قسمت اور میں


میں ایک دن ایک اجنبی مقام پر ایک لڑکی سے ملا جس کا نام ”قسمت“ تھا۔ پہلے تو میں بڑا حیران ہوا کیوں کے اس سے پہلے قسمت کا نام کسی ایسے انسان سے سنتا تھا جس کو اپنی ناکامیوں کی وجہ سمجھ نہیں آ تی تھی تو وہ قسمت پر ڈال دے تا تھا۔ مجھے کیا پتا تھا کے وہ ایک سادا اور شریف سی لڑکی ہے۔ میں جانتا ہوں کے دنیا کی لڑکیوں میں یہ صفات نا ہو نے کے برابر ہیں پر وہ دنیاوی لڑکیوں سے بہت الگ تھی۔ تعارف کے بعد جب سوالو و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو پہلا سوال بھی یہ ہی کیا کے دنیا میں اتنے لوگ ناکام ہو رہے ہیں اور وہ اپنی ناکامی کا ذمے دار تمہیں ٹھہراتے ہیں۔

کیا تم واقے ئی اس کی ذمے دار ہو یا پھر لوگ الزام لگا رہے ہیں، اگر الزام ہے تو تم نے کبھی تردید کیوں نہیں کی؟ قسمت نے ہزاروں سالوں کی خاموشی توڑتے ہوئے کہا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں میرا نا تو ان کی کامیابی میں کوئی کردار ہے اور نا ہی ناکامی میں۔ انسان کی یہ فطرت ہے کے وہ اپنی ذمے داری نہیں قبول کرتا وہ اپنی ناکامیوں کا ذمے دار کسی اور کو ٹھہرانا پسند کرتا ہے۔ اگر وہ کسی انسان کو یا ایسی چیز کو ذمے دار ٹھہرائے جو مکمل وجود رکھتی ہو تو اس پر مزید سوال ہوں گے اور انسان مجبور ہو کر اپنی ذمے داری قبول کر لے تا اس لئے اس نے میرا سہارا لیا ایک ایسی چیز جس پر سوال نا ہو سکیں اور نا وہ چیز خود تردید کرے اس طرح سے انسان آسانی سے اپنی ناکامی سے بھاگ سکتا تھا۔

اب جب ناکامی بیرونی طاقت سے ہو تی ہے تو ایسے انسان کی عقل یہ بھی ماننے کے لئے تیار ہو گئی کے کامیابی بھی میرا (قسمت) کا کمال ہے۔ انسان اپنے ہر کام کا ذمے دار خود ہے اگر ایسا نہیں ہو تا تو بھلا جب کوئی کسی کا قتل کرتا ہے تو قانون اس کو سزا کیوں دے تا ہے اگر وہ قتل میری (قسمت) کی وجہ سے ہوا ہے۔ حقیقت میں تو میرا دنیا سے کوئی تعلق ہی نہیں، نا ہی میرا دنیا میں وجود ہے۔ مجھے اس دنیا میں یونان کے لوگوں نے مشہور کیا اور پھر یوں یہ سلسلہ صرف یونانیوں تک نہیں رکا اور زمین کے ہر ٹکڑے پر بسنے والوں نے بنا حقیقت جانے مجھے (قسمت) کو مان لیا۔ میں نے ایسا جواب ملنا پر قسمت کا شکریہ ادا کیا اور جا تے جا تے عرض کیا کے قسمت میری قسمت اچھی کرنا۔

Facebook Comments HS