جانور راج: معاشی بحران اور مرغیوں کے انڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑی ہی سخت جاڑا تھا۔ طوفانی آندھیوں کے بعد، اولے اور برف پڑتی رہی اور پھر بڑا بھاری کہرہ، جو فروری تک چھایا رہا۔ جانور جس حد تک کر سکتے تھے، پون چکی کی تعمیر میں جتے رہے، جانتے تھے کہ باہر کی دنیا دیکھ رہی ہے اور حاسد انسان چکی کے وقت سر تعمیر نہ ہونے پہ خوش ہو ں گے۔

نفرت کے مارے انسانوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ انہیں اس بات پہ یقین نہیں کہ پون چکی سنو بال نے تباہ کی: انہوں نے کہا کہ وہ اس لئے گری کہ اس کی دیواریں بے حد پتلی تھیں۔ جانور جانتے تھے کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ پھر بھی اس بار دیواریں، پچھلی بار کی طرح اٹھارہ انچ کی بجائے تین فٹ موٹی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ پتھروں کی کہیں زیادہ تعداد جمع کرنا ہو گی۔ کئی دن تک تو کان، برف سے اٹی رہی اس لئے کچھ بھی نہیں کیا جا سکا۔

آنے والے سرد خشک دنوں میں کچھ کام کیا گیا، مگر یہ کڑی مشقت تھی، اور جانو ر اب اس کے بارے اتنے پر امید نہیں ہو سکتے تھے جتنے کہ وہ پہلے تھے۔ وہ اکثر، بھوکے اور سردی سے ٹھٹھرے رہتے تھے۔ صرف باکسر اور کلوور نے دل نہ چھوڑا تھا۔ چیخم چاخ نے ’محنت کی عظمت‘ اور ’خدمت میں سکون‘ پہ بہترین تقریریں کیں، لیکن باقی جانوروں کو باکسر کی استقامت اور ہار نہ ماننے والی پکار، ’میں مزید محنت کروں گا‘ سے زیادہ حوصلہ ملتا تھا۔

جنوری میں خوراک کی قلت ہو گئی۔ مکئی کا راشن، خوفناک حد تک کم ہو گیا، اور اعلان کیا گیا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے آلو دیے جائیں گے۔ تب یہ پتا چلا کہ آلو کی فصل کا بڑا حصہ دھڑوں میں ہی سردی سے خراب ہو گیا تھا جو کہ درست طریقے سے ڈھانکی نہ گئی تھیں۔ آلو نرم پڑگئے تھے اور بدرنگ ہو گئے تھے، اور فقط کچھ ہی کھانے کے قابل بچے تھے۔ کبھی تو کئی کئی دن جانوروں کے پاس کھانے کو سوائے بھوسے اور چقندر کے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ فاقہ کھڑا ان کا منہ تک رہا تھا۔

باہر کی دنیا سے اس حقیقت کو چھپانا ازبسکہ ضروری تھا۔ پون چکی کی بربادی سے شہ پاکے انسان، جانور راج کے بارے میں نئے جھوٹ گھڑنے شروع ہو گئے تھے۔ ایک بارپھر یہ کہا جانے لگا تھا کہ سبھی جانور قحط اور بیماری سے مر رہے ہیں، اور وہ ہمہ وقت آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو کھانے اور اپنے بچے مارنے پہ اتر آئے ہیں۔ نپولین بخوبی جانتا تھا کہ اگر خوراک کی صورت حال کی اصل حقیقت سامنے آئی تو اس کے کتنے برے نتائج ہوں گے، اور اس نے جناب نوید کو اس کے برخلاف ایک تائثر پھیلانے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہنوز کسی جانور کا جناب نوید سے ان کے ہفتہ وار چکر پہ تھوڑا کیا، ذرا بھی واسطہ نہ پڑا تھا:البتہ اب کچھ منتخب جانور زیادہ تر بھیڑوں کو ان کی موجودگی میں یوں ہی بات کرنے کا کہا گیا کہ راشن بڑھا دیا گیا ہے۔ مزید برآں، نپولین نے حکم دیا کہ گودام میں پڑے خالی ٹوکرے، منہ تک ریت سے بھر دیے جائیں جن پہ بعد میں بچا ہوا اناج اور خوراک پھیلا دی جاتی تھی۔ کسی مناسب بہانے سے نوید کو گودام سے گزارا جاتا تھا اور ٹوکروں کو دیکھنے کا موقع دیا جاتا تھا۔ وہ دھوکا کھا گیا، اور باہر کی دنیا میں یہ خبر پھیلاتا رہا کہ جانور راج میں خوراک کی کوئی تنگی نہیں۔

مگر پھر بھی جنوری کی اواخر تک یہ واضح ہو گیا کہ کہیں نہ کہیں سے مزید اناج حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ ان دنوں میں نپولین شاذ ہی باہر نکلتا تھا:بلکہ سارا وقت فارم ہاؤس میں گزارتا تھا، جس کے ہر دروازے پہ خوفناک شکلوں کے کتے پہرہ دیتے تھے۔ جب کبھی وہ نکلتا بھی تو بھی یہ تقریب کی سی صورت ہوتی، چھہ محافظ کتوں کے جلو میں، جو اس کے بہت نزدیک گھیرا ڈالے رہتے اور اگر کوئی ذرا بھی قریب آنے کی کوشش کرتا تو غراتے۔ اکثر وہ اتوار کی صبح بھی باہر نہ نکلتا، بلکہ کسی دوسرے سؤر عام طور پہ چیخم چاخ کے ذریعے ہی اپنے احکامات جاری کراتا۔

ایک اتوار کی صبح چیخم چاخ نے اعلان کیا کہ مرغیاں جو کہ ابھی دوبارہ انڈوں پہ آئی تھیں، اپنے انڈوں سے دستبردار ہو جائیں۔ نپولین نے نوید کے ذریعے، فی ہفتہ چار سو انڈوں کا معاہدہ کر لیا تھا۔ ان کی قیمت سے خاصا اناج اور خوراک خریدی جاسکتی تھی جو کہ باڑے کو گرما کی آمد تک چلا سکتی تھی تب تک حالات کچھ بہتر ہوں گے۔

جب مرغیوں نے یہ سنا تو انہوں نے ایک بھیانک صدائے احتجاج بلند کی۔ انہیں پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ یہ قربانی ناگزیر ہو گی، مگر انہوں نے یقین نہ کیا تھا کہ یہ سچ مچ ہو جائے گا۔ وہ ابھی اپنے بہاریہ سیوے کے لئے اپنے کھڈے تیار کر رہی تھیں اور انہوں نے احتجاج کیا کہ اس وقت انڈے لے جانے کا مطلب قتل ہے۔ جانی صاحب کے دفعان ہونے کے بعد پہلی بار کچھ ایسا ہوا جو کسی انقلاب جیسا ہی تھا

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: پون چکی کی تباہیجانور راج: سنوبال کی سازشیں
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •