لائلپور اور عربی بدو کی گود

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل آباد کی مشہور شاہراہ ستیانہ روڈ سے اکثر گزر ہوتا ہے۔ حال ہی میں تعمیر شدہ پُل کے نیچے، چوراہے کی خوبصورتی میں چنداں اضافہ کی خاطر کچھ مجسمے لگائے گئے ہیں۔

نہ جانے ان مجسموں کو دیکھ کر سراہنے کی بجائے کمتر، بدتہذیب، ذہنی بیمار، بد ذوقی اور ضیا الحقی سوچ کا عکس اُبھر کر سامنے آتا ہے۔

ضیاء الحق کے دور میں لائلپور کا نام سعودی عرب کے شاہ فیصل کے نام کی مناسبت سے فیصل آباد میں تبدیل کرکے علامتی طور پر رہائشیوں کو عرب کی گود میں بٹھا دیا تھا لیکن اس کا عملی مظاہرہ حال ہی میں مجسمے نصب کرکے دیکھنے میں آیا۔

عرب کی ثقافت اُجاگر کرنے کے مطمع نظر ادارے نے ضیاء کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے تہذیب کا دامن تار تار ضرور کیا ہے۔ فیصل آباد کو مشرف با اسلام کرنیکی بھونڈی/بھدی کوشش جس میں تین مجسمے عربی لباس، سر پر ٹائر نما باندھے ایسے بیٹھے دکھائے گئے ہیں کہ تین لوگ محو گفتگو ہیں اور ہئیت ان تین عربیوں کی کُرسی سے مشابہہ بنا دی گئی ہے اب تصویر کشی کے شوقین حضرات ان عربیوں کی گود میں بیٹھ کر تصویر کھنچوانے کا شوق پورا کرتے نظر آتے ہیں۔

اس طرز کی کرسی کہ بدو کی گود میں بیٹھے نظر آنا کس بد ذوق کی تسکین طبع ہے؟ ایسی بد تہذیبی کی علامت یوں برسرعام لگا کر نجانے کس کی خواہش کی تکمیل کی گئی ہے۔ دو مجسمے صحرائی منظر پیش کرتے اونٹ اور مہار تھامے عربی ہمارے لئے مذہبی علامت بنے کھڑے ہیں۔ یہ سعودی آقا بنے اپنی غلام قوم کے لئے مشعل راہ بنے نظر آنے والے بد نما داغ ہیں فیصل آباد کے چہرے پر۔

خدا جانے عرب اقوام اور ثقافت نے علوم کی دنیا میں کیا کارنامے انجام دیے ہیں جو ان کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

فیصل آباد ثقافتی اعتبار سے وسیع تناظر میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ پارچہ بافی کی صنعت، زراعت کا تحقیقاتی ادارہ، ٹیکسٹائل یونیورسٹی، زرعی پیداوار، گھریلو صنعت میں ایک اعلیٰ مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی کھیل ہاکی کے نمایاں ترین کھلاڑیوں، موسیقی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکاروں اور دیگر شعبہ جات میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔

فیصل آباد کی سابق انتظامیہ نے شہر کی تاریخی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ درجے کا کام کیا اور شہر کے ایسے باب جو تاریخ کے اوراق میں گُم ہوچکے تھے اس شناخت کی بحالی بارے خوب کوشش کی اور مختلف شعبہ جات کی نامور شخصیات، شاعر، منتظمین، موسیقار و گلوکار کے ناموں سے چوراہوں کو منسوب کرکے عمدہ کوشش کی۔ اور علاقہ کے تاریخی نام کی یاد دہانی کے حوالہ سے کینال روڈ کو پکی ماڑی انکلیو، ساندل بار انکلیو اور لائلپور انکلیو میں تقسیم کرکے ماضی کو زندہ رکھنے کی عمدہ کوشش ہے

خدارا شہر کی تزئین و آرائش میں ثقافت اُجاگر کرنے کے اور بھی عمدہ پہلو ہو سکتے ہیں۔ جیسے بیل گاڑی، رہٹ، کنواں، کولہو، کھڈی، ہاکی کی مناسبت سے مجسمے، اور اگر مذہبی جنونیت اجازت دے تو کھیتوں میں کام کرتی خواتین جیسے کپاس چُنتی خواتین، دھان، گندم کی فصل کی بوائی یا کاشت کرتی خواتین۔ جو کہ محنت کی علامت اور قوم کے حقیقی ہیروز کا کردار ہیں۔

وگرنہ معزرت کے ساتھ صحرا میں اونٹ لے کر گھومتے بدو اور مرد و زن کو گود میں بیٹھنے کی دعوت دیتے بدو میرے شہر فیصل آباد کا حقیقی عکس نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •