ڈرامے، لڑکے اور لڑکی کے درمیان عشق، محبت اور غیر ازدواجی معاشقے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل ایک پاکستانی ڈراما دیکھنے کا اتفاق ہوا ڈراما بھی ایسا کہ جو سرے سے ہی پاکستانی نہ تھا۔ پاکستانی کلچر کی تباہ کن صورتحال کا عکس میری نظروں کے سامنے تھا۔ اس ڈرامے میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جو اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتی ہو۔

فحاشی تو ہمارے میڈیا کی زینت ہے ہی مگر آج بھی پاکستانی میڈیا وہی برسوں پرانا پدرسری کا کانسیپٹ بھی پروموٹ کر رہا ہے۔ آج بھی ہم لوگ لڑکے اور لڑکی کے درمیان عشق، محبت اور غیر ازدواجی معاشقوں کو بڑھا چڑھا کر اس طرح نئی نسل کے سامنے پیش کر رہے ہیں کہ وہ کسی صورت بھی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ یہ سب چیزیں ناپید ہو چکی ہیں۔

ڈراموں میں نکاح جیسے مقدس رشتے کی اس طرح حالت بگاڑی گئی ہے کہ کسی صورت بھی مسلمان ہونے کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔

فکر کی بات تو یہ ہے کہ وہی برائیاں جن کا رونا ہر دوسرا شخص سر پیٹ پیٹ کر رو رہا ہے وہی ہمارا میڈیا سرے عام دکھا رہا ہے۔ ہر دوسرا کالم نگار میل ڈومینیٹڈ سوسائٹی پر لمبا چوڑا کالم لکھتا ہے اور دوسری طرف ہمارا میڈیا اسی کو بڑھا چڑھا کر دیکھاتا ہے۔ ہم لوگ خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم، زیادتی اور غیر منصفانہ سلوک سے پریشان ہیں اور ہمارا میڈیا دیکھاتا بھی ہے تو عورت کے ساتھ مار پیٹ، تشدد، ظلم، عورت کی زبردستی شادی اور طلاق۔

میڈیا کی قدرومنزلت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اگر ہم سماجی برائیوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ انہیں میڈیا سے اس طرح غائب کر دیا جائے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھیں۔ جب ہم ظلم و ستم، عشق و محبت، خواجہ سرا، خواتین سے نامناسب سلوک اور طلاق سے مزین مواد دکھانا ترک کر کے ان سب سے چھٹکارے اور ان کے نامناسب ہونے کی طرف لوگوں کو راغب کریں گے تو شاید ہم زیادہ شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔

دیکھنے اور دکھانے والے بہت ہیں کمی ہے تو محض عنوان کی۔ اس قلت کا مطلب یہ تو نہیں کہ صحیح و غلط، تہذیب و ثقافت اور اخلاقیات کے تسلسل کو ہی چاک چاک کر دیا جائے۔ پاکستانی فلمیں تو اب یوں معلوم ہوتی ہیں جیسے انڈین مووی کے پوسٹر پر ”میڈ ان پاکستان“ لکھ دیا گیا ہو۔ ”شیر کی کھال میں بھیڑ“ کا سا سماں ہوتا ہے جب پاکستانی اداکار پاکستانی ہوتے ہوئے انڈین اداکاروں کی کھال اوڑھ لیتے ہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری زندگی میں میڈیا ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے میڈیا کے نمائندوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں مذہب، اخلاقیات، تہذیب و ثقافت اور ایسے افعال کو پروان چڑھائیں اور ایسا مواد پیش کریں جس سے لوگوں کی اصلاح، سماجی، معاشرتی اور ملکی ترقی قدم سے قدم ملا کر چلتی رہیں نہ کہ ایسا مواد جو کہ معاشرے میں انتشار، ظلم و ستم، نا انصافی اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنے۔

پہلے پہل ماں، دادی اور نانی بچوں کو اچھے برے سے روشناس کراتے تھے مگر آج یہ سب فرائض میڈیا انجام دے رہا ہے۔ اب اگر بزرگوں کا مقام کھینچ ہی لیا ہے تو اسے احسن طریقے سے انجام دینا بھی ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •