اسد محمد خاں…. وندھیا چل کی آتما


\"husnainکبھی کبھی کوئی افسانہ، کہانی، نظم، غزل یا کوئی بھی تحریر پڑھتے ہوئے کچھ ایسا سامنے آتا ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ کر بس اسی بات کی خوب صورتی بلکہ اثر انگیزی میں ڈوب جاتے ہیں۔ معاملہ سراسر ذاتی ذوق جمالیات کا ہے، عین ممکن ہے جو چیز آپ کو متاثر کرے وہ کسی اور کے لیے کچھ خاص معنے نہ رکھتی ہو اور صورت حال اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ تو ایک طرح سے یہ کہہ لیجیے کہ یہ سب معاملہ واردات قلبی کا ہے۔

اب یہ واردات قلبی اپنی جگہ ایک عجیب بات ہے۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یار، اس سے بہتر اب کیا کہا جائے گا، یا اس سے بہتر اب کیا لکھا جائے گا، یا جیسی اب ہے میری حالت کبھی ایسی تو نہ تھی۔ لیکن پھر ایک دم کوئی ایسی بات آنکھوں کے سامنے آتی ہے کہ دل میں اترنا بھی چھوڑئیے، روح تک کو چیر جاتی ہے۔ ہر شخص کے اپنے جذبات و احساسات ہوتے ہیں لیکن فقیر چوں کہ بقول عارف \”شیعہ آنکھ\” رکھتا ہے، تو وہ آنکھ ذرا ذرا سی بات پر چھلک اٹھتی ہے، کبھی جو نہ بھی چھلکے تو بھر آنا تو یوں ہے جیوں ساون میں جھڑی۔

آج بھی ایسا ہی ایک معاملہ ہوا۔ لکھنے کا کوئی ارادہ دور دور تک نہ تھا کہ پڑھنے کو ایک ایسی کتاب میسر تھی جس کی موجودگی میں لکھنا کسی بے سرے، یا بدذوق کہہ لیجیے، تو بدذوق آدمی کا ہی کام ہو سکتا تھا۔ ویسے بھی ستم ہائے روزگار کچھ اس نوعیت کے ہوئے جاتے ہیں کہ سمجھ لیجیے، گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑہ نکل، کہاں کی رباعی، کہاں کی غزل۔ تو بس کچھ ایسی ہی کیفیت میں آج نثار معجز بیاں، اسد محمد خاں صاحب کی کتاب \”یادیں-گذری صدی کے دوست\” پڑھی جا رہی تھی۔ پڑھی جا رہی تھی اور ژولیاں جیسے پیارے دوست کے لیے دل سے دعائیں نکلتی جا رہی تھیں، کہ جو یہ کتاب پڑھانے کا سبب بنے، اپنی ذاتی کاپی ادھار دے کر!

یقین مانیے کچھ ایسا خطرناک ارادہ نہیں تھا کہ تبصرہ کیا جائے یا کوئی ریویو باندھا جائے کیوں کہ ایک طالب علم جو ہے وہ ایک استاد، بلکہ تین نسلوں کے ایک قادر الکلام استاد کی ایک کتاب کے ساتھ انصاف بھی کیا کر لے گا، سمجھ کر پڑھنے کا حق بھی ادا ہو جائے تو کیا کہنے۔ لیکن، برا ہو اس \”شیعہ آنکھ\” کا، اور بھلا ہو اس شکر مقال بزرگ لکھنے والے کا، اور خدا اسے صحت کے ساتھ ہمارے سروں پر قائم رکھے کہ وہ لگاتار ایسا کچھ لکھتا جاتا ہے جس میں ہر عہد کا پڑھنے والا اپنے لیے ایک الگ نئی دنیا دریافت کرتا جاتا ہے، اور جو آنکھ والا ہو تو وہ ساتھ ساتھ گریہ بھی کرتا جاتا ہے۔

ساقی فاروقی صاحب کا خاکہ لکھا اسد صاحب نے، اور عین ویسی ہی بے تکلفی اور لاڈ سے لکھا جیسا لکھنے کا حق تھا۔ تو اچھا خاصا وہ خاکہ چلتا جاتا تھا کہ بیچ میں وہ مقام آ گیا کہ جس کی چاہ میں یہ الٹے سیدھے لفظ گھسیٹے اور سولی پر آپ کو ٹانگ دیا ہم نے۔ قصہ جاری تھا کہ ساقی کس طرح اپنے والد سے بہت ضد کے بعد پیسے لے کر، وہ پیسے جن کا بندوبست ان کے والد نے خدا جانے کس مشکل سے کیا تھا، تو وہ پیسے لے کر اور ٹکٹ خرید کر اور ویزے کا بندوبست کر کے لندن چلے گئے۔ اور ان کے بھائی بھی کہیں اور جا چکے تھے۔ اب ان کے والد کی صحت بھی بہتر نہیں رہی تھی، تو بس یہ ذکر کرتے کرتے اسد صاحب لکھنے لگے؛

\"523\"\”اس وقت تک دونوں بیٹوں میں کوئی بھی گھر نہیں آیا تھا اور کہیں، پتھر کی کسی سل پر، یہ لکھ دیا گیا تھا کہ باپ، ان بیٹوں کو دوبارہ نہیں دیکھے گا۔\”

تو بس یہ پڑھ کر آگے پڑھا نہیں گیا اور پتہ نہیں کیا کیا ہوا۔ احساسات و محسوسات کے اس ملغوبے کا بیان ممکن نہیں لیکن یقین جانئیے ایسی تاثیر اگر کسی اور کے قلم میں ہو تو وہ اسد محمد خاں ہی ہو گا۔

پھر ہیر وارث شاہ کا وہ شعر یاد آ گیا، اگرچہ کوئی خاص مناسبت نہیں بنتی لیکن وہ بھی فقیر کے ذہن میں ہمیشہ گھومتا رہتا ہے، بلکہ ہانٹ کرتا رہتا ہے، تو وہ یاد آ گیا؛

کوئی بے عقلا بازی لے جاندا، کوئی عقل والا بازی ہاردا اے
وارث مان نہ کر اینہاں وارثاں دا، رب بے وارثا کر ماردا اے

یہ چھوٹی چھوٹی بظاہر بالکل معمولی باتیں کس فریکوئنسی کی حامل ہوتی ہیں یہ بات تو عاصم بخشی یا وقار بھائی ہی بتا سکتے ہیں لیکن ایک بات اس بے عقلے کو یہ سمجھ آتی ہے کہ شاید دل سے نکلی ہوئی کوئی بھی بات، کوئی بھی دعا، کوئی بھی جذبہ کبھی رد نہیں جاتا۔ بدروح کی صورت پوری دنیا میں گھومتا رہتا ہے، کروڑوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے، ایک زبان سے دوسری زبان کے ادب میں جاتا ہے، وہاں سے کسی اور زبان والے اسے اپنا لیتے ہیں لیکن، لیکن اس بات کا، اس شعر کا، اس قول کا جذبہ کبھی فنا نہیں ہوتا۔ ہاں یاد آیا، جیسے ہم کبھی پڑھتے تھے کہ مادہ کبھی فنا نہیں ہوتا اور ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے، تو ویسے ہی ہمارے اسد محمد خاں کی کہی گئی باتیں کبھی فنا نہیں ہو سکتیں، ان میں یہ عجیب سا جو کچھ بھی ہے، یہ انہیں اگلے تین سو سال تک تو زندہ رکھنے والا ہے کم از کم۔ تین سو اس لیے کہ ہمارے میر صاحب وغیرہ بھی اتنے عرصے میں بھلائے نہیں گئے تو مولا اپنا کرم آگے بھی کرے گا۔

اب ساری بات بہ ظاہر ختم ہے۔ آگے بڑھنے کو کچھ بھی نہیں رہا لیکن وہ جو سرائیکی میں کہتے ہیں نا وچھوڑے کا دکھ، تو وہ دکھ ہے کہ وہ سانس نہیں لینے دے رہا۔ ایک چراغ کیا جلا، سو چراغ جل گئے۔ تو ایسے میں ایک مصرع شاکر شجاع آبادی کا یاد آ گیا، اب وہ دیکھیے۔ اچھا کوئی جبر نہیں، کہ یہ ایک دل سے نکلنے والی باتیں ہیں جو کوئی دل ہی سن سکتا ہے، اگر موڈ نہیں تو خواہ مہ خواہ ادھر ادھر کی بات کیا پڑھنا، کام کی بات تو گزر گئی، جاں کے تاروں سے مضراب کی مانند جو یاد چھیڑ کر گئی وہ رقم کر دی، اب تو بس دل لگی ہے۔ خیر، تو شاکر شجاع آبادی کا ایک مصرع تھا؛

جیڑھا کم ہا یار رقیباں دا، او سجنڑ کریندے رھ گئین!
(جو کام تھا یار رقیبوں کا وہ یاروں نے انجام دیا)

اب یہ ایسا شاہ کار ہے کہ ہر چوتھے دن یاد آ جاتا ہے، وقت بڑی ظالم شے ہے اور انسان اس سے بڑا ظالم۔ جانے دیجیے، ایک اور سرائیکی شاہ کار دیکھیے؛

ہک وقت ہئی ساکوں بخت ہئی
ہنڑ وقت اے بد بخت اے
(ایک وقت تھا، ہمیں بخت تھا، اب وقت ہے، بدبخت ہے)

تو ناشکری کے ہر لمحے یہ گناہ گار زبان اسی کا ورد کرتی ہے۔ پھر وہ ایک گانا تھا اپنے آنند بخشی صاحب کا لکھا، بھئی ثقہ لوگوں سے معذرت، ہر وہ فن پارہ جو دل کے قریب ہے، کم ترین کے نزدیک وہ کل کائنات سے بڑھ کر ہے۔ تو وہ گانا کیا تھا ایک ٹیس تھی جو نامعلوم کیسے آنند بخشی نے الفاظ میں ڈھالی، لکشمی کانت جی نے موسیقی میں سموئی، پنکج ادہاس نے غم میں ڈوب کر گائی اور سنجے دت نے کیسے وہ کردار ادا کیا (یاد آیا، سنجے دت آج رہا ہو گئے، ہمیں تو بہت خوشی ہے، سو مبارک باد قبول کیجیے) کہ وہ گانا سن کر پردیس میں بیٹھے لوگ آج بھی دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں اور جب وہ فلم \”نام\” ریلیز ہوئی تھی تو صرف اس گانے کو سننے اور ہال میں بیٹھ کر باجماعت رونے کے لیے نہ جانے کتنے ہی پردیسی سنیما کو اکٹھے جایا کرتے تھے۔ اور بھی نہ جانے کتنی ایسی چیزیں ہیں، یادیں ہیں، فی الحال پورا گانا پڑھیے، ہمارے ساتھ گنگنائیے، ہو سکے تو دو آنسو بہائیے، یار زندہ صحبت باقی، اور یار بھی کیوں زندہ اور صحبت بھی کیا باقی!

چٹھی آئی ہے، آئی ہے، چٹھی آئی ہے
چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے
بڑے دنوں کے بعد، ہم بے وطنوں کو یاد
وطن کی مٹی آئی ہے، چٹھی آئی ہے۔
اوپر میرا نام لکھا ہے، اندر یہ پیغام لکھا ہے
او پردیس کو جانے والے، لوٹ کے پھر نہ آنے والے
سات سمندر پار گیا تو، ہم کو زندہ مار گیا تو
خون کے رشتے توڑ گیا تو، آنکھ میں آنسو چھوڑ گیا تو
کم کھاتے ہیں، کم پیتے ہیں، بہت زیادہ ہم روتے ہیں
چٹھی آئی ہے۔۔۔

سونی ہو گئیں شہر کی گلیاں، کانٹے بن گئیں باغ کی کلیاں
کہتے ہیں ساون کے جھولے، بھول گیا تو، ہم نہیں بھولے
تیرے بن جب آئی دوالی، دیپ نہیں دل جلے ہیں خالی
تیرے بن جب آئی ہولی، پچکاری سے چھوٹی گولی
پیپل سونا، پنگھٹ سونا، گھر شمشان کا بنا نمونہ
فصل کٹی، آئی بیساکھی، تیرا آنا رھ گیا باقی
چٹھی آئی ہے۔۔۔۔

پہلے جب تو خط لکھتا تھا، کاغذ میں چہرا دکھتا تھا
بند ہوا یہ میل بھی اب تو، ختم ہوا یہ کھیل بھی اب تو
ڈولی میں جب بیٹھی بہنا، رستہ دیکھ رہے تھے نینا
میں تو باپ ہوں، میرا کیا ہے، تیری ماں کا حال برا ہے
تیری بیوی کرتی ہے سیوا، صورت سے لگتی ہے بیوا
تو نے پیسہ بہت کمایا، اس پیسے نے دیس چھڑایا
دیس پرایا چھوڑ کے آ جا، پنچھی پنجرا توڑ کے آ جا
آ جا، عمر بہت ہے چھوٹی، اپنے گھر میں بھی ہے روٹی
چٹھی آئی ہے۔۔۔۔

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

4 thoughts on “اسد محمد خاں…. وندھیا چل کی آتما

  • 26/02/2016 at 11:17 صبح
    Permalink

    آپ خوب لکھتے ہیں.

    • 27/02/2016 at 9:03 شام
      Permalink

      پبہت نوازش سجاد صاحب

  • 27/02/2016 at 1:53 صبح
    Permalink

    اسد محمد خان تو اردو کی شان ہیں۔ اور آپ؟ صاحب آپ خوب لکھتے ہیں۔ تھوڑے لفظ ادھار دے دیں۔

    • 27/02/2016 at 9:05 شام
      Permalink

      سرکار کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ آپ ماشاللہ خود صاحب طرز نثّار ہیں 🙂

Comments are closed.