انارکلی میں ناچ اور ٹیڑھا آنگن


 \"anam-ahsan\"گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اشتہار جس کا مقصد  DYOT کو پروموٹ کر نا اور عورت کو با اختیار کرنا ہے۔ چند روز قبل میں نے اس برانڈ کے متنازع اشتہار پر قلم اٹھائی اور \”انار کلی میں لباس نہیں، جسم کی تشہیر\” کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ۔ جس طرح اس اشتہار کی ویڈیو کے بار ے میں ناظرین کی رائے منقسم پائی گئی اسی طرح میرے مضمون پر بھی قارئین کی رائے منقسم تھی۔ اختلاف کا حق سب کو حاصل ہے ۔ میں ان کی رائے کا احترام کرتی ہوں۔ رامیش فاطمہ اور عبد المجید عابد نے مضمون کے جواب میں دو مضامین تحریر کئے۔ انہوں نے علمانہ مباحثے، جدید نظریات، جدید پروپیگنڈا اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی موجود ہ ترجیحات سے لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالکل جانبدارنہ رائے کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی ثقافت و اسلامی روایات کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نہایت ہی قابل مصنف نے لباس کی جو تعریف کی ہے لکھتے ہیں ” لباس کا بنیادی مقصد موسم سے تحفظ کے لئے جسم کو ڈھانپنا ہے“ ۔ مطلب یہ کہ لباس کا تقاضا موسم سرما میں ہی ہے اس کے علاوہ لباس زیب تن کرنے کی ضرورت و اہمیت نہیں اور یورپ کے سرد موسم میں بکنی پہن کر گھومنے کی بجائے گرم لباس یعنی سارا جسم ڈھانپ کر مرد و خواتین کو گھومنا چاہیئے مگر یورپ میں تو مرد و خواتین کا لباس برائے نام ہی ہوتا ہے۔ غالباَ دونوں مصنفین اس حق میں ہیں کہ عورتوں کو اس طریقے سے بااختیار کرنا درست ہے۔ میرا ان سے ایک ہی سوال ہے۔ کیا عورتوں کی خود مختاری سر عام رقص ہی میں ہے؟ اس حساب سے تو ہر عورت کو سڑکوں پر رقص کر کے دنیا کو یہ دکھانا چاہیئے کہ وہ کتنی با اختیار اورخود مختار ہیں پھر چاہے آس پاس کے لوگ اس سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پخشیں یا پھر ان کے رقص کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے باقی افراد کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے اسباب پیدا کریں۔

ہمارے ہاں اگر کوئی اخلاقیات ، روایات ، تہذیب و تمدن اور معاشرت کے حق میں بولے تو اسے دقیانوسی قرار دے کر محلے کی پھپے کٹنیوں کی طرح ان پر نکتہ چینی کی جاتی ہے اور انہیں مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان نام نہاد لبرلز اور عورتوں کی آزادی کے موضوعات پر بات چیت کرنے والوں کے اپنے گھروں میں جھانکا جائے تو اپنے گھر کی عورتوں کے معاملے میں انتہائی متشدد خیالات کے مالک پائے جاتے ہیں۔ لیکن گھر سے باہر کی عورت آزاد خیال اور بااختیار ہی پسند کرتے ہیں، ساری پابندیاں صرف اپنے گھر کی بہنوں اور بیٹیوں پر عائد کی جاتی ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغرب بہت ترقی یافتہ ہے، ان کے مادر پدر آزاد معاشرے اپنے خاندانی نظام کی بقا کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ جس کے حوالے سے مغرب میں درجنوں تھنک ٹینکس کام کر رہے ہیں۔ مغرب کا حوالہ دے کر میرا مقصد مغرب کو تنقید کا نشانہ بنانا ہر گز نہیں تھا بلکہ جہاں تک پاکستانی عورتوں کی آزادی کا سوال ہے اور جس طرح یہاں کی عورت پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں ، جس طرح یہاں کی عورت اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے اسی طرح یورپ میں بھی عورت کو اس کے حقوق میسر نہیں۔ ایسے میں یہ خیال کرنا کہ اگر کوئی عورت حیا کا دامن چھوڑ کر سڑکوں پر سرعام ناچتی پھرے گی اور اسے اس کے تمام حقوق دے دئیے جائیں گے تو یہ بات عقل سے بالاتر ہے۔

آج کی نام نہاد آزاد خیال عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ تو چلنا چاہتی ہیں اور یہ بھی چاہتی ہیں کہ انہیں بھی مرد کے برابر حقوق دئیے جائیں تو جناب، جب بات آتی ہے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کے وقت لمبی لائینوں میں بل جمع کروانے کی تب تو یہ عورت ہونے کی دلیل ہتھیلی پر رکھ کر سب سے آگے کھڑی ہوکر اپنا بل جمع کرواتی ہیں اور یہ بات صرف بلوں کی ادائیگی تک ہی محدود نہیں جس جگہ بھی جائیں تو لیڈیز فرسٹ کا راگ الاپنا شروع کر دیتی ہیں۔ لیڈیز فرسٹ کا یہ تصور مغرب سے نہیں آیا بلکہ یہ تصور آج سے چودہ سو سال قبل نبی مہربان ﷺ نے دیا تھا۔ عورتوں کو جو حقوق اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل دئیے ہیں وہ مغرب کا آج کا جدیددور تصور بھی نہیں دے پاتا۔ میں عورتوں کے حقوق کے قطعا مخالف نہیں ہوں۔ مگر سڑکوں پر نچوا کر عورت بھلا کیسے خود مختار ہوگی؟شاید ہمارے چند مصنفین کی عقل پر پردے پڑ چکے ہیں۔

محترم عبد المجید عابد صاحب رقم طراز ہیں کہ ” عورت ہی عورت کی دشمن ہے“ ، تو جناب آپ کی بات سے متفق ہوں مگر عورت کی دشمن عورت ان مردوں سے سو گنا بہتر ہے جو اپنے مفاد کے لئے عورتوں کی آزادی کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ پاکستان میں ابھی بھی اپنی روایات و اخلاقیات ، تہذیب اور معاشرت کو زندہ رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ یہ معاشرہ ابھی اتنا بھی زبوں حالی کا شکار نہیں ہوا جو ایسے نام نہاد اور آزاد خیال مردوں کے کہنے پر عورتوں کو سڑک پر لا کر نچوائے۔ رہی اشتہارات کی بات تو عورت گھر کو جنت بنانے کے لئے ہے (گھر سے میری مراد صرف چار دیواری نہیں ہے) اور سڑکوں اور دیواروں پر لگے اشتہارات کی زینت بننے کے لئے نہیں۔ جس اشتہار میں عورت کا تصور بھی ممکن نہیں آپ کا یہ نام نہاد آزادی کا خیال اور اس کے علمبردار اس اشتہار میں عورت کو گھسیٹ کر اپنے پروڈکٹ کی فروخت بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

اشتہارات میں دکھایا جاتا ہے کہ اگر آپ کی شیو اچھی ہوگی، آپ اچھا باڈی اسپرے استعمال کریں گے تو لڑکیاں تتلیوں کی مانند آپ پر منڈلائیں گی۔ گویا یہاں بھی عورت ہی کی تذلیل کہ ایک خوشبو یا اچھی شیو ہونے کی وجہ سے وہ مردوں پر فدا ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح پکوان کے اشتہارات میں ماں، باپ اور بچوں سمیت گھر کا ہر فرد ٹھمکے لگا رہا ہوتا ہے۔ اسی اشتہار کو لے لیں جس پر آپ نے میڈیا کی حد تک آزاد خیال ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے قیمتی خیالات سے ہمارے علم میں اضافہ کیا اس میں خواتین کو جس طرح دکھایا جا رہا ہے اس سے نہ تو وہ مضبوط و طاقتور ہو رہی ہیں اور نہ ہی اس طرح سے خود مختاری حاصل کی جاتی ہے۔ میں بذات خود خواتین کی خود مختاری پر یقین رکھتی ہوں اور مجھے برانڈڈ کپڑوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے عبائے اور برقعے کے نت نئے جاذب النظر اندازبھی قطعا پسند نہیں ہیں ۔ مگر یہ خود مختاری سڑک پر ڈانس کرکے حاصل نہیں ہوتی یہ خود مختار ی بے نظیر بھٹو، ارفع کریم ، مریم مختار اور ایسی ہی ان گنت خواتین کی طرح ملک و قوم کی خدمت حاصل کی جاسکتی ہے۔ میرے نزدیک DYOTنے اپنی برانڈ کی تشہر کے لئے اس متنازع ویڈیو کے ذریعے اپنی بھر پور تشہیر کر لی ہے۔ جبکہ میرے ذرائع کے مطابق ان خواتین کو کسی بھی قسم کی دھمکیاں نہیں مل رہی بلکہ مذکورہ برانڈ عورت کی مظلومیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے برانڈ کی مزید تشہیر کر رہا ہے۔ سنجیدہ طبقات کو اس تناظر میں بھی سوچنا ہوگا۔ بہرحال ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ ہم کہیں ان بحثوں میں الجھ کر برانڈ کی تشہیر کا باعث تو نہیں بن رہے۔ کیوں کہ متنازع اشتہار اپ لوڈ کرکے سوشل میڈیا پر اس کی بحث کروا کر اور بعد میں ڈانس کرنے والی ماڈلز کو قتل کی دھمکیوں کا رونا رو کر اس اشتہار کو ڈیلیٹ کرنے کے بعد بظاہر تو اشتہار سے زیادہ برانڈ کی مقبولیت نظر آرہی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “انارکلی میں ناچ اور ٹیڑھا آنگن

  • 14/09/2016 at 3:35 شام
    Permalink

    فرد کی خود مختاری کا اختیار اس فرد ہی کو دیں۔ مرضی کے خلاف کپڑے اتروانا اور پہنانا کیا موضوع ہوا

Comments are closed.