نورانی چہرے


آج سے تین سال پہلے کی بات ہے۔ رمضان کا مہینہ تھا اور گرمی اپنی شدت سے روزہ داروں کو آزما رہی تھی۔ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے تو نمازی حضرات چار اور پانچ کی ٹولیوں میں بٹ کر خوش گپیوں میں مشغول ہوگئے۔ ویسے بھی عصر اور مغرب کی درمیان کا وقت روزہ داروں پر بڑا کٹھن گزرتا ہے اس لیے ہر ایک کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت یہیں پر گزار لیا جائے۔ ایسے ہی ایک ٹولی میں، میں بھی خاموش سامع بن کر جا شامل ہوا۔

مسجد سے نمازیوں کی خروج کی ترتیب وہی تھی جو ازل سے چلی آرہی ہے۔ سب سے پہلے بچے، پھر جواں، اس کے بعد ادھیڑ عمر، پھر بزرگ حضرات اور سب سے آخر میں امام صاحب مسجد سے برآمد ہوئے۔ امام صاحب کے ساتھ تراویح پڑھانے والے قاری صاحب بھی برآمد ہوئے۔ قاری صاحب پچھلے سال ہی حفظ سے فارغ ہوئے تھے لیکن اپنی خوش الحانی، بہترین قراؑت اور شاندار حافظے کی وجہ سے نمازیوں میں کافی پسند کیے جاتے تھے۔ ان کی ہلکی سی داڑھی پر سفید عمامہ، سفید شفاف کپڑوں اور سیاہ واسکٹ کے ساتھ آنکھوں کو بھلا لگتا تھا۔ قاری صاحب سر جھکائے ہمارے پاس سے سلام دیتے ہوئے گزرے جس کا سب نے باآوازِ بلند جواب دیا۔ قاری صاحب تھوڑی دور گئے ہوں گے کہ کسی نے کہا ”ماشاءاللہ، قاری صاحب کے چہرے سے عجب نور ٹپکتا ہے“ اس کے ساتھ ہی ”ماشاءاللہ“ اور ”بے شک“ کا غلغلہ بلند ہوا۔ اس ساری صورتحال نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔

اتفاق سے قاری صاحب ہمارے پڑوسی واقع ہوئے ہیں۔ ماشاءاللہ اچھا خاصا کھاتا پیتا گھرانا ہے۔ قاری صاحب تقریباً ایک سال سے فارغ ہیں اور اپنے نام کا لاج رکھنے کے لئے اکثر سفید شلوار قمیض میں ملبوس رہتے ہیں۔ گھر والے ان کی تن آسانی اور فراغت کی دبے لفظوں میں شکایت کرتے ہیں مگر حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے براہ راست کچھ کہہ بھی نہیں پاتے۔ قاری صاحب کی جسمانی صحت کا راز ان کی خوش خوراکی اور گھر میں انواع و اقسام کے میوؤں، کھانوں اور اشیاء خورد ونوش کی فراوانی میں بھی پوشیدہ ہے۔ پچھلے ایک سال سے انہوں نے اپنے آپ کو کسی بھی ایسے کام سے دور رکھا ہے جس میں ذہنی یا جسمانی مشقت شامل ہو۔ انسان کو اگر بہترین غذا، جسم و ذہن کی آسانی اور دیگر آسائشیں میسّر ہو تو اس کا نتیجہ آپ کے چہرے اور مزاج پر ظاہر ہونا حیرانگی کی بات نہیں۔

اس موقع پر مجھے وہ سفر یاد آگئے جو میں نے اندرون بلوچستان کیے ہیں۔ ہرنائی کے سفر میں ہماری گاڑی ایک ایسی جگہ رُکی جہاں ایک جھونپڑی میں ایک آدمی پانی اور کولڈ ڈرنک کی چند بوتلیں سجائے بیٹھا تھا۔ ہر آتی جاتی گاڑی دھول اڑاتی گزرتی اور یہ دھول وہاں پر موجود ہر چیز پر اپنی تہہ چڑھاتی جارہی تھی۔ گاڑی کے رکتے ہی ایک دس بارہ سال کا بچہ پانی کی بوتلیں لیے ہماری طرف دوڑا۔ وہ سمجھا ہم بھی شاید پانی کی ٹھنڈی بوتلیں خریدنے رکے ہیں۔

بچہ جب کھڑکی کے قریب آکے رک گیا تو میں اس کی چہرے کی رنگت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے چہرے پر گرد کی تہیں چڑھ کر بالکل پختہ ہوچکی تھیں اور دھوپ کی حد ت نے ان تہوں کو بھی جھلسا کے رکھ دیا تھا۔ گرد، دھوپ کی شدت، مناسب خوراک کی کمی، معاشی مشکلات اور مسلسل سخت جسمانی مشقت سے یہ بچہ بالکل کملا کے رہ گیا تھا۔ پھر یہ مناظر میں نے سبی میں، جیکب آباد اور اندرونِ بلوچستان اور سندھ کے بہت سے شہروں میں دیکھے۔ چلیں مان لیتے ہیں میری عمر کا کوئی آدمی اپنے گناہوں اور کرتوتوں سے اپنے چہرے کے نور سے محروم ہوچکا ہو مگر ایک معصوم بچہ جس نے زندگی میں مشکلات اور تنگدستی کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا ہو اس کا چہرہ کیسے بے نور ہوسکتا ہے؟

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ میں کلامِ پاک اور اس کے نورانی اثرات سے یکسر منکر ہوں۔ آدمی جب اس کلامِ پاک کو سمجھ کر پڑھتا ہے، پھر اس کی مدد سے غوروفکر کرکے اپنے اعمال میں درستی لاکراپنی ذہنی اور جسمانی اطمینان کا سامان کرتا ہے تو ظاہر ہے یہ اطمینان انسان کے چہرے سے عیاں ہوسکتا ہے مگر اس درجے تک پہنچنے کے لئے قرآن کے اندر چھپے ہوئے اسرارورموز جاننے، وسیع اور عمیق سائنسی اور دنیاوی معلومات رکھنے اور مختلف علوم کو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ اس لذت اور اطمینان سے آشنا ہوتے ہیں جو کسی چیز کو پالینے یا سمجھ لینے کے بعد میسّر آتا ہے۔

اس ساری بحث کا مقصد یہ تھا کہ ہم مذہب کے معاملے میں ایک غیر ضروری اور مُضررساں جذ باتیت کا شکار ہو کر عقل و فکر کو ایک کونے میں لپیٹ کے رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بار بار تدبّر، تفکر اور فھم کا حکم دیتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس قدر خوبصورت اور شاندار ذہن عطاء کیا ہے تو کیا اس کو استعمال نہ کرنا ایک انتہاء درجے کی کفرانِ نعمت نہ ہوگی؟

Facebook Comments HS