ارد شیر کاوس جی ایک سچا صحافی تھا


\"mehmudul’’ تمام مذہبی کٹرپن اندھا، احمقانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے۔ فرقہ وارانہ کٹرمذہبی پن اتنا ہی برا ہے جتنا کہ مذہبوں کے درمیان غالی تعصب۔ کٹرمذہبی پن عقل کا گلہ گھونٹ دیتا ہے اور کٹرمذہبی آدمی اپنے جوش جنوں میں سب کومجبور کرنے پر تلا ہوتا ہے کہ جس پر اسے ایمان ہے، دوسرے بھی اس پر ایمان لے آئیں۔ ‘‘

11)جون 2000 کو تحریر کردہ کالم سے اقتباس(

ایسے دور میں جب ہماری صحافت سے راستی کا رواج ختم ہو رہا ہے، ارد شیر کاوس جی کی تحریروں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کی زبانِ قلم ہمیشہ دل کی رفیق رہی۔ ضمیر کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھتے۔ منتخب سچ بولنے سے مجتنب رہتے۔ بات ڈنکے کی چوٹ کہنے کا ہنرجاننے کے خواہش مندوں کو اردشیر کاوس جی کے سوا دو سوکالموں پر مشتمل مجموعہ  \”Vintage Cowasjee\”  لگ کر پڑھنا چاہیے، جسے ان کی دوست امینہ جیلانی نے مرتب کیا ہے۔ یہ نگارشات اس سادہ سی حقیقت کی غماز ہیں کہ دنیا میں طبقات دو ہی ہیں: ظالم اور مظلوم۔ باقی باتیں اضافی ہیں، پر بالادست، زیردستوں کو اور ہی باتوں میں الجھائے رکھتے ہیں۔ ممتازشاعرظفراقبال کا شعرہے:

مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا

مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے

کاوس جی، قائد اعظم کے تصورات سے متاثر تھے اور انھی کی روشنی میں پاکستان کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے۔ قرارداد مقاصد کو بانئ پاکستان کی راہ سے انحراف جانتے اور ان کی 11اگست1947 کو قانون سازاسمبلی میں تقریرکے مندرجات پرعمل میں قوم کی نجات خیال کرتے، جس میں انھوں نے ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان ومال کا تحفظ قراردیا اور یہ بھی کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں طور پر اپنے عقائد کے مطابق، زندگی بسرکرنے کی اجازت ہوگی۔ کاوس جی کے بقول:

\"cowasjee\"’’جہاں تک جناح صاحب کا تعلق ہے انھوں نے اپنی گیارہ اگست والی یادگار تقریر میں، جس کا چند ایک وہ لوگ حوالہ دیتے ہیں جوان کے نقش قدم پرچلنا چاہتے ہیں، اس بات کی وضاحت فرمادی تھی کہ یہ ملک کن خطوط پرگامزن ہوگا۔ کچھ لوگ اپنی حکومت کے محدود نقطۂ نظر کی وضاحت کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک انتہا پسندوں کا تعلق ہے، بدقسمتی سے ان کی تعداد اس ملک میں کم نہیں ہے، ان کو اول تواس تقریرسے کوئی سروکارنہیں ہے، یا پھر وہ اس سے اپنی مرضی کے مطالب نکالتے ہیں۔ مسٹرجناح کا نظریہ اس قوم نے فراموش کر دیا ہے۔ یہاں لفظ سیکولربغاوت کے مترادف ہے، یہاں تک کہ برداشت اور رواداری کے ذکر کو بھی مشکل ہی سے برداشت کیاجاتا ہے، جب کہ انتہا پسندی کا سایہ معاشرے میں مزید گہراہوتا جا رہا ہے۔ ‘‘

کاوس جی نے25دسمبر 2011ء کو اپنے آخری کالم میں لکھا :’’اس ملک کے تمام حکمرانوں، وردی والوں اور وردی کے بغیر، ہر دو نے جناح کے پاکستان کی تلاش کاعزم کیا مگراپنا ڈولتا ہوا اقتداربچانے کے لیے کیا وہی جو اس کے برعکس تھا۔ ‘‘

ان کا یقین تھا کہ سچ بولے بغیر قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اپنے ایک کالم میں ان نے لکھا کہ اہل پاکستان نے خود کو یقین دلا رکھا ہے کہ سچائی ایک نایاب اور قیمتی شے ہے، جسے انتہائی تنگ دلی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جرأت مندی کاوس جی کی تحریر کا بنیادی وصف ضرور ہے لیکن ساتھ میں دوسری امتیازی خوبیوں نے بیان اوربھی زورآور بنا دیا ہے۔ وہ جس موضوع پرقلم اٹھاتے، اس کا گہرا ادراک انھیں ہوتا۔ معلومات کا انبار بڑے سلیقے اور منظم اندازتحریر میں پروتے۔ بیچ بیچ میں کاٹ دار جملے پڑھنے کو ملتے۔ شفاف ذہن سے تجزیہ کرتے۔ ان کی تحریروں کے موضوعات میں جس قدرتنوع رہا، اس عہد کے شاید ہی کسی دوسرے لکھنے والے کے ہاں ملے۔ جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی کرپشن پران کا قلم خوب چلتا۔ ان کی تحریریں وہ آئینہ ہیں، جس میں ہم بطور قوم اپنی مسخ صورت دیکھ سکتے ہیں، اور اسی بنا پر کاوس جی کے خیال میں، ہم مہذب کہلانے کے سزاوار نہیں۔

کاوس جی کوحادثاتی کالم نویس قراردیا جاسکتا ہے۔ 1984ء میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کی تزئین وآرائش کے بارے میں کالم لکھا تو پھران کا قلم رواں ہوگیا۔ اس کے بعد تواتر سے’’ ڈان‘‘ میں ایڈیٹر کے نام خطوط شائع ہونے لگے، جنھیں قارئین نے سراہا۔ ۔ 1988ء میں انھوں نے کچھ دوستوں کی تحریک پر ’’ڈان ‘‘کے ایڈیٹر احمد علی خان کو کالم بجھوائے جو انھیں اچھے لگے اور پھر ان کے ہفتہ وارکالم کا سلسلہ شروع ہوگیاجو تقریباً بائیس برس جاری رہا۔ ان کے بقول: ’’ہرہفتے لکھنا ایک طویل اور تھکا دینے والا کام ہے مگر اس کا فائدہ بھی ہے۔ لکھے گئے کالموں میں کئی واقعات ریکارڈ ہوجاتے ہیں اور ان جھروکوں سے ماضی میں جھانکنا اچھا لگتا ہے۔ ‘‘ معروف صحافی خالدحسن کے مرنے پرکالم میں انھوں نے ان کی ویب سائٹ کے سرنامہ پر درج، چراغ حسن حسرت کا یہ بیان دہرایا کہ ’’کسی کو بھی صحافیوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے، خاص طور سے خود صحافیوں کو کہ ان کا لکھا صبح جس اخبار میں چھپتا ہے وہ شام میں مچھلی لپیٹنے کے کام آتا ہے۔ ‘‘ اس سے ملتی جلتی مثال انھوں نے اپنے آخری کالم میں بھی دی ’’ برنارڈ لیون، جنھوں نے1970سے لے کر1997ء تک لندن ٹائمز کے لیے بہت عمدہ کالم لکھے، ایک مرتبہ کالم نگاروں کوبیکری والے قرار دیا تھا۔ بیکر ہرصبح تازہ بریڈ بناتے ہیں اور یہ استعمال ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد پھرایک اور صبح اور نئی بریڈ۔ چنانچہ کالم بھی وہ تازہ بریڈ ہوتے ہیں، جو ہضم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد اخبارات کو پڑھ کرپھینک دیا جاتا ہے۔ ‘‘

ارد شیر کاوس جی کی اس کتاب سے جو معلومات ہم تک پہنچتی ہیں، ان میں سے چند ایک کا ہم ذکر کئے دیتے ہیں۔ اس میں غلام مصطفی\"cowas\" کھرکے فرزند ارجمند بلال کھر کا ذکر بھی ہے، جس نے بیوی پرتیزاب پھینک کرمردانگی کا ثبوت دیا۔ مختاراں مائی کی داستان غم کا بیان بھی ہے، اورجنرل (ر)پرویز مشرف کا وہ فرمان عالی شان بھی، کہ ہمارے ہاں! ویزے اور دولت کمانے کے لیے بھی ریپ کروا لیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر جاں سے گزرنے والی مظلوم بیبیوں سے انھیں ہمدردی ہے۔ گمشدہ افراد کے مسئلے پروہ آوازبلند کرتے ہیں۔ حاکم وقت کے شہر میں ورود سے خلق خدا کو جس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے، اس پر قلم کو جنبش دیتے ہیں۔ کراچی میں گٹر باغیچہ بچاؤ تحریک کے روح و رواں نثاربلوچ کا نوحہ بھی لکھتے ہیں، جو قبضہ مافیا کے گلے کی پھانس بن چکے تھے۔ ماحول میں زہرگھولنے والوں کے بارے میں قلم حرکت میں آتا ہے۔ ٹمبر مافیا کو بے نقاب کرتے ہیں۔ درختوں کا کٹنا انھیں آزردہ کرتا ہے۔ بچھڑنے والے احباب کودرمندی سے یاد کرتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ سے متعلق ایسی معلومات بھی سامنے لاتے ہیں، جوعام نظروں سے مخفی ہیں، جیسا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والی دستاویزات سے ایوب خان کی امریکیوں کو یہ یقین دہانی کہ اگروہ چاہیں تو پاکستانی فوج ان کی فوج بن کر کام کرسکتی ہے۔ وہ ان دو جرنیلوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، جونوازشریف کے پاس پاس ڈرگ ٹریڈ سے متعلق ایک منصوبے کی منظوری لینے آئے اور بے نیل مرام لوٹے۔ وہ نام نہاد بااصول صدرغلام اسحاق خان کے داماد کا کچاچٹھا بھی کھولتے ہیں، اوریہ بھی بتاتے ہیں کہ اسحاق خان نے پیپلزپارٹی کو سبق سکھانے کے لیے جام صادق علی کی جلاوطنی ختم کرا کر وزیراعلیٰ بنوایا اور اس بات کو ملحوظ نہ رکھا کہ اس سے سندھ کے عوام کس قدر خسارے میں رہیں گے۔ 1988ء میں پیپلزپارٹی کاراستہ روکنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں کردار کے بارے میں جنرل (ر) حمید گل کے اعتراف اور ایم کیو ایم حقیقی کو وجود میں لانے کا جنرل (ر) جاوید ناصر نے جو کریڈٹ لیا اس کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صحافیوں سے ناراض ہو کر لندن سے جن خیالات کا اظہار کرتے ہیں، ان کو تو کچھ عرصہ پہلے تک ہم سب الیکٹرانک میڈیا کے طفیل سن لیتے تھے۔ وہ جس زمانے میں پاکستان میں تھے، تب بھی لکھاریوں پر گرجا برسا کرتے، ایسی ایک مثال کاوس جی نے اپنے کالم میں دی ہے، جس کے مطابق1990ء کی الیکشن مہم کے دوران جرات مند صحافی رضیہ بھٹی کی ادارت میں نکلنے والے’’ نیوزلائن‘‘ کے ایک مضمون سے برافروختہ ہو کر الطاف حسین نے ایک جلسے میں دھمکی آمیزلہجے میں، اس جریدے کی ٹیم کے بارے میں خاصی نازیبا زبان استعمال کی تھی۔ آئین ساز ذوالفقارعلی بھٹو نے کس انداز میں مختصر سے عرصے میں من مرضی کی ترامیم سے آئین کا حلیہ بگاڑااس بابت بھی بتاتے ہیں، اور اسی دور میں سانگھڑ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی گرفتاری کے شرمناک واقعہ کا ذکربھی کرتے ہیں۔ 1997ء میں سپریم کورٹ پرحملہ پاکستانی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پریاد رکھا جائے گا۔ اس حملے کے ذمہ دار کاوس جی کی کڑی تنقید کی زد میں آئے۔ مسلم لیگ(ن)کی حملہ آوراس حکومت سے قبل پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی عدلیہ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہ کیا۔ اس ضمن میں وہ خاص طور پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ناصراسلم زاہد کا حوالہ دیتے ہیں، جنھیں حکومت نے ناراض ہوکرفیڈرل شریعت کورٹ بھیج دیا۔ بیوی کا تبادلہ کردیا۔ داماد کو بھی تنگ کیا۔

کاوس جی کی تحریروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ نوازشریف کے طرزحکمرانی کو ناپسند کرتے تھے۔ ان کے کسی فیصلے کی اگر بھولے سے اس قلم کار نے تعریف کی ہے توجمعہ کے بجائے اتوار کی ہفتہ وار چھٹی کا فیصلہ ہے، جو مسلم لیگ ن کے دوسرے دورحکومت میں ہوا۔ اردشیر کاوس جی کی دانست میں، اس کام کو کرنے کی خواہش 1977ء کے بعد آنے والے دوسرے حکمرانوں کے ہاں بھی رہی تو، مگر وہ جرات نہ کر سکے۔ پرویزمشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ دو بار خراب حکومت کرنے کے باوجود وہ یہ گارنٹی دینے کو تیارنہیں کہ نوازشریف اب کبھی وزیراعظم نہیں بنیں گے۔ اور پھرہم سب نے دیکھا کہ نوازشریف تقریباً چودہ برس بعد تیسری بار وزیراعظم بن گئے اورکاوس جی کی بات رہ گئی، وگرنہ ہم نے توایسی ہستیوں کے بارے میں بھی سنا ہے، جنھوں نے مریدین کو یقین دلارکھا تھا کہ نوازشریف وزیراعظم تو کجا رکن قومی اسمبلی بھی نہیں بن پائیں گے۔ اس لیے ہمارے خیال میں سیاسی تماشے کو روحانی آنکھ کے بجائے ظاہر کی آنکھ سے دیکھ کرہی رائے قائم کرنی چاہیے۔

ذوالفقارعلی بھٹوکے اقتدارمیں آنے سے قبل کے زمانے سے کاوس جی ان کے شناسا تھے، وہ حکمران بنے تو نہ جانے کس بات پر ان سے بگڑے اور جیل بھجوا دیا اور 72 دن قید میں رکھا۔ اس سزا کی کیا وجہ بنی؟اس بابت ہم آپ کو کیا بتلائیں کہ اس بارے میں مرتے دم تک خود کاوس جی کوبھی معلوم نہ ہوسکا۔ قید سے وہ بھٹو کے نام تحریری معافی نامہ لکھ کرآزاد ہوئے۔ اس قسم کی تحریر بیٹے کی محبت سے مجبور ہوکر، چئیرمین بھٹو کے نام ان کے والد نے بھی لکھی۔

کاوس جی انتہاپسندی سے نفرت کرتے تھے مگریہ بات سمجھ سے باہرہے کہ آخر وہ ڈکٹیٹروں کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ کیوں رکھتے تھے ؟ان کی فکر کا بس یہی پہلو ہمیں سقیم نظر آتا ہے کیونکہ یہ تو سامنے کی بات ہے کہ معاشرے میں انتہا پسندی کا بنیادی سبب تو غیر جمہوری حکمرانوں کی پالیسیاں اور قانون کی حکمرانی کا نہ ہونا ہی رہا ہے۔ غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی کا گناہ بھی آمروں سے سرزد ہوا۔

کاوس جی کے خیال میں چاپلوسی وہ برائی ہے جو قوموں کو برباد کردیتی ہے، یہ بات انھوں نے اپنے اس کالم میں لکھی جس میں انھوں نے ایوب دور میں پیرعلی محمد راشدی کی خوشامد درآمد کے رویے پر بات کی اور بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایوب خان کو کنگ بن کرموروثی بادشاہت قائم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ حکومتی عہدہ قبول کر لینے کے بعد بڑے بڑے اصول پسند بھی حکمران کی منشا، عزیز جاننے لگتے ہیں۔ جیسا کہ کاوس جی نے ممتازقانون دان خالد انورکی مثال دی ہے کہ بطور وزیر قانون انھوں نے احتساب قوانین کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ حکمران خاندان ان کے شکنجے میں نہ آسکے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے سلسلے میں ان کی خدمات پر بعد از مرگ ایوارڈ دیا توآصف علی زرداری نے قوم کو مبارکباد دی تو کاوس جی نے محترم صدرکو یاد دلایا کہ پیپلزپارٹی کی کابینہ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وہ صاحب بھی موجود ہیں، جنھوں نے غیرت کے نام پردو خواتین کو زندہ درگورکرنے کو اپنی قبائلی روایات کے مطابق قرار دیا اور وہ حضرت بھی وزیر ہیں جو لڑکی کو ونی کرنے والے جرگے کے رکن تھے۔ سیاستدانوں کے لتے لینے والے کاوس جی نے اپنے ایک کالم میں ولیم رینڈولف ہیرسٹ کا یہ قول نقل کیا ’’سیاست دان اپنی نوکری بچانے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ محب الوطن بھی بن سکتا ہے۔ ‘‘ سیاست دانوں میں وہ اصغرخان کو سب سے بڑھ کر پسند کرتے۔ 1996ء میں تحریک انصاف کا قیام عمل میں آیا توکاوس جی نے عمران خان کے نام کھلے خط میں انھیں تجویز کیا کہ سیاسی امور پرانھیں اصغرخان سے مشاورت کرنی چاہیے۔ ان کے کہنے پر یا پھراپنی مرضی سے عمران کی سیاسی سفر میں اصغرخان سے ذہنی قربت رہی اور وہ دوسرے اصغرخان ہونے کا طعنہ اب تک سہہ رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک تقریب میں دیرسے آنے پرعذر کیا توارد شیر نے لکھا کہ اچھا لیڈرعوام کو انتظارنہیں کراتا اور اگرایسا ہوجائے تو اسے تاخیرسے آنے کا جوازپیش کرنے کے بجائے معذرت کرلینی چاہیے۔ ارد شیر کاوس جی کو گزرے چار برس ہونے کو ہیں، ان کے جانے کے بعد بھی ان حالات مین کوئی تبدیلی نہیں آئی، جن کا شکوہ ارد شیر کاوس جی کیا کرتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS