی کسی بڑ ے اور ایسے ملک کا سر براہ پاکستان تشر یف لاتا ہے جس نے امداد کے نام پر ہماری جھو لی ڈالرز، ر یال، سے بھر نی ہو تی ہے تب خان صاحب پہنچ جاتے ہیں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر نے اور بہت عزت سے مہمان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور بڑ ی سی گاڑی میں بٹھاکر خود اسٹیرنگ سنبھال لیتے ہیں۔ مہمان اس سے اتنا خوش ہو تا ہے کہ مزید نواز شات کر کے جاتا ہے بلکہ مہمان کو تو اپنی قسمت پر ر شک آتا ہے کہ واہ کیا قسمت ہے پر کشش اور ہنڈسم شخص ہمارے لئے کیا محبت سے گاڑی چلا ر ہا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد ہوں یا قطر کے امیر خان صاحب سب کے لئے حاضر ہیں۔ سعودی ولی عہد تو خان صاحب کی ڈرائیوری سے اس قدر متا ثر ہو ئے اور یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”سعودی عرب میں مجھے پاکستان کا سفیر سمجھیں“ اور اس بات کو خوب بڑ ہا چڑ ہا کر ہمارے اخبارات میں شائع کیا گیا۔ مگر یہاں میں یہ بات پھر دہراتی جاؤں کہ خان صاحب کی ڈرائیوری والی سہو لت امیر ممالک کے سر براہان کے لئے ہے جس سے ہمیں اُمید ہو تی کہ اس سے ضرور کچھ نہ کچھ دے کر جانا ہے۔

غر یب ممالک کے سر براہان پر خان صاحب نہ اپنی مہارت ضائع کر تے ہیں اور نہ ہی اپنا و قت۔ اس کی مثال یہ ہے پچھلے د نوں افغانستان کے صدر اشرف غنی پاکستان تشریف لائے تھے تو خان صاحب اُنکو خوش آمدید کہنے کے لئے گاڑی سمیت مو جود نہ تھے کیو نکہ وہ ایک ایسے ملک کے صدر تھے جن کے اپنے لو گوں کا بو جھ پاکستان کئی سالوں سے افغانستان ”مہا جر ین“ کی شکل میں اُٹھا رہے ہیں۔ ویسے گاڑی چلانے پر نا قدین خان صاحب پر بلا جواز تنقید کرتے ہیں میں اس سے متفق نہیں ہو ں کیو نکہ خان صاحب کا یہ رویہ ہمارے معاشر ے کی بہتر انداز میں عکاسی کر تا ہے۔

ہمارے ہاں بھی جب کو ئی امیر ر شتے دار آتا ہے تو ہم بھی اُسکی خاطر مدارت میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں۔ گھر میں سب سے بہتر ین چادریں نکالی جاتیں ہیں، بکر ے کا گو شت منگوایا جاتا ہے چاہے خود سال بھر کھا نا نصیب نہ ہومگر امیر ر شتے دار کے آنے پر ”اوکھے سُوکھے“ ( مطلب کہ خود کو مشکل میں ڈال کر منگوایا جاتا ہے ) کھڑکیوں کے پر دے دھوے جاتے ہیں ٍ، صوفوں کے کور بدلوائے جاتے ہیں۔ یہ سب اس سوچ کے ساتھ کیا جا تا ہے کہ کہ بھئی امیر لوگ ہیں جاتے ہو ئے بچوں کے ہاتھ پر چند ہزار روپے ویسے ہی ر کھ دیں گے۔

فروٹ اور مٹھائی بھی تو لے کر آئیں گے۔ اس لئے امیر ر شتے دار کی آمد پر اضافی خرچ کر نا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر غر یب رشتے دا رآجائے تو پہلے تو اُس کی آمد پر گھنٹہ بحث ہو تی ہے۔ کہ کیا ضرورت تھی آنے کی اتنی گر می ہے بھئی آرام سے اپنے گھر بیٹھو خود بھی آرام سے ر ہتے اور ہمیں بھی رہنے دیتے۔ پھر پکوان کی بات کی جائے تو مر غی کا سالن بنایا جاتا ہے اور اُس میں بھی شوربہ اس قدر پتلا رکھا جاتا ہے کہ مہمان ڈبکی لگا کر بوٹی تلاش کر تا ہے ”انوسٹمنٹ“ اس لئے زیادہ نہیں کی جاتی کہ اس نے کیا دے کر جانا ہے بلکہ اُلٹا ہمارا ہی بجٹ خراب کر کے جا ئے گا۔

اسی طرح خان صاحب بھی سیانے ہیں کہ آو بھگت اُنکی کر و جو آپ کا بو جھ ہلکا کر کہ جا ئے اور آسانیاں پیدا کرے ناکہ وہ جو کہ مزید مشکلات پیدا کر ے۔ کہتے ہیں نہ کہ جیسی قوم ہو گی و یسا ہی حکمران ہو گا ہمیں بحیثیت قوم اپنی غلطیاں تو نظر آتی نہیں ہیں اس لئے بے چارے خان صاحب پر تنقید کرتے ہیں۔

آخر میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ خان صا حب آپ بے شک اچھے ”ڈرائیور“ بنیں ہم کو اس پر اعتراض نہیں ہے مگر جو ملک کی ڈرائیوری آپ کو سو نپی گئی ہے اُس کی طرف بھی تو جہ دیں اُس کو بھی اُسی شوق اور نیک نیتی کے ساتھ چلائیں جس شوق اور نیک نیتی سے آپ امیر سر براہان کی گاڑی چلاتے ہیں۔ ہم آپ سے بہتر سے بہتر ین کی تو قع اور اُمید رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS