َچُمّی کی حمایت میں ایک کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چُمی یقینا آپ کو ایک غیر پارلیمانی یا غیر اخلاقی لفظ لگ رہا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو آپ یہ طے کررہے ہیں کہ الفاظ بھی تناظرات اور موقع محل کی مناسبت سے تبدیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات معنی بھی بدلتے ہیں۔ لہٰذا کالم کے عنوان میں لفظ چُمی کو دانستہ استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ الفاظ کس طرح سے کریہہ المنظری کا تاثر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر چُمی کے مترادفات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو کسی ”شے“ کو چومنا چُمی کہلاتا ہے۔

بوسہ میں تعظیم کا تاثر ابھرتا ہے۔ Kiss کئی سماجوں میں تہذیبی یا تقریباتی تاثر دیتا ہے۔ چومنے میں حسی تعلق کا تاثر ملتا ہے جب کہ چُمی میں جسمانی یا جنسی کیفیت کا تاثر ملتا ہے۔ آپ مختلف شخصیات اور چیزوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر چومتے ہیں۔ اگر آپ اپنے شریکِ حیات کو چومیں تو یہ ایک قدرتی اور ناقابلِ گرفت عمل ہے۔ ایسے ہی شریکِ حیات کے ساتھ جنسی عمل بھی ناقابلِ گرفت ہے بلکہ جائز اوردرست ہے لیکن یہ دونوں اعمال اگر باہر گلی میں کریں تو لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔

مثلاً پہلا اعتراض یہ ہوگا کہ یہ بے حیائی ہے یعنی سماج میں حیا کا تصور ہے۔ سماج لادین ہو، سیکیولر ہو، غیر مذہبی ہو ایک ریڈ لائن بہر حال ضرور طے کی جاتی ہے جس سے آگے کا عمل قابلِ اعتراض اور بعض اوقات قابلِ گرفت ٹھہرتا ہے۔ گویا تناظر نے ایک ہی عمل کے معنی بدل دیے۔ پچھلے دنوں ہمارے دوست اور بہت پڑھے لکھے دانش ور جناب رفیع اللہ میاں صاحب نے اسی۔ ”ہم سب“ پر ایک کالم لکھا۔ جسے پڑھ کر بہت سے دوستوں کا یہ ماننا ہے کہ انہوں نے یہ کالم چُمی کی حمایت میں لکھا ہے۔

کالم کا عنوان ”وہ ایک بوسہ جسے تو گِراں سمجھتا ہے“ ہے اور جو ”ہم سب“ پر 13 جولائی کو شائع ہُوا ایک صابن سے منسوب ایوارڈ شو میں ایک اداکار کے ایک اداکارہ کو شریکِ حیات چننے کے اعلان اور اُس سے بغل گیر ہوکر چومنے [چُمی کرنے ]سے متعلق ہے۔ میاں صاحب نے ان لوگوں کی بہت کلاس لی جو اس واقعے پر ہاہاکار مچا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس واقعے کو ایک خاص فریم (یہاں ان کی مراد تنا ظر ہے شاید) میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اسی کالم میں تھوڑا آگے لکھتے ہیں جو میں یہاں بعینہِ تحریر کررہا ہوں ”ایک حدیث میں عورت کو چومنے سے متعلق استفسار کا معاملہ ہے۔ محسنِ انسانیت (ﷺ) نے فرمایاکہ کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے۔ تو یہ گناہ معاف ہوگیا ہے۔ مذہبی فریم میں اس گناہ کی اتنی حیثیت ہے۔ لیکن گناہ تو تب ہے جب آپ کا اس عورت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ جسے آپ سب کے سامنے شریکِ حیات بنانے کا اعلان کرتے ہیں اُسے چومنے پر آپ کیا ’حد‘ لے کر آئے ہیں؟ “ [اس سے آگے کا متن ان کوٹ ہے ]میاں صاحب نے اس کے بعد سماجی تناظر اور ثقافت پر بات کی وغیرہ وغیرہ۔ میں اُن کے کالم کا لنک بطورِ حوالہ پیش کررہا ہوں تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
https://www.humsub.com.pk/253164/rafiullah-mian/

میں نے فیس بک پر اس ضمن میں ایک پوسٹ لگائی تاکہ ان سے اس حدیث کا حوالہ اور تناظر جان سکوں اور اس ضمن میں دیگر مذہبی دوستوں سے بھی مدد طلب کی۔ جلد ہی مکمل حدیث بھی دستیاب ہوگئی۔ مسدد، یزید بن زریع، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعودحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ ہُوَ ابْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَۃٍ قُبْلَۃً فَأَتَی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَأُنْزِلَتْ عَلَیْہِ وَأَقِمْ الصَّلَاۃَ طَرَفَیْ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِینَ قَالَ الرَّجُلُ أَلِیَ ہَذِہِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ أُمَّتِی

ترجمہ:

مسدد، یزید بن زریع، سلیمان تیمی، ابوعثمان، حضرت ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک غیر آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا اور پھر یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آکر بیان کردی اور معافی کی التجا کی اس وقت یہ آیت نازل فرمائی گئی کہ وَأَقِمْ الصَّلَاۃَ طَرَفَیْ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّیْلِ الخ) تو اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ حکم صرف میرے لئے ہے یا سب کے لئے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا میری امت میں جو نیک لوگ ہیں ان کی نیکی ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے لہذا جو میری امت میں جو بھی غلطی کرے اس کے لئے یہ حکم ہے۔

اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سِروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں (114) سورہ ہود

اب آتے ہیں قبلہ رفیع اللہ میاں صاحب کے کالم کی طرف، اگر انہوں نے حدیث کا حوالہ نہ دیا ہوتا یا یہ فتویٰ نہ دیا ہوتا کہ ”لیکن گناہ تو تب ہے جب آپ کا اس عورت سے کوئی تعلق نہ ہو“۔ میاں صاحب کے اس کالم سے مذہبی فریم کے حوالے سے [جس کا حوالہ بالاہتمام انہوں نے خود کالم میں دیا]درجِ ذیل چیزوں کا تعین ہورہا ہے :

1۔ دو اجنبی (غیر یا نامحرم) جب ایک دوسرے کو اجتماع میں شریکِ حیات چننے کا اعلان کریں اور انگوٹھی پہنائیں تو ”تعلق“ قائم ہوگیا۔
2۔ اور جب تعلق قائم ہوگیا تو وہ ”جسمانی تعلق“ ( چومنا ہی سہی) قائم کرنے کے مجاز ہوگئے۔
3۔ اگر ان دونوں کے تعلق کا تعین نہ ہوتا تو یہ چومنا گناہ ہوتا۔ [انہوں نے کالم میں فرمایا کہ۔ ”لیکن گناہ تو تب جب آپ کا اس عورت سے تعلق نہ ہو۔ “ ]

میں نے یہ سوالات پوسٹ پر ان سے پوچھے بھی اور ان کو مینشن بھی کیا لیکن جواب نہ آیا۔ بہر حال متن آپ کے سامنے ہے۔ اب حدیث کی طرف آتے ہیں۔ حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے اس میں جو صاحب کسی کو چومتے ہیں وہ نادم ہیں اور اور معافی کے طلب گار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مجمع میں دو لوگ اپنی رضا کا اظہار کریں تو کیا جسمانی تعلق کی گنجائش بنتی ہے؟ کیا شادی سے قبل محض باہمی رضا مندی جسمانی تعلق کی۔ گارنٹی بن سکتی ہے؟

یہ بنیادی سوالات ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کے کالم تحریر کرنے کا مقصد یہ اسٹیبلش کرنا تھا کہ جب لڑکا لڑکی راضی ہوں تو بوس و کنار ”گناہ“ کی مد میں نہیں آتا۔ میاں صاحب نے میری فیس بک پوسٹ پر فرمایا کہ ”میری[یعنی میاں صاحب کی] بات غلط طریقے سے پیش کی گئی“۔ گویا تناظر ان کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے۔ گزارش ہے کہ انہوں نے حدیث کو بھی غلط طریقے سے پیش کیا۔ حدیث سے کہیں ثابت نہیں ہورہا کہ غیر عورت کو چومنے کا ”کفارہ“ محض نماز ہے۔

معافی کا در تو ہمیشہ ہی کھلا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ چاہے تو انسان کے تمام گناہ معاف فرما دے۔ لیکن اسلام کا ایک مکمل شرعی اور قانونی نظام ہے جو کئی گناہوں پر حرکت میں آتا ہے۔ لہٰذا یہ کہہ دینا کہ ”مذہبی فریم میں اس گناہ کی اتنی ہی حیثیت ہے“ درست نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کالم میں میاں صاحب نے دو فتوے دیے :

1۔ ”مذہبی فریم میں اس گناہ [ یعنی غیر عورت کو چومنا] کی اتنی ہی حیثیت [ یعنی نماز سے ختم ہوجانا] ہے۔
2۔ ”لیکن گناہ تو تب جب آپ کا اس عورت سے تعلق نہ ہو۔ “۔

میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کو مذہبی معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے اور احادیث کو درست تناظر مع حوالہ جات پیش کیا جائے کہ وہ خود اپنے متن کے بارے میں اتنے حساس ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ اس کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا، تو حدیث کو غلط طریقے سے پیش کرنے سے تفہیمی مسائل پیدا ہوں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے مولویوں سے ناراض میاں صاحب نے اپنی پوزیشن کو استحکام بخشنے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ یہی فکری تصادم ہے۔ محض باہمی رضامندی سے دو مختلف جنسوں کے افراد جسمانی تعلق قائم نہیں کرسکتے۔

یہ گناہ ہے چونکہ نکاح کے بغیران کے درمیان کوئی قانونی تعلق اسٹیبلش نہیں ہوتا۔ اب خواہ مخواہ قوم کو اس ایک فضول واقعے کی حمایت میں مذہب کا ستعمال نہ کیجیے۔ اداکاروں کے بوس و کنار پر میری اپنی پوزیشن واضح ہے لیکن میں اسے غلط ثابت کرنے کے لیے مذہبی فریم استعمال کرنے کی بجائے تھیئری اور فلسفے کو ترجیح دوں گا کہ اس میں غلطی کا مارجن ہوتا ہے مذہبی حوالہ جات میں نہیں۔ شکریہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •