ایک نہیں دو پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قارئین کو یاد ہو گا کہ جب عالمی میڈیا میں پانامہ کا شور اٹھا تو عمران خان وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے بڑی شدو مد اور تسلسل کے ساتھ ہر فورم پر یہ آواز بلند کی تھی کہ کیونکہ ملک کے وزیر اعظم پر کرپشں ن کے الزامات لگ چکے ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ فورا استعفا دے کر عدالتوں کے سامنے پیش ہوں اور اگر عدالتیں انہیں کلین چٹ دے دیں تو وہ وزیر اعظم کے طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی جاری رکھیں بصورت دیگر اپنے جرائم کا حساب دیں۔

عمران خان کا کہنا اس لحاظ سے بجا تھا کہ جب ریاست کے سربراہ پر کوئی الزام لگ جائے تو اعلی اخلاقی قدروں کا تقاضا ہے کہ وہ ملک کی عدالتوں میں خود کو کلئیر کروائے۔ وہ اس دور میں خلفائے راشدین اور مغربی ممالک کے سربراہوں کی نیکی، پارسائی اور دامن کی صفائی کی مثالیں دے دے کر نواز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ بتکرار اس بات کا بھی اعادہ کرتے تھے کہ اگر وہ نواز شریف کی جگہ ہوتے تو فورا مستعفی ہو کر عدالتوں کا سامنا کرتے۔

مگر افسوس کہ جب عمران خان کو نواز شریف کی جگہ ملی تو انہوں نے اپنے ہی کیے گئے دعووں اور وعدوں پر سبک رفتاری سے یو ٹرن لینا شروع کر دیا۔ عمران خان اور نئے پاکستان کے ان کے ہمراہان کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی صفوں میں بیٹھے چور، ڈاکو اور چپڑاسی تو رہے ایک طرف، خود نئے پاکستان کے بانی اور جدید ریاست مدینہ کے خلیفہ بے شمار مقدمات میں نیب اور عدالتوں کو مطلوب ہیں اور کلیفورنیا کی عدالت کے فیصلے پر ہی کیا موقوف موصوف یہاں بھی بہت سے کیسوں میں تو اشتہاری بھی ہیں۔

ان میں سے درجن سے زائد کیسوں میں وہ عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مثلا فارن فنڈنگ کیس، افتخار چودھری اور نجم سیٹھی ہتک عزت کیس، شہباز شریف ہر جانہ کیس، پارٹی فنڈنگ کرپشن کیس، کے پی کے ہیلی کاپٹر کیس، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی حملہ کیس، ایس ایس پی عصمت جونیجو تشدد کیس، بنی گالہ تھا نہ حملہ کیس اور سول نافرمانی  کیس۔

متذکرہ بالا کیسز میں آج تک نہ خود عمران خان پیش ہو کر کوئی مثال پیش کر سکے ہیں اور نہ تفتیشی اداروں نے انہیں بلا نے کی ہمت کی ہے۔ گذشتہ دنوں چئیرمین نیب کے ایک مبینہ انٹرویو کے حوالے سے یہ بات ببانگ دہل کہی جا چکی ہے کہ نیب اگر حکمران جماعتوں کے ملزمان کو ٹرائل کرنا شروع کر دے گا تو حکومت دس دن میں گر جائے گی۔ ہر پاکستانی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ عمران خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ٹرائل سے کس طاقت نے بچا رکھا ہے۔

پچھلے دنوں اسی حوالے سے محترمہ مریم نواز نے بہت معنی خیز بات کہی تھی کہ سلیکٹڈ وزیراعظم جن بیساکھیوں کے سہارے سلیکٹڈ احتساب کے نام پر ہم سے انتقام لے رہے ہیں، ان کے بغیر سیاسی میدان میں آکر مقابلہ کریں تو انہیں اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا۔ ہمارا خیال بھی یہی ہے کہ جب تک وزیر اعظم صاحب دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے پر عمل کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنا اور اپنی پارٹی کے لوگوں کا احتساب کرنے کا سلسلہ نہیں شروع کریں گے، دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ ایک سفاک مذاق اور کھلے فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •