اندھا ٹیکس رقص۔ کسان، صنعت کار، تاجر، اور وردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے پاس پورٹ، ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ ہم ”اسلامی جمہوریہ پاکستا ن“ ہیں۔ اب ان تین لفظوں پہ غور کیے بنا ہم کسی بھی سیاسی لیڈر کے پڑھے لکھے مشیرو ں کے لفظوں کی غلامی پہ لبیک کہتے ہو ئے ملک میں آگ لگا نے پہ اتر آتے ہیں۔ خدارا یہ ملک ہم سب کا ہے۔

ہم ٹیکس رقص پارٹی کر رہے ہیں۔ ایک خاص دانش مندی ہمیں سکھائی جارہی ہے۔ ہم کو پڑھے لکھے، دانشور، ایک مجبور وقت دانش کے پیچھے کسی اندھے کی طرح رقص کرنے پہ مجبور کر رہیں۔ چلیں آئیں دنیا میں سفر کرتے ہیں۔ مگر دانش وروں کی طرح نہیں عاشقوں کی طرح۔ کتنے ملک ایسے ہیں جہا ں جب جنگ ہو تی ہے تو زمیندار، تاجر سے صنعت کارو غریب عوام محبتوں سے لبریز اپنے وردی والو ں پہ دولت زیور اپنی جمع پونجی عاشقوں کی طرح لٹانے کو تیار ہو تے ہیں۔ سرحدوں پہ اپنی جان کی پروا کیے بنا تحائف و کھانے لئے چلے چلے جاتے ہیں؟ کتنے اسلامی ملک ہیں جہا ں شہادت اور موت کا فرق ایک فلسفہ ہے؟ جس سے دنیا خوف میں مبتلا ہو گئی ہے۔ مٹانے والے اس کو مٹانا چاہ رہے ہیں

اب آپ سوچ رہے ہیں اس کا تعلق ٹیکس سے کیسے ہو گیا۔ یقیناً رابعہ کا دماغ بھی خراب ہو گیا ہے۔ تو وہ خیر پیدائشی ہے۔

زمین پہ ٹیکس لگتا ہے، کھاد پہ ٹیکس لگتا ہے۔ پھر بیج پہ ٹیکس لگتا ہے۔ پانی جس سے اس فصل نے پروان چڑھنا ہے اس پہ ٹیکس لگتا ہے۔ فصل کی حفاظت کے لئے سپرے ہو نا ہے اس پہ ٹیکس لگتا ہے۔ فصل پہ ہل چلنا ہے، پیٹرول پہ ٹیکس لگتا ہے، ٹریکٹر پہ ٹیکس لگتا ہے۔ بس اگر اس عمل میں ٹیکس نہیں لگاتو سورج پہ نہیں لگا جس کی توانائی اس فصل کے لئے بہت اہم ہے۔ اب ایک بڑا زمیندار ہے۔ تو اس نے یہ سب ٹیکس ادا کر نے ہیں۔ تب جا کے یہ فصل تیا ر ہو گی۔

ظاہر ہے لاگت بڑھ گئی تو زمیندار اور کسان بھی فصل فروخت کرتے ہو ئے اتنی ہی آمدن کا مطالبہ کرے گا۔ مگر کوئی یہ نہیں سمجھ رہا ہے۔ ان سب ٹیکسیز کا مجموعہ ایک ہے۔ ایک فصل۔ جس سے کٹائی کے وقت زمیندار یا کسان کا ایک بار پھر خرچہ ہو نا ہے۔ کٹائی مشین سے ہو تو پیٹرول اور مشینیں ایک بار پھر ان کی مدد چاہیے جو بنا خرچے کے ممکن نہیں۔ اگرکسان کٹائی خود کر تے ہیں تو ان کا سال بھر کا اناج ہے۔ یا ان کا معاوضہ۔

زمیندار نے یہ خرچہ بھی کرنا ہے۔ اب فصل کٹ کے تیار ہو چکی ہے تو اس کے فروخت کی باری ہے۔ اب سرکار بھی ٹیکس کے چکرمیں ہے۔ جیسے یہ سب کا م ابھی تک مفت ہوا ہے۔ فصل جس نے خریدنی ہے وہ سرکار ہے تو وہ اپنا ریٹ بتاتی ہے۔ جو زمیندار کے خرچے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی پرائیوٹ ادراہ ہے تو وہ بھی ظاہر سرکاری جبر کا ٹیکس دے گا تو خرید کے وقت اتنے پہ دام کی بات کرے گا۔

ابھی اس میں ہم اس نقصان کی بات نہیں کر رہے جو کسی زمیندار کا موسم کی ناساز گاری، بیج کے ناقص ہونے یا کسی بھی اور وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ہماری طرح سرکار بھی اس نقصان کی گنتی نہیں کر رہی کیو نکہ اس نے کبھی فصل اگائی ہی نہیں۔ نا ہی ٹھیکے داری پہ دی کئی زمین کی ابھی بات ہو ئی ہے۔

اب یہ جو فصل تیار ہے اس نے زمینو ں سے اپنی مطلو بہ جگہ ٹرک، لوڈرز کے ذریعے پہنچنا بھی ہے۔ یہ ایک نیا خرچہ۔ یہ ٹرک اور لوڈرز ایک الگ تاجردوست مافیہ ہے۔ ان پہ بھی ٹیکس لگ جاتا ہے۔ اب یہ ٹیکس بھی اسی فصل میں جمع ہو کر سفر کرے گا۔

لیجیے فرض کر لیتے ہیں۔ یہ فصل ہے کپاس کی۔ اب یہ کپاس جگہ جگہ نئے ٹیکسیز کے ساتھ مل کر پہنج جاتی ہے۔ اب وہا ں سب سے پہلے اس کو الگ الگ کیا جائے گا۔ دھاگہ جو کئی قسم کا ہو تا ہے۔ مختلف معیارات کا ہو تا ہے۔ پھر روئی، اور مختلف مطلو بہ عمل کے بعد یہ فصل اس فیکٹری یا مِل سے نکلتی ہے توپھر اس پہ ٹیکس لگتاہے۔ مِل میں جو کام ہو رہا ہے۔ مزدور کی مزدوری، بجلی کا کمرشل بل، گیس کا کمرشل بل، پیٹرول، ڈیزل، اورمشینو ں کی دیکھ بھال اور اس مد کے فیکٹری کے سب اخراجات سمیت یہا ں بھی سب اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

اب اس فصل نے ایک بار پھر لوڈرز، ٹرک مافیہ کی طرف سفر کر نا ہے گویا یہ ٹیکس پھر سے ادا ہو گا۔

لیجیے ہم سمجھتے لیتے ہیں یہ کپاس دھاگو ں تک کا سفر کر گئی ہے اب یہ دھاگہ مختلف قسم کے کپڑے بنانے میں کا م آتا ہے۔ جتنا معیاری دھاگہ ہے۔ اتنا معیاری کپڑا ہے۔ مگر ٹیکس سب پہ برابر ہے۔ یہا ں پھر وہی عمل ہے مزدوری، مشینیں، کمرشل بل، فیکٹری کے دیگر اخراجات۔

ابھی ہم فیکٹری کی کسی بڑی خرابی، یا ملک کی ہنگامی صورت حال کا کو ئی ذکرنہیں کر رہے۔ کیونکہ یہ اس پورے عمل کا لازمی حصہ ہے۔

چلیں فرض کر لیا کپڑا بن گیا۔ ہم کپڑا بھی معیاری تصور کر رہے ہیں۔ ورنہ اس کپاس ودھاگے سے جڑی بہت سی چھوٹی صنعتیں اپنا الگ رول ادا کر رہی ہیں۔

اب یہ تیار کپڑا مل سے ایک نیاٹیکس اداکر کے نکلتا ہے اور بڑے تاجر کے پاس آتا ہے۔ ہم نے بڑا تاجر بھی سہولت و سمجھنے کے لئے انتخاب کیا ہے۔ پھر لوڈروٹرک مافیہ۔ ایک نیا خرچہ۔ چلیں یہ بھی ہو گیا۔

اب تاجر پھر ٹیکس ادا کرتا ہے یہا ں معمہ شناختی کارڈ کا بھی نہیں ہے تاحال۔ آپ جس مال پہ ٹیکس کا کہہ رہے ہیں۔ فرض کر لیں ایک لاکھ سوٹ یا بیڈ شیٹ سیٹ تاجر تک آیا ہے۔ اب راستے میں، پیکنگ میں، مشین سے اترتے میں، یا کسی بھی اور طرح یہ ایک لاکھ پیس سرکار نے تو اپنے کھاتے میں لکھ لئے مگر ابھی۔ اس میں سے ڈیمج پیس کتنے نکلتے ہیں۔ (کچھ کا ڈیمج پیس واپس ہو جاتا ہے۔ کچھ کا ضائع کرنا پڑتا ہے ) یہ تاجر کا نصیب ہے اور لین دین کے معاہدے کے مطابق ہے۔

کیو نکہ ابھی یہ بڑا تاجر ہے۔ ہول سیل تاجر ہے اس سے چھوٹی دکانو ں والو ں نے مال لے کے جاناہے۔ پھر ان چھوٹی دکا نو ں والو ں سے پھٹے پہ، اتوارو جمعہ بازارو ں میں محدود تعداد میں یو میہ اجرت پہ کپڑا لے کر جانے والو ں نے لیجاناہے۔ اس پروسس میں بھی۔ پیڑول کے اخراجات، کمرشل بجلی، اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ جو سر کار کی گنتی میں ہی نہیں آ رہے۔ پھر ان ہو ل سیلرزسے گھریلوخواتین کی ایک اچھی خاصی تعدا د ہے جو گلی محلو ں میں لے جا کریہ کپڑے فروخت کرتی ہیں۔ یہ کا م درجنو ں کے حساب کتاب سے ہو تاہے۔

پھرتاجروں کا ایک مافیہ اور بھی ہے۔ حسد میں کسی کو نقصان پہنچا دینے والا۔ کسی کے گودام میں کوئی کیمیکل پھینک دیا۔ کہیں کوئی اور نقصان کروا دیا۔ اس نقصان کو کس مد میں رجسٹر کروایا جائے گا۔

چلئے مان لیا۔ آپ کا ٹیکس ڈانس کامیاب ہو گیا سب کچھ درجِ سر کار ہو گا۔ ملک میں ہنگامی حالات ہو ئے سرکا رنے سب کچھ ضبط کر لیا کہ ملک کو اس کی ضرورت ہے۔ قرضے دینے والو ں نے آپ سے گیم کھیل لی۔ جب کہ جب بھی ملک میں ہنگامی حالات ہو ئے ہیں یہی تاجر کڑوروں آپ کے قد مو ں پہ وار دیتے ہیں۔ یہی تاجر جن کو ہم ذخیرہ اندوز کہہ کر پکڑنا چاہ رہے ہیں۔ جنگو ں کی صورتوں میں اپنے گوداموں کو غریب پہ کھول دیتے ہیں گلی محلے کے بڑے بوڑھے بچے بھوکے نہیں مر جاتے۔

سرحدوں پہ وردی والو ں کے واری صدقے ہو ئے چلے جاتے ہیں۔ دنیا اس محبت سے ڈرتی ہے حسد ہے اس سخاوت سے۔ جانتے ہیں کیو ں؟ (جواب آپ کی دانست پہ چھوڑ رہی ہو ں ) ابھی تک بیشتر تاجر وصنعت کار پڑھا لکھا نہیں ہے۔ پھربھی معیشت چلا رہا ہے۔ اس کو آپ کی کاغذی زبان اور سیاست ابھی آپ کی طرح سمجھ نہیں آرہی۔ ان کے کمرشل بل، کمرشل پراپڑٹی ریٹ کو آپ ٹیکس نہیں سمجھتے؟ یہ عاشق صفت ہے۔ کبھی تاریخ اٹھا لیجیے گا سخی ہمیشہ زمیندار، صنعت کار اور تاجر ہوتا ہے۔ اور انقلاب میں سب سے پہلا ساتھی ہو تا ہے۔ کیونکہ ان شعبہ جات میں اگر پرافٹ بڑا ہے تو نقصان بھی بڑا ہو تا ہے۔ اس لئے یہ نقصان سہنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

”اسلامی جموریہ پاکستان“ اسلامی معشت کیا ہے؟ زکوۃ، فطرانہ سال میں ایک بار۔ صدقہ خیرات جب اور جتنا دل چاہے۔ سر کا ر کوضرورت پڑتی ہے تو ابو بکر کے گھر کا سارا سامان، عمر کا آدھا، عثمان کی تجارت، اور کنویں اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کی چند کھجوریں ان سب پہ بھاری ”

ایک انسان کا ایک فطرانہ بنتا ہے۔ ایک صدقہ۔ واجب ہے توزکوۃ ورنہ نہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کا ن، ناک، زبان، ٹانگ، آنکھ، ہاتھ، ہر عضو کا الگ معاوضہ ادا کرو۔ اور واش روم جاؤ تو معدے کی باہر آنے والی غلاظت کا بھی معاوضہ ادا کرو۔

ویسے وہ ڈیم کب تک بن جائے گا؟ ہم ٹیکس رقص میں یہ بھول ہی گئے۔

قرضہ دینے والے جس بات سے خائف تھے۔ خوف زدہ تھے۔ انہو ں نے وہاں تک آنے کا رستہ بنا لیا ہے۔ مگر یاد رہے۔ شہادت اورموت کا فرق ابھی ان کو خوف میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ملک کو بے پردہ نہیں کریں۔ پہلے نظام بنائیے، پھر اس کو آسان بنائیے اور پھر دنیا کو بتائیے کہ اگر ہم تمہاری زمین پہ بھی کھڑے ہیں تو وہ ہمارے قدمو ں تلے ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •