کرکٹ قوانین میں تبدیلی ناگزیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ورلڈکپ فائنل کے ونر کا جس طرح فیصلہ ہوا اس پر بہت سے لوگ تنقید کررہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر انگلینڈ کو جتوایا گیا، جبکہ کچھ قوانین پر تنقید کررہے ہیں۔ آپ کا موقف کوئی بھی ہو لیکن کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے ایونٹ کا اس انداز میں فیصلہ کرنا انتہائی بے ہودہ بات ہے۔ یہ گلی محلے کی کرکٹ نہیں کہ آپ ایسے گھٹیا قوانین کے ذریعے میچ کا فیصلہ کردیں۔ لیکن ایک بات لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ قوانین کل نہیں بنائے گئے، بلکہ تمام ممالک کی مشاورت سے اور متفقہ طور پر بحث کے بعد لاگو کیے گئے۔ آپ ان کی نوعیت پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ انگلینڈکو جتوانے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا یہ بھی جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔ کیا آئی سی سی کو ایسے قوانین بناتے وقت علم تھا کہ ورلڈکپ کا فائنل ٹائی ہوگا یا پھر سپر اوور بھی ٹائی ہو جائے گا؟

قوانین بنتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد اگر ان میں خامیاں نظر آئیں تو تبدیل بھی کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عمران خان سے پہلے میچ کے دوران ایمپائر میزبان ٹیم کے ہوتے تھے اور جہاں میچ پھنسا یا میزبان کو شکست نظر آنے لگی، کچھ ایمپائر بے ایمانی کرجاتے تھے اس طرح جیتی ہوئی ٹیمیں بھی ہار جاتی تھیں۔ عمران خان نے اس پر زور دیا کہ میچ کے دوران نیوٹرل ایمپائر ہونے چاہئیں۔ کچھ عرصہ بحث کے بعد آئی سی سی کو بھی علم ہو گیا کہ یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ میچ کے دوران ایمپائر نیوثرل ہی ہونے چاہئیں۔

کئی سالوں تک نیوٹرل ایمپائر ہی میچ کے دوران ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ کرکٹ کامعیار بھی بلند ہو گیا اور ٹیموں کا شور بھی کم ہوا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن نیوٹرل ایمپائر بھی چونکہ انسان ہی ہوتے پیں، ان سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں جب ٹیکنالوجی نے بھی ترقی کرلی تو آئی سی سی نے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے ایمپائر کے فیصلہ کے خلاف ریویو لینے کا اختیار بھی ٹیموں کو دے دیا۔

جب یہ قانون لاگو ہوا تو ایمپائرنگ کا معیار پہلے سے بھی اچھا ہوگیا۔ کیونکہ ایمپائر کو بھی علم ہوتا ہے کہ اس نے اگر غلط فیصلہ دیا تو وہ ریویو میں واپس ہو جائے گا اس لیے وہ بھی غلطی سے پرہیز کرنے لگے۔ اس ڈی آر ایس میں بھی تبدیلی کی گئی، پہلے اگر گیند 50 فیصد یا اس سے زائد وکٹ پر لگتی تو آوٹ قرار دیا جاتا تھا اور اگر گیند 50 فیصد سے کم وکٹ کو لگی تو ناٹ آؤٹ۔ پھر اس کو بھی تبدیل کردیا گیا۔ اب اگر گیند 50 فیصد سے زائد وکٹ کو لگی ہے تو آؤٹ ہو گا اور اگر گیند وکٹ کو چھو کر بھی گزرے گی تو وہی فیصلہ ہو گا جو ایمپائر کا ہو گا، یعنی اگر ایمپائر نے آؤٹ قرار دیا ہے تو آؤٹ ہی تصور کیا جائے گا اور اگر ناٹ آؤٹ کا فیصلہ تھا تو وہی برقرار رہے گا۔

اس قانون کو ایمپائر کے لیے بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ایک اور تبدیلی بھی کی گئی کہ اگر گیند وکٹ کو چھوکر گئی ہے لیکن ایمپائر نے ناٹ آؤٹ قرار دیا ہے تو فیلڈنگ سائیڈ کا ریویو ضائع نہیں ہوگا، اسی طرح بیٹنگ سائیڈ کے ریویو پر بھی ان کا ریویو بچ جائے گا۔ یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ آئی سی سی نے قوانین کو بہتر سے بہتر بنایا۔ لیکن چونکہ وہ بھی انسان ہیں اور قوانین بھی تمام ممالک کی مشاورت سے بنائے جاتے ہیں تو ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ کسی ایک ٹیم کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں۔

لیکن بات پھر وہی آتی ہے کہ کرکٹ ورلڈکپ کے فائنل کا فیصلہ جس طرح کیا گیا (جو کہ قوانین کے عین مطابق تھا) اس میں سقم ہیں۔ آپ دوسری کھیلوں کو دیکھ لیں، مثلا کل ہی ٹینس کے سب سے بڑے ایونٹ ”ومبلڈن مینز“ کا فائنل تھا۔ فائنل میں راجر فیڈرر کا مقابلہ نواک جوکووچ سے تھا۔ پہلے چار سیٹ میں سے دونوں نے دو دو جیتے۔ آخری سیٹ میں جب دونوں نے 6۔ 6 گیم جیتیں تو فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوا کہ پہلے سیٹ میں کس نے کتنے مارجن سے ہرایا یا کس نے سرو کے کتنے نمبر لیے (اس کو آپ کرکٹ کی سینس میں رین ریٹ اور باؤنڈریز) سمجھ لیں۔

آخری سیٹ کا فیصلہ 6 یا 7 گیمز پر نہیں 13۔ 12 پوانٹس پر جاکر ختم ہوا۔ یعنی جب تک کوئی واضح برتری نا لے گیا میچ جاری رہا۔ یہ ومبلڈن کی تاریخ کا سب سے بڑافائنل میچ ہوا جو 5 گھنٹے جاری رہا۔ لیکن اس بنیاد پر چونکہ پہلے بھی فیصلے ہوتے ہیں جو کہ کبھی تنقید کی زد میں نہیں آئے۔ اسی طرح اگر فٹ بال کو دیکھا جائے جو کہ دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے اس میں بھی گروپ اسٹیج پر اگر فیصلے گول کی بنیاد پر ہوتے ہیں یعنی آپ کہہ لیں کہ رن ریٹ۔

لیکن اگر فائنل مقابلہ ٹائی ہوگیا تو ”پینالٹی ککس“ پر فیصلہ ہو گا۔ دونوں ٹیموں کو پانچ پانچ پینالٹی ککس دی جائیں گی جو ٹیم زیادہ گول کرے گی جیت جائے گی۔ اس کو آپ کرکٹ کے سپر اوور سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر پانچ پانچ پینالٹی ککس پر بھی مقابلہ ٹائی ہو گیا تو میچ کا فیصلہ پھر بھی نہیں کیا جائے گا اور دونوں ٹیموں کو مزید پینالٹی ککس لگانے کا کہا جائے گا جب تک کہ ایک ٹیم کو دوسری پر ایک گول کی برتری نا مل جائے۔

یہی قوانین ہاکی میں بھی رائج ہیں۔ جب تک ٹیم غلطی نا کرے وہ ہارتی نہیں لیکن کرکٹ کے ورلڈ کپ کا فیصلہ بھی اب تنقید کی زد میں رہے گا۔ آئی سی سی کو آخر کار قوانین بدلنے پڑیں گے اور سپر اوور ٹائی ہونے پر باؤنڈریز کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی بجائے دوبارہ سپر اوور کروانا چاہیے جب تک کہ ایک ٹیم جیت نا جائے ورنہ یونہی ٹیموں کا نقصان ہوتا رہے گا۔ آپ کا ایک غلط فیصلہ کسی کی چار سالہ محنت پر پانی پھیر دے گا۔ ایک اور چیز جس پر آئی سی سی کو سوچنا چاہیے کہ ناک آؤٹ مرحلے میں ایک کی بجائے دو ریویو کی سہولت حاصل ہونی چاہیے۔

سیمی فائنل میں جیسن رائے اس کی بھینٹ چڑھے لیکن انگلینڈ میچ جیت گیا تو اس کا چرچا زیادہ نا ہوا۔ لیکن فائنل میں راس ٹیلر کا غلط آؤٹ بھی نیوزی لینڈ کی ہار میں اہم حصہ دار تھا۔ اسی طرح جب میچ آخری اوور میں تھا تو فیلڈر کی تھرو انگلش بیٹسمن بین اسٹوکس کے ساتھ ٹکرا کر باؤنڈری کی جانب چلی گئی جس سے انگلینڈ کو اضافی چار رن مل گئے۔ اس پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ اگر تھرو بیٹسمن کو لگ جائے تو اوور تھرو کا رن نہیں ہونا چاہیے۔ آخر میں پھر گزارش کروں گا کہ یہ قوانین ورلڈکپ سے پہلے بنائے گئے تھے اور شاید ایک دو سال پہلے لیکن یہ ہرگز کسی ایک ٹیم کے لیے نہیں تھے اس پر تمام ممالک کے دستخط موجود ہیں اس لیے قوانین پر تنقید کریں لیکن کسی ایک ٹیم کا ساتھ دینے کا الزام لگا کر شرمندہ مت ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •