شیخ رشید، کیا اتنے اجڑے گھر کافی نہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں میں دو چیزیں مانگنے کا رواج عام ہے ایک وراثت میں سے حصہ اور دوسرا اگر آپ حزب اختلاف میں ہیں تو حکومتی اراکین سے استعفیٰ۔ عمران خان جب حکومت میں نہ تھے تو کسی بھی وزارت کے ماتحت کام کرنے والے کسی ادارے میں کوئی کرپشن ہوجائے، بدعنوانی کا تذکرہ ہوجائے یا کوئی حادثہ تو عمران خان اور ان کے ساتھی متعلقہ وزیر کے استعفیٰ کا مطالبہ زور وشور سے کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کا ایسا رویہ اس لئے تھا کیوں کہ انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ بیرون ملک ترقی یافتہ ممالک میں گزارا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی حکومتی ارکان پر کوئی الزام لگتا ہے یا وہ اپنا کام ٹھیک سے سر انجام نہیں دے پاتا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کرسی ہی تو ہے جنازہ تو نہیں۔

موجودہ وزیر ریلوے شیخ رشید عمران خان کے ان ساتھیوں میں سے ہیں جن کا جوش خطابت کنٹینرپر دیکھنے کے قابل ہوتا تھا موصوف جب کنٹینر یا کسی دھرنے کے اسٹیج پر پہنچتے تو جلا دو، باہر نکلو، احتجاج کرو ان کو بھگا دو کی صدائیں بلند ہوجاتی۔ ماضی میں لودھراں ٹرین حادثہ ہو یا کوئی اور حادثہ چیئرمین تحریک انصاف اور سربراہ عوامی مسلم لیگ کی جانب سے عوام کو بتایا جاتا کہ یہ واقعہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے لہذا وزیر ریلوے استعفیٰ دیں۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل یہ بات ظاہر تھی کے شیخ رشید کو کوئی نہ کوئی وزارت ضرور دی جائے گی۔ زیادہ امکانات یہی تھے کہ انہیں یا تو وزیر اطلاعات منتخب کیاجائے گا یا پھر وزیر ریلوے کاعہدے ان کے حصے میں آئے گا۔ مسلم لیگ ن کی دیگر معاملات میں کاکردگی کا کرپشن کے الزامات اپنی جگہ لیکن خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے کی حیثیت سے ایک بہتر وزیر ثابت ہوئے۔

شیخ رشید کی وزارت کے 10 ماہ کے دوران ریلوے میں حادثات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ شیخ رشید کے موجودہ دور میں چھوٹے بڑے تقریباً 79 حادثات پیش آ چکے ہیں جس میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع اور ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ چند روز قبل بھی اکبر بگٹی ایکسپریس رحیم یار خان میں ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

پے درپے ٹرین حادثات کے بعد نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی وزیر ریلوے شیخ رشید سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے پر شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرین حادثوں پر وزیر کے مستعفی ہونے کی مثالیں دینے والے عمران خان اپنے وزیر سے استعفی مانگیں گے، ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کا محکمہ تباہ کیا جس کا خمیازہ جمہوری حکومتوں کو بھگتنا پڑا جب کہ عمران خان نے بڑے فخر سے شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت دی اور آج خان صاحب کا یہ فیصلہ بھی غلط نکلا۔

صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے ٹرین حادثے میں 12 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان اور 67 سے زائد کے زخمی ہونے پر رنج و غم اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں، کمزور ریلوے ٹریک اور ناقص منصوبہ بندی حادثات کا باعث بن رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اپوزیشن کے مطالبے اور تمام حادثات کے بعد شیخ رشید کا موقف یقینا وہی ہے جو کرسی پر براجمان ہر عہدیدار کا ہوتا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے استعفے کے مطالبے پر وزیر ریلوے نے کہا کہ میرے ضمیر پر ابھی بوجھ نہیں اس لیے استعفیٰ نہیں دے رہا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ضمیر پر بوجھ کے لئے 70 سے زائد حادثات کافی نہیں؟ کیا ضمیر پر بوجھ کے لئے 12 قیمتی جانوں کا نقصان یا دوسرے لفظوں میں 12 گھروں کا اجڑ جانا کافی نہیں؟

یا پھر شیخ ریشد احمد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کارکردگی بالکل درست ہے؟ سعد رفیق کے جاتے جاتے وہ کیا جو تقسیم ہند کے وقت پاکستان والے حصے سے جانے والے ہندو کر گئے تھے یعنی مشینری خراب؟ کیا سعد رفیق جاتے جاتے کچھ ایسا کر گئے جس سے یہ سب حادثے ہورہے ہیں؟ یا پھر ان حادثوں کی وجہ بھی ن لیگ کی کرپشن ہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ریلوے میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو شیخ رشید احمد کو ناکا م ثابت کرنے کے لئے حادثات کرا رہے ہیں؟ شیخ صاحب اگر ایسا ہے تو پردہ فاش کیوں نہیں کیا گیا اور اگر ایسا نہیں تو پھر ضمیر پر بوجھ کے لئے کون سا بھاری پتھر رکھا جائے؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت شیخ رشید اپنے ماضی کے بیانات پر قائم رہتے۔ عمران خان بھی اب ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں انہیں اب کسی مطالبے کی ضرورت نہیں۔ انہیں بس اس بات کا تعین کرنا ہے کہ ماضی میں انہوں نے عوام سے جو باتیں کی وہ درست اور عوامی مفاد میں تھیں یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تھی؟ اگر تو ان کی باتیں عوامی مفاد میں تھیں تو پھر اب کسی مطالبے کی ضرورت نہیں شیخ رشید احمد کو عہدے سے ہٹایا جائے اور حادثات کی تحقیقات کرائی جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •