دہشت گردی کےخلاف جنگ کے 15 سال


\"edit\"نیویارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گرد حملہ کے پندرہ برس پورے ہونے کے موقع پر امریکہ کے صدر باراک اوباما نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گرد امریکہ کو خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ ان کا ہر جگہ اور ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔ ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نسل ، جنس اور عقیدہ کی تخصیص کئے بغیر سب کے ساتھ مساوی سلوک کرتے ہوئے ہی جیتی جا سکتی ہے۔ دہشت گرد ہمارے سوچنے کے طریقے اور معاشروں کے انداز کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تاہم امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے ایک واقعہ کے بعد دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں اب یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ مٹھی بھر لوگوں کے خلاف جو صرف تخریب کاری پر یقین رکھتے ہیں، یہ جنگ سمٹنے کی بجائے پھیل کیوں رہی ہے۔ پندرہ برس ایک طویل مدت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام اور حکومت 9/11 کے واقعات، اس کے بعد سامنے آنے والے ردعمل اور اس سے ابھرنے والے حالات و سانحات کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ لے سکیں۔ یہ سوچا جا سکے کہ وہ دن کب آئے گا جب کوئی امریکی صدر یہ اعلان کر سکے گا کہ ہم دہشت گردی ختم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو ہتھیار بنانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا ان کا نقطہ نظر سمجھنے کےلئے دلیل دیئے بغیر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ امریکہ نے نیویارک کے ٹوئن ٹاورز TWIN TOWERS پر دہشت گرد حملہ کے بعد انتقام اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے، وہ کس حد تک دنیا کو محفوظ بنانے اور امریکی عوام کا خوف دور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ جاننا بھی وقت کی ضرورت ہے کہ جن امریکی لیڈروں نے 9/11 کے بعد پیدا ہونے والی ایک جذباتی کیفیت میں عالمی سیاسی توسیع پسندی کے منصوبے بنائے تھے، امریکہ ان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اختیار کرے گا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح امریکہ نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانا اور طالبان کو تباہ کر دینا لازم سمجھا تھا۔ لیکن دو برس بعد عراق پر حملہ جھوٹی شہادتوں اور دستاویزات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس جنگ سے نہ صرف عراق تباہ و برباد ہوا بلکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل بدامنی ، فرقہ وارانہ تصادم اور دہشت گردی کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ اب اس جنگ کے بطن سے داعش جیسے عفریت نے جنم لیا ہے اور شام کو 5 برس سے خانہ جنگی میں جھونکا گیا ہے۔ یہ حکمت عملی تیار کرنے والوں کو امریکی ہمت و حوصلہ کا اعلان کرتے ہوئے، سیاسی اور فوجی غلطیوں کا جائزہ لے کر ان کا اعتراف بھی کرنا ہو گا۔ اگرچہ عراق جنگ شروع کرنے کے حوالے سے شرمندگی اور ندامت کے تاثرات سامنے آتے رہے ہیں لیکن ایسے تباہ کن فیصلے کرنے والوں کی ذمہ داری کا تعین کئے بغیر اور آئندہ وہی غلطیاں دہرانے کی حکمت عملی ترک کرنے کا اعلان کئے بغیر یہ کہہ دینا کافی نہیں ہو سکتا کہ ناقص معلومات یا سیاسی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے بعض غلط فیصلے سرزد ہو گئے تھے۔

ان غلط فیصلوں کے نتیجے میں 10 لاکھ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عراق اور شام مسلسل خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ تصادم کا شکار ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن کسی دیوانے کا خواب بن چکا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد سامنے آنے والے حالات میں دنیا کے بڑے ملک، دانشمندی سے ایک دوسرے کو قبول کرنے، حلقہ اثر کو محدود کرنے ، مفادات کو مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے اور جنگ سے گریز کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا بہت واضح مظاہرہ گزشتہ دنوں جنیوا میں امریکہ اور روس کے درمیان شام میں جنگ بندی کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا۔ ان مذاکرات کی قیادت دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کر رہے تھے۔ اس کے باوجود جنگ سمیٹنے کےلئے کوئی روڈ میپ تیار نہیں کیا جا سکا۔ کیونکہ کوئی فریق بھی دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کےلئے تیار نہیں ہے۔

امریکہ ہو یا روس ۔۔۔۔۔۔۔ دونوں اپنے علاقائی ، معاشی اور سیاسی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب شام میں جنگ بندی کا ایسا معاہدہ سامنے آیا ہے جس کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اعتماد کی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ صورتحال کی مجبوری کی وجہ سے اس پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ اور اب فریقین کے عملی اقدامات سے یہ طے ہو گا کہ جنگ بندی کا نیا منصوبہ کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل فروری میں اسی قسم کا ایک معاہدہ ناکام ہو چکا ہے، جس کے بعد علاقے میں موجود ساری فوجی قوت کو دہشت گردوں کے خلاف صرف کرنے کی بجائے، ایک دوسرے سے علاقے ہتھیانے کے لئے زور آزمائی کرتے ہوئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد کی فوج کو روس امداد فراہم کر رہا ہے اور انہیں اقتدار سے محروم کرنے کا خواہشمند امریکہ فری سیرین آرمی کے نام سے لڑنے والے جنگجو گروہوں کو عسکری اور مالی امداد دیتا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ یہ عسکری گروہ اپنے مفادات کےلئے ان دہشت گرد گروہوں کے ساتھ بھی تعاون کرتے رہے ہیں جن کو نیست و نابود کرنے کا اعلان واشنگٹن تواتر سے کرتا رہا ہے اور جس کو صدر اوباما نے 9/11 کی پندرہویں برسی پر بھی دہرایا ہے۔

11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر ہونے والے فضائی دہشت گرد حملوں میں 3411 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں سے 2996 نیویارک ٹریڈ سینٹر پر دو مسافر طیارے ٹکرانے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی میں جان سے گئے۔ 343 پینٹا گون پر طیارہ گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور 72 کو چوتھا طیارہ تباہ ہونے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس سانحہ کا بدلہ لینے کےلئے امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور 2015 کے آخر تک وہاں ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 3407 تھی۔ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ان میں زیادہ تعداد امریکی فوجی افسروں کی ہے۔ اس جنگ کے نقصانات کے بارے میں مختلف اعداد و شمار سامنے آتے ہیں تاہم جو مصدقہ معلومات دستیاب ہیں ان کے مطابق افغانستان میں براہ راست جنگ کے نتیجے میں 91 ہزار افغان فوجی یا مسلح افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 3 لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ افغان جنگ کے نتیجہ میں پاکستان میں پھیلنے والی دہشت گردی میں جان گنوانے والے 70 ہزار کے لگ بھگ لوگ اس کے علاوہ ہیں۔

اسی طرح عراق میں 2003 سے 2014 کے درمیان مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار ہے۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ سے 10 لاکھ کے درمیان عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کے بطن سے شام میں پھیلنے والی جنگ اور دہشت گردی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان ہے۔ سوا دو کروڑ آبادی کے ملک شام کی نصف آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ اس میں سے 60 لاکھ کے قریب شامی باشندے ہمسایہ ملکوں میں پناہ گزینوں کے طور پر غیر انسانی حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ 9/11 کے بعد پندرہ برس تک اپنی کسی غلطی کا ادراک نہ کرنے اور مستقبل کےلئے بہتر اور مثبت فیصلے نہ کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی یہ جنگ مسلسل پیچیدہ اور خطرناک ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نتیجے میں یہ علت کم یا ختم ہونے کی بجائے اس کی شدت اور حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 میں دولت اسلامیہ کے ابوبکر البغدادی نے اسلامی خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کی قیادت میں دنیا دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ختم کرنے کےلئے مصروف جنگ تھی، ایک خطرناک دہشت گرد گروہ اپنی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ امریکہ اور اس کے حلیف اب تک اس گروہ کو ختم کرنے اور اس کے اثرات کو محدود کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

یہ جنگ صرف افغانستان ، شام یا عراق تک محدود نہیں ہے۔ ان پندرہ برسوں میں دہشت گرد گروہ مسلسل مضبوط بھی ہوئے ہیں اور انہوں نے نائیجیریا سے انڈونیشیا تک اپنے پاؤں بھی پھیلا لئے ہیں۔ اگرچہ مئی 2011 میں امریکہ نے ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے بڑی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اس آگ کو بجھانے یا مدھم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جو القاعدہ کے لیڈر کے طور پر اسامہ بن لادن نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملوں کی صورت میں لگائی تھی۔ اس ناکامی کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ صدر باراک اوباما کی تقریر ان عوامل کا پتہ دینے سے قاصر ہے۔ وہ بدستور باہمی یکجہتی ، احترام اور مساوات کو مہذب دنیا کے بنیادی اصول بتاتے ہوئے، ان کی حفاظت کرنے اور دہشت گردوں کو انہیں پامال کرنے کا حق نہ دینے کی بات کرتے ہیں۔ مگر کیسے؟ اس کا جواب نہ صدر اوباما کے پاس ہے اور نہ دنیا کا کوئی دوسرا دانشور یا مبصر اس کا صائب جواب فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ کیونکہ غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کیونکہ عدم مساوات ، احتیاج اور محرومی کا وہ ماحول موجود ہے جس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے رجحانات فروغ پاتے ہیں۔ کیونکہ امریکہ ہو یا یورپ ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اعلیٰ اقدار کا نعرہ ضرور بلند کیا ہے لیکن انہیں عام کرنے کےلئے کوئی مؤثر حکمت عملی تیار نہیں کی ہے۔ اس کے برعکس اپنی سرحدوں کو فصیلوں میں تبدیل کر کے انسانوں ، گروہوں اور عقائد کے بارے میں منفی عوامی جذبات کو ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں۔

آج دہشت گرد گروہ 9/11 کے مقابلے میں امریکہ یا یورپ کو نشانہ بنانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ستمبر 2001 جیسا بڑا حملہ نہ کرسکیں لیکن انہوں نے اپنے پروپیگنڈے کے زور پر یورپ اور امریکی معاشروں میں محرومی کا شکار نوجوانوں کو تلاش کرنے اور انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا موثر طریقہ ضرور ایجاد کر لیا ہے۔ اس کا جواب دینے کے لئے کبھی حجاب، برقعہ یا برقینی پر پابندی لگائی جاتی ہے یا اسے موضوع بنا کر نفرت کا طوفان اٹھایا جاتا ہے یا ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کرکے اپنے شہریوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ کچھ ایسے ہی نعرے یورپ کے قوم پرست لیڈر بھی لگاتے ہیں اور عوام کی قبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس مقبولیت کو دیکھ کر مین اسٹریم کے سیاسی لیڈر بھی کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بھی نسل پرستوں اور انسانوں کو تقسیم کرنے والوں کی زبان بولنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

یہ صورت حال دہشت گردوں کی کامیابی پر دلالت کرتی ہے۔ لگتا ہے وہ تقسیم کرنے ، خوفزدہ کرنے اور ہراساں کرنے کے مقصد میں کامیاب ہیں۔ یہ حالات یورپ اور امریکہ کے جمہوری نظام کےلئے بھی ایک اہم چیلنج کی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ مغربی جمہوریتوں کے قائدین کو یہ ثابت کرنا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام خوف اور سراسمیگی کی بنیاد پر ابھرنے والی تحریکوں کو مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت محض خوف کی وجہ سے اقلیتوں کا جینا حرام کرنے پر آمادہ نہیں ہو گی۔ وہ جنگ جسے امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر مسلط کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اب بوجوہ اس کے اپنے گھر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پندرہ برس دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے سال قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ دنیا کے لیڈروں کو بتانا ہے کہ آنے والے برسوں میں وہ یہ بازی الٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali