بُک رویو: جوخہ الحارثی کا ناول۔ (Celestial Bodies)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عُمانی مصنفّہ اور عربی ادب کی پروفیسر جوخہ الحارثی نے اپنے نئے ناول ’سیداۃ القمر‘ میں عمان میں گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں رونما ہونے والے سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کونہایت خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ ناول کا انگریزی ترجمہ Celestial Bodiesکے نام سے مارلن بوتھ نے کیا ہے جو اوکسفرڈ یونیورسٹی کی میگڈلن کالج میں اورئنٹل اسٹڈیز کی پروفیسر ہیں۔ ناول کے ترجمے نے سال 2019 کا مین بین الاقوامی بوکر انعام حاصل کیا اور ناول پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ ناول واقعی اس کے قابل ہے۔ یاد رہے کہ عربی زبان میں لکھا گیا یہ پہلا ناول ہے جس نے یہ انعام وصول کیا ہے۔

بقول امر جلیل ’دنیا میں کہانی لکھنے کے ٹوٹل چھتیس تھیمز ہیں جن پر چھتیس لاکھ سے زائد کہانیاں لکھی جا چکی ہیں۔ لیکن کہانی کا اندازِ بیاں ایک ایسا عنصر ہوتاہے جو کہانیوں امر بناتا ہے‘ ۔ اس ناول کا بھی بیاں ایساہے جہاں مصّنفہ نے سیدھی کہانی لکھنے کے بجا ئے کرداروں کے ذریعے ناول میں حال کے ساتھ ساتھ ماضی کے سب سِروں کو جوڑ کر کہانی لکھی ہے۔ کہانی کے دو بیانیے ہیں : ایک بیانئے میں مصّنفہ تیسرے انسان کی زبان میں مختلف کرداروں کی کہانی بتاتی ہے اور دوسرے بیانئے میں عبداللہ اپنا ماضی اور حال بتاتا جاتا ہے۔ سادہ اور سیدھے انداز میں لکھا ہوا نہ ہونے کے باعث ناول قاری کی توجہ زیادہ طلب کرتا ہے۔

ناول کی کہانی دو عُمانی عرب خاندانوں کی تین نسلوں پر مبنی ہے۔ پہلی نسل میں شامل کرداروں میں دو بیوپاری سیٹھ سلیمان اور سیٹھ آذان ہیں جو غلاموں اور کھجور کا کاروبار کرتے ہیں۔ دونوں بیوپاری روایتی عرب لارڈز ہیں جن کے لئے وقت کے ساتھ تبدیل ہونا نا ممکنات میں شامل ہے۔ حتیٰ کہ غلامی کا نظام ختم ہونے کے با وجود بھی یہ غلاموں کا کاروبار کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ سیٹھ سلیمان کے خاندانی غلام حبیب اور زریفا بھی شامل ہیں۔ سیٹھ سلیمان کے زریفا کے ساتھ جنسی تعلقات بھی ہوتے ہیں لیکن ایک دن غصے میں آکر وہ زریفا کی شادی حبیب سے کروا دیتا ہے۔ بعد میں حبیب آزادی کی چاہ میں بیوی اور بیٹے کو چھوڑ کر اچانک بھاگ جاتا ہے۔

دوسری نسل میں مذکورہ بالہ کرداروں کے ہی بچوں کی کہانی ہے۔ آذان کی بڑی بیٹی دل برداشتہ مایا کی شادی سلیمان کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ کر دی جاتی ہے ان کے ہاں پہلی بیٹی کی ولادت ہوتی ہے جس کا نام لندن رکھا جاتا ہے۔ لندن کے بعد ان کے بعد دو لڑکے سلیم اور محمد پیدا ہوتے ہیں۔ محمد کے پیدا ہونے اور سیٹھ سلیمان کی فوتگی کے بعد عبداللہ مایا کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں سے نقل مکانی کر کے مسقط شفٹ ہو جاتا ہے۔ شادی کے بعد مایا خاموشی میں پناہ لے لیتی ہے اور بچے پیدا ہونے کے بعد نیند کے آغوش میں کھو جاتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ نیند تو خاموشی سے بھی زیادہ بہتر ہے کیوں کہ نیند سمیں آپ کو کسی کو سننے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی ہے۔

سیٹھ آذان کی دوسری بیٹی اسماء والدین کے فرض کی ادائیگی سمجھتے ہوئے شادی کرتی ہے۔ اس کا شوہر خالد ایک آرٹسٹ ہے۔ اپنے شوہر کے دل میں اپنی جگہ بنانے کے اسماء لاکھ کوششیں کرتی ہے لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ خالد اپنی پینٹنگز کی دنیا میں محو رہتا ہے۔ وہ اس محور میں جا کر اپنی جگہ تو بنا سکتی ہے لیکن خالد کبھی بھی اسماء کے بنائے ہوئے محور میں محصور نہیں ہو سکتا۔

آذان کی تیسری بیٹی خولہ دس رشتے ٹھکرا کر پانچ سال انتظار کرنے کے بعد اپنے چچا زاد سے شادی کر تی ہے۔ اس کا چچا زاد شادی کے دس سال بعد بھی کینیڈا میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا ہے۔ وہ دو سال میں ایک بار عمان آ کر اپنے نو مولود بچے کی شکل دیکھ کر واپس کینیڈا چلا جاتا ہے۔ جب وہ واپس آ کر عمان میں سیٹل ہوتا ہے تب خولہ کو ماضی کی سب تلخ یادیں شدّت سے جنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ اسماء کا دس سال تک ٹھنڈا پڑا ہوا بستر، ہسپتال میں ڈلیوری کے وقت اپنے شوہر کا نہ ہونا، محّلہ دار خواتین کے طنز کے بھرے طعنے۔ غرض کہ دس سال کی ساری فصل کانٹوں سمیت اُگ آتی ہے۔ تب خولہ ایک سنگین فیصلہ کرتی ہے۔

تیسری نسل میں مرکزی کردار مایا اور عبداللہ کی بیٹی لندن کاذکر کیا گیا ہے جو ڈاکٹر بن کر ایک غریب کسان کے بیٹے احمد پر دل ہار بیٹھتی ہے جس پر اس کا خاندان ناخوش ہوتا ہے۔ آخر لندن کی ضِد پوری کرنی پڑتی ہے آخر۔ لندن سوچتی ہے کہ ’آخر وہ زندگی کی کتاب کا ایک صٖحہ پلٹ کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئی‘ لیکن اُسے پتہ چل جاتا ہے کہ ایسے سماجوں میں مرد آخر مرد ہے۔

بحر حال تبدیل ہوتی ہوئی صورتِ حال ہر چیز کو نہایت تیز رفتاری سے تبدیل کرتی جاتی ہے۔ لائف اسٹائل، کاروبار کے طور و طریقے، اسٹاک ایکسچینج کا بزنس، انگریزی زبان کی بڑھتی اہمیت اور رائج ہونا، ریئل اسٹیٹ کا کاروبار وغیرہ وغیرہ مطلب کہ ملک میں برق رفتاری سے سماجی تبدیلیاں رونما ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ صدیوں سے رائج غلامی کا نظام بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن عورت کے صرف حالات میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اس کے سماجی رُتبے میں کیوں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

ناول میں ایک ہی سماج میں دو مختلف جہتوں کی دنیا دکھائی گئی ہے : ایک مردوں کی دنیا جہاں مرد جب چاہیں اپنی کسی غلام، لونڈی یا بدّو خاتون سے جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی ان کا سماجی رتبے پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اور دوسری دنیا عورت کی جہاں جدیدیت اور ترّقی آنے کے باوجود سبھی معاشرتی اقدار برائے نام ہی تبدیل ہوئی ہیں اور نفسیاتی طور آج بھی وہ مرد کی غلام ہے۔ اس کی اپنی کوئی خواہش مرد کی منشا کے بغیر پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔ بھلے ہمارا معاشرہ گلوبلائیزیشن کا حصہ بن جائے لیکن عورت کے معاملے میں اس گلوبلائیزیشن کو سمجھنے اور اس کا عملی طور پر اطلاق کرنے میں ہمارے جیسے معاشروں کو اب بھی صدیاں درکار ہیں۔

کتاب کا نام : سیداۃ القمر

مصنّفہ : جوخہ الحارثی

کتاب کا نام (انگریزی) : سیلیسشیل باڈیز (Celestial Bodies)

متّرجم : مارلِن بُوتھ

صفحات : 256

ناشر : سینڈ اسٹون پریس، برطانیہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •