عبدالرشید کی یاد میں


ناصر باغ لاہور کی چوپال میں انورسن رائے اور عذرا عباس کے ساتھ دسمبر 2006 کی ایک نشست۔ اگلی صف میں بائیں سے دائیں، عبدالرشید، ڈاکٹر ضیاالحسن اور علی افتخار جعفری

بتا چکا ہوں کہ جس زمانے میں، میں عبدالرشید کی شاعری کی طرف متوجہ ہوا تھاوہ میری نوجوانی کا زمانہ تھا تب ایسے الفاظ، کہ جن پر جنس کی نمائندگی کا ذرا سا بھی شائبہ گزرتا تھا، پڑھتے ہوئے ایک خاص نوع کی لذت کا احساس ہوتا تھا۔ شاید یہی سبب ہے کہ تب میں نے ان کی نظموں پر مضمون لکھتے ہوئے، اسے ”لذیذ لمحوں کی شاعری“ کہہ دیا تھا مگر واقعہ یہ ہے کہ یہاں زبان محض خارجی سطح پر ہی نہیں بدل رہی تھی، اس کے باطن میں معنیاتی تشکیل کے لیے بھی اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی۔ نئی زبان کی تشکیل میں جنسی استعارے کس طرح کام کرنے لگے تھے، مختلف نظموں سے مقتبس کرتا ہوں :

 ”کتابوں سے بغل گیر ہو کر

لڑکیوں کی سی لذت نہیں مل سکتی

مباشرت کے لیے

اصل انسانی اعضا کا ہونا

بہت ضروری ہے ”

                      (اصغر ندیم سید کے لیے ایک نظم)

 ”ایک نعرے کی وارفتگی

تم میں جنم لے رہی ہے

اسے تناسل سمجھ کر مت دباؤ ”

                      (فیاض تحسین کے لیے ایک نظم)

 ”تجھے تیری بیوی خود سے بدفعلی نہیں کرنے دے گی

کیوں کہ تو اس کے ساتھ چمٹا ہوا

ایک شرابی ہوگا

جو اپنے ذ ہن میں گم

لذت کے منظر بنا رہا ہوگا ”

                              (عابد عمیق کے لیے ایک نظم)

 ”میں فرعون کا ایک بت بنانا چاہتا ہوں

جس کی ریت

انسانی ہڈیوں کے برادے سے بنائی گئی ہو

جس کا پانی

حبشیوں کے آب تناسل جیسا گاڑھا ہو۔  ”

                          (میں فرعون کا بُت بنانا چاہتا ہوں )

 ”میں صدیوں کے لایعنی اندام کے بھیگے بوسے میں تر ہوں“

                       (میں صدیوں کے لایعنی اندام میں ہوں )

مانتا ہوں کہ مختلف نظموں کی ایسی لائنیں پڑھ کر میرے بدن میں لذت اترنے لگتی تھی، مگر ازاں بعد یوں ہوا تھا کہ تصویروں کے یہ ٹکرے نظم کے اندر اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے سیاق میں ایک بے باک لسانی پیٹرن سے جڑ گئے جو ایک دھند بناتے ہوئے مختلف معنیاتی تناظر قائم کرتا تھا اور اس میں سے نہ صرف ساری لسلسی لذت منہا ہوکر چیخ بن جاتی اور ایک فکری دھارا شاعر کے اپنے تراشے ہوئے جمالیاتی آہنگ میں رواں ہوجاتا تھا۔ یہاں میں اپنی بات ذرا ڈھنگ سے آپ تک پہنچانے کے لیے ایک مثال دینا چاہوں گا۔ ابھی ابھی میں نے جس آخری نظم کی پہلی لائن کو مقتبس کیا ہے، اس کے ساتھ فوراً بعد کی لائنیں ملا کر پڑھ لیجیے۔  یکلخت نئی جمالیاتی اور معنیاتی تشکیل خود بخود آپ تک منتقل ہو جائے گی:

 ”میں صدیوں کے لایعنی اندام کے بھیگے بوسے میں تر ہوں“

مرے ہونٹ نابود قبروں کی مِٹی سے سیلن زدہ ہیں

روایت کے کمروں کے دروازے باہر سے بند ہیں

صدا ٹوٹ کر کالی چمگادڑوں کی طرح چھت سے لٹکی ہے

۔ جب کہ اس نظم کی آخری لائنیں ہیں :۔

 ”نیند پاگل منادی کی صورت

یہاں شہر و کوچہ کی اینٹوں پر چسپاں ہے۔  ”

                       (میں صدیوں کے لایعنی اندام میں ہوں )

کہنا یہ ہے کہ عبدالرشید کی نظمیں جس شعری جمالیات کو متشکل کرتی ہیں، اس میں محض جنسی استعارے نہیں ہیں، تاریخ، تہذیب اور رواں سیاسی سماجی منظر نامے سے بھی بہت کچھ اخذ ہو رہا ہوتا ہے۔  کچھ اقتباسات اس باب کے :

 ” اوقات کے اغلاط نامے میں اس نے اپنا پہلا قدم اس ڈیوڑھی

کی سر بسر تاریکی میں پرندے بھر روشنی کی صورت میں رکھا۔  ”

                   (مجید امجد کے لیے۔ ! )

 ” کیا میری رفتار مرے اختتام کی گنتی کے آخری سرے تک پہنچ گئی ہے

اور میں مڑ کر اپنی مفتوحہ آبادیوں، گھروں کی ڈھیتی دیواروں،

کنویں کی منڈیر پر پانی کے بوجھل جسم کے بہاؤ کو بھر کر دیکھ سکتا ہوں۔

                     (کیا میں تھک چکا ہوں)

آٹھ حصوں پر مشتمل ایک اور طویل نظم سے بھی ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

 ”گلے کا مفلر جو پشت کا پوسٹر بنا ہے

برہنہ بازو بدن کے پرچم میں ڈوب کر اب تڑپتی آنتوں کے پمفلٹ پر

جوانی، بچپن، جلوس، ہڑتال، بھوک، تعلیم،

گاؤں، قصبے، کچہری، زندان لکھ رہے ہیں ”

                     (مرے شہر کی نیند میں)

آخر میں عبد الرشید کے مجموعے ”پھٹا ہوا بادبان“ کی ایک نظم کا ٹکرا آپ کی نذر کرکے اجازت چاہوں گا:

 ”میں اپنے بچپن کی گلیوں میں

ایک اساطیری لڑکا ہوں

جس کے ریشوں میں

دنیا کے سارے دریا بہہ رہے ہیں

جس کے سر میں

کتابوں کے پلندے لگے ہیں

جو تنہائی کی شاخوں سے لگ کر

محبت کی خوہش میں رونا چاہتا ہے۔  ”

                        (پیش لفظ)

اس نظم کا عنوان ”پیش لفظ“ ہے اوریہی عبد الرشید کی شاعری کا حرف آغاز ہے اور حرفِ آخر بھی۔ ایک اساطیری لڑکا جو ایک طرف اگرتہذیبی، تاریخی اور سماجی سیاسی گلیوں میں کھیل رہا ہے تو عین اسی وقت انسانی حسیات کی گلیوں کے باریک ریشوں کے اندر سے چھچھلتا پھسلتا اپنی ہی دھن میں آگے بڑھتا، زندگی کو سہتا برتتا بڑا ہوتا گیا ہے۔  جی وہی جس کے سر میں کتابوں کے پلندے تھے مگر جو محبت کی خواہش میں رونا چاہتا تھا۔ اسی خواہش نے عبد الرشید سے شاعری کی نئی اساطیر مرتب کروا لی اور یہ ہماری شعری لسانی تاریخ کا ایسا واقعہ ہے جسے نظر انداز کرکے نئی نظم کی تفہیم کے قرینوں کو ٹھیک ٹھیک آنکنا ممکن نہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2