عبدالرشید کی یاد میں


عبدالرشید کے چل بسنے کی خبر فون پر کشور ناہید نے دی تھی تو مجھے اپنا کئی سال پہلے کا لکھا ہوا اپنا وہ مضمون یاد آیا تھا جو میں نے ”لذیذ لمحے اور عبدالرشید“ کا عنوان جما کر لکھا تھا۔ طالب علمی کے زمانے کا لکھا ہوا مضمون۔ اور کل رات جب ہم شکیل جاذب، حارث خلیق، فرخ یار اور کشور ناہید سے ان کی شاعری سن رہے تھے، تو اس دورانیے میں ساقی فاروقی کے ”ہدایت نامہ شاعر“ سے ناصر عباس نیر کی کتاب ”نظم کیسے پڑھیں؟ “ تک کئی کتابوں کا ذِکرآیا اورکشورناہید نے بتایا تھا کہ انہوں نے ناصر کی کتاب اور ”گوگل“ دونوں چھان مارے، ان میں عبدالرشید نہیں ملا تھا اور یہ کہ گوگل پر اس مہم میں جو نکلا وہ لال مسجد میں مارا جانے والا عبدالرشید غازی تھا۔ یہ لطیف جملے اپنی جگہ، مگر واقعہ یہ ہے کہ عبد الرشید اُن تخلیق کاروں میں تھے جو ساری عمر چپکے چپکے اپنا کام کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

رات تک میرا ارادہ تھا کہ عبدالرشید کی خدمات کے اعتراف اور یاد میں ’شہر نظم‘ کی تقریب میں اپنا لگ بھگ سینتیس برس پرانا مضمون پڑھ دوں گاجو میری ایک کتاب کا حصہ بھی ہے۔  صبح اُٹھا، وہ تحریر میں نے ڈھونڈ کر نکالی اور پڑھ لی تو ارادہ بدل گیا۔ وقت کے ساتھ ہم خود بھی کتنا بدل جاتے ہیں، جو چیزیں عمر کے ایک حصے میں اُلجھاتی ہیں، بعد میں پانی ہو جاتی ہیں تو ہم اپنے آپ پر ہنستے ہیں اور وہ جو سادہ اور عام سی ہوتی تھیں اُن میں سو طرح کے پیچ نکل آتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اچھا اِسے اِس رُخ سے بھی دیکھا جاسکتا تھا۔

مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ جن کتابوں نے نوجوانی کے زمانے ہی میں میرا شاعری کا تصور بدل ڈالا تھا، اُن میں عبدالرشید کی کتابیں بھی شامل رہیں ہیں۔  بہ طور خاص ان کی تب تک میسر ہونے والے مجموعے ”اِنی کُنتُ من الظالمین“،  ’‘ پھٹا ہوا بادبان ”اور“ اپنے لیے اور دوستوں کے لیے نظمیں ”۔ تب تک میں اُن کے نام سے انیس ناگی مرتبہ ایک اہم کتاب“ نئے شعری اُفق ”سے آگاہ ہو چکا تھا۔ نہ صرف ان کے نام سے ایک زمانے میں شاعری کے روایتی تصور میں رخنے ڈالے والے ایک پورے گروہ سے، جس میں خودانیس ناگی تھے، محمد صفدر، عباس اطہر، افتخار جالب، زاہد ڈار، جیلانی کامران اور تبسم کاشمیری کے ساتھ عبدالرشید بھی شامل تھے۔  اور ان میں کشور ناہید، سعادت سعید، اقبال فہیم جوزی اورکئی مزید نام میں نے خود شامل کر لیے تھے۔

عبد الرشید کی نظموں کی پہلی کتاب ”اِنی کنت من ا لظالمین“ 1973ءمیں چھپی تھی۔ میں چوہتر میں میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد گیا تو دوستوں نے گھیر گھار کر سیاست کی طرف دھکیل دِیا اور جب بہت سے ہنگامے برپا کرنے، یونیورسٹی سے نکالے جانے، مقدمہ بازی کرکے واپس آنے، بار بارہنگاموں اور دنگوں کے بیچ کود پڑنے، اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن لڑنے، ہارنے، جیل کی ہوا کھانے اور اپنا بہت سا نقصان کرنے کے بعد توبہ تائب ہو کر ادب کی طرف آیا تو یونیورسٹی سے گھنٹہ گھر چوک تک پیدل چل کر محفل ہوٹل میں ادیبوں کی ٹولی میں بیٹھنے میں لطف لینے لگا تھا۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اس زمانے میں ڈاکٹر ریاض مجید سے جو کتابیں لیں اُن میں، عبد الرشید کی ”انی کنت من الظالمین“،  ”اپنے لیے اور دوستوں کے لیے نظمیں“ اور ”پھٹا ہوا بادبان“ بھی تھیں۔  قدرے بڑی تختی پر اُردو ٹائپ میں چھپی ہوئی ”انی کنت من الظالمین“، جسے یقینا میری طرح، ہر کسی نے پہلے کوئی مذہبی کتاب سمجھا ہوگا، پڑھ کرلطف، لذت اور اذیت کے اس تجربے کو بھی محسوس کیا ہوگا جو عبدالرشید کے ہاں اس کتاب میں نظم ہو رہا تھا۔ بعد میں، میں عبدالرشید کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھنے لگا ”صبح کا پہلا کبوتر“، نیند موت اور بارش کے لیے نظمیں، انور ادیب کے لیے نظمیں، بنکاک میں اجنبی، افتخار جالب کے لیے نوحہ، پیرس میں سال کا آخری دن، سمیع آہوجہ کے لیے نظمیں، چار پرندے، کیسے بیتے یہ دن رات۔

عبدالرشید کی شاعری کی کتابیں مجھے اس لیے بھی عجیب اور مختلف لگی تھیں کہ وہ کہیں بھی غزل کی راسخ روایت سے کچھ نہیں لے رہے تھے۔  ایک اور طرح کا طرز ِاحساس تھا جس کے میں مقابل ہو رہا تھا اور ایک اور طرح کا اسلوب تھا جس کا میں ورق ورق پر مشاہدہ کر رہا تھا۔ جی، عجیب نظمیں تھیں جو کہیں تو پیراگراف میں لکھ لی گئی تھیں اور کہیں دوکالموں میں، کہیں چھوٹی بڑی سطروں میں آزاد نظم کی صورت میں نظر آتی تھیں اور کہیں یہ سارے قرینے ایک ہی نظم میں برت لیے گئے تھے۔  مثلاً دیکھئے اُن کی 1977ء میں چھپنے والی ایک کتاب ہے ”پھٹا ہوا بادبان“۔  اس میں ایک سے زاید طویل نظمیں ہیں۔  جس طویل نظم کا میں یہاں بہ طور خاص ذِکر کرنا چاہتا ہوں، وہ ہے ”علامہ اقبال کے لیے ایک نظم“۔  جس صفحے سے یہ شروع ہوتی ہے، اس پر دو طویل پیرا گراف ہیں اور نظم کی پہلی لائن یوں ہے جیسے کوئی واقعہ آغاز پاتا ہے۔  دوسری لائن سے یہی واقعہ کہانی کے اسلوب میں ڈھل جاتا ہے :

 ” 11 نومبر کو جمعة الوداع تھا۔ موسم بدل رہا ہے۔  صبح صبح باغ میں گھاس کی لاتعداد ننھی ننھی پتیاں رات کی شبنم سے بھیگی ہوئی ہیں۔ “ وغیرہ وغیرہ۔

دوسرا پیرا گر اف بھی موسم بدلنے کی اطلاع سے شروع ہوتا ہے مگر جب موسم اور منظر بہم ہو کر کہانی بنانے لگتے ہیں تو سطریں نثر میں شاعری کا جادو بھی جگانے لگتی ہیں :

 ”رات کی جاگی ہوئی آنکھیں سوجنے لگی ہیں۔  بوڑھے یہودی پیغمبروں کی طرح، جلال کی ہلکی سُرخی ڈورے بن رہی ہے۔ “

اور۔

 ”رات اپنی تاریکی کی مجلد کتاب کی آخری سطریں پڑھ رہی ہے۔ “

اگلے چودہ صفحات پر نو حصوں میں لکھی گئی اس نظم کے باقی حصے ہیں، جن پر مواد چھوٹی بڑی سطروں میں یوں منقسم کر لیا گیا ہے کہ آپ شاعرکی منشا کے مطابق، ہر لائن پڑھنے کے بعد اتنا رُکتے ہیں کہ پڑھا ہوا خیال تصویرکا ایک ٹکڑا بن جائے۔  نظم آگے چلتی ہے، یوں کہ اگلے خیال کی تصویر کاٹکڑا پہلے ٹکرے سے کچھ آڑا ترچھا جڑ کر یا کچھ رخنے چھوڑ کرتصویر مکمل کرتا ہے ایک ایسے پزل کی طرح جس میں کچھ بھید جان بوجھ کر رکھ لیے گئے ہوں۔  اسی نظم سے مقتبس کرتا ہوں :

 ”عبث ہم نے اپنی محبت کی دوری میں

اس کے رواں زمزموں کی قبائیں نہ کھولیں

اور صحرا کی گرمی کی مشکوں میں

چشموں کی مشکیں بنائیں

یہ صدیوں سے تھوکا ہوا وعظ

جو نرخروں سے لپٹتا چلا آرہا ہے

تیری میراث ہے

میری میراث ہے۔  ”

(علامہ اقبال کے لیے ایک نظم)

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2