سمندر کا بلاوا اور ہماری کاغذی کشتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اصول اور ضوابط کا سیکھنا، اچھے برے کا فرق، دھاندلی اور زیادتی کا احساس ہونا، زیادہ سے زیادہ کتنے برسوں کی بات ہے۔ سکول کے ابتدائی برسوں میں بہترین اخلاق پڑھا دیا جاتا ہے۔ جماعت ہفتم کا طالب علم ایک مثالی زندگی گزارنے کا سارا سلیقہ نصاب کی حد تک پڑھ چکا ہوتا ہے، ہمارے ہاں یوں کہہ لیں کہ رٹا دیا جاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارا سماجی ڈھانچہ جس سے تمام چشمے رواں ہوتے ہیں، اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ اس سوال کے جواب ان گنت ہو سکتے ہیں، مگر میرے نزدیک ایک جواب ہی بنیاد ہے اور وہ ہے عدل۔ یعنی وسائل کی وہ تقسیم جو عدل سے ہو۔ قانون کی حکمرانی بھی عدل کے ساتھ ورنہ ظالمانہ قانون کی حکمرانی کیا نتائج دے سکتی ہے وہ شمالی کوریا بتا رہا ہے۔

کہنے کو ہم آئین رکھتے ہیں اور اس کا سرسری سا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے مسائل نہ تو آسمانی ہیں نہ غیر معمولی۔ اگر اس آئین پر سادگی سے عمل کیا جائے تو چند سالوں میں ہی خوشحالی ہمارے در پر خود دستک دے رہی ہو گی۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے مسائل بہت پیچیدہ ہیں، تو در اصل یہ بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم نے آئین اور قوانین پر عمل نہیں کرنا۔ جب سادگی سے عمل نہیں کرنا تب پیچیدگی پیدا ہوکر رہے گی۔ اسے دور کرنے کے لئے پھر ایک اور پیچیدگی، یعنی ایک اور قانون کی خلاف ورزی۔ پاکستان کی مختصر ترین کہانی یہی ہے۔

کاش کہ یہ سب تاریخ ہوتی مگر حال بھی یہ ہی ہے اور خوف یہ ہے کہ مستقبل بھی ماضی کی طرح نظر آرہا ہے۔ وجہ سادہ ہے، وسائل پر قابض طبقات نے کبھی کشادہ دلی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، معاشرے کے محروم طبقات کو نہیں نوازا۔ یہ کام یا تو انقلابی تباہی کے بعد ہوا ہے یا دوسرے ملکوں میں ہونے والی انقلابی تباہی کے انجام سے بچنے کے خوف سے ہوا ہے۔ ہم دوسرے کسی ملک یا اس کی تاریخ سے کچھ سیکھنے کو آمادہ نہیں تو پھر باقی کیا بچتا ہے جو ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

ہمارا معاملہ باقی انسانی آبادیوں سے مختلف کیوں ہو گا۔ کیا اس لئے کہ آسمانی طاقتوں کی حمایت ہماری اشرافیہ کے ساتھ ہے؟ اگر ایسا ہوتا، تو ہماری تاریخ فتوحات سے بھری ہوتی۔ کیا ایسا ہی ہے؟ جواب نفی۔میں ہے۔

ہمیں جس معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی سنگینی کا احساس عام آدمی کو ہونے تو لگا ہے مگر ابھی اگست آنا باقی یے جب بجلی، اور گیس کے بل نئی قیمتوں کے ساتھ گھروں پر نازل ہو گے۔ اسی وقت ریکوڈک کیس کا فیصلہ سامنے آنا کیا بتاتا ہے۔ یہ جرمانہ کوئی چھ ارب ڈالر کے قریب بتایا جا رہا ہے۔ اس وقت چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہم کہاں سے دیں گے۔ قسطیں بھی ہوں گی تو کن شرائط پر؟ براڈ شیٹ کیس میں رقم تو پانچ ارب روپے کی بتائی جا رہی ہے مگر اس میں بھی ہماری ہار دنیا کو ہماری اشرافیہ، انتظامیہ کی کیا خبر دے گی۔

پاکستان کی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم جانتا ہے کہ بھارت کو، افغانستان کے لئے راستہ دینے کی پیشکش کیا معنی رکھتی ہے۔ کوئی سویلین پاکستانی وزیر اعظم اس پیشکش کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ معیشت پر ایک سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے یہ پیشکش کر چکے ہیں، انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آج کی دنیا میں ملک اکیلے نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں۔ عین یہی بات، بھارت کم از کم تیس سالوں سے کر رہا ہے کہ پاکستان اسے راہداری مہیا کردے، تجارت شروع کرے، کشمیر کو وقتی طور پر موخر کر دیا جائے۔ ہم مان کر نہیں دیے۔ اب کیا ہوا کہ ہم پیشکش کرتے ہیں اور وہاں سے جواب نہیں آتا۔

بھارتی وزیر اعظم، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے انتخابی وعدے سے آیا ہے۔ اس کے لئے اسے بھارتی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ایک فیصلہ کن حمایت درکار ہو گی۔ اس طرح کی حمایت، اسے کون سا معرکہ سر کرنے پر مل سکتی ہے؟

آنے والے دنوں کا تصور کرنا مشکل نہیں، گرم ہوتے سیاسی محاذ، مہنگائی کے ہاتھوں پستے اور احتجاج کرتے عوام، سڑکوں پر انتظامیہ اور پولیس، بند ہوتے کاروبار، پھیلتی بیروزگاری، امن و امان کی موجودہ ناقابل رشک صورت حال کو بھی ہلا کر رکھ دے گی۔ اس مقام پر امریکی اور بھارتی اپنے بدلے اتارنے کیوں نہیں آئیں گے؟ اور جب وہ اپنے بدلے اتارنے آئیں گے تو موجودہ حکومتی قیادت کے ساتھ کھڑے ہو کر، لڑنے کو تیار کون ہو گا؟ آصف زرداری یا نواز شریف؟ بلاول بھٹو یا مریم نواز؟ اسفند یار ولی یا مولانا فضل الرحمان، مینگل یا بگٹی قبائل؟

خدا نخواستہ اگر یہاں حالات، انتظامیہ کے ہاتھ سے نکل گئے تو چین کیا کرے گا؟ امن و امان قائم رکھنے کے لئے اپنے بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں دوست ملک کی مدد؟ اگر وہ ہو گئی تو اس کی صورت کیا ہو گی؟

اپنی خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ پہلے وزیر اعظم اور پھر اس کا ایک اوچھا وزیر سر ام امیر قطر کی طرف سے کی گئی اس درخواست کا مذاق اڑاتا ہے جو انتہائی رازداری سے کی گئی تھی۔ لطف یہ ہے کہ قطر سے مدد ہمیں چاہیے، اسے ہم سے نہیں۔ دوسری جانب دھشت گردی کے خلاف کون سا وہ ایکشن ہم نے اب تک لیا ہے جس کو دنیا دل سے تسلیم کر لے؟

ایمن الظواہری، ایک طویل نیند کے بعد اچانک کشمیر میں دلچسپی کیوں ظاہر کرتا ہے؟ ادھر بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بیان جاری کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی شرارت کا جواب بالاکوٹ جیسی کارروائی ہو گا۔ ہم تو پہلے بھی کہہ رہے تھے کہ پلوامہ حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں مگر کیا اس سے بھارتی سٹرائیک رک گئی؟ کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاک افواج کی مثالی جوابی کارروائی سے ابھی نندن گرفت میں آگیا تھا، مگر اس وقت پاک افواج کو ملک میں اندرونی خلفشار کا سامنا نہیں تھا۔ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کو دھمکی آمیز بیان میں چین کا ذکر دوستانہ انداز میں کیا ہے کہ ان سے بھارت کا کوئی سرحدی جھگڑا نہیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟

افغانستان سے امریکی افواج کی روانگی وہاں کیا حالات پیدا کر سکتی ہے اور اس کا بوجھ ہم پر کیا پڑنے والا ہے؟ حال ہی میں پختونخوا میں ضم ہوئے قبائلی علاقوں میں انتخابی مہم جاری ہے، اس میں شریک ہونے کی آزادی کس جماعت کو کتنی ہے اور اس کا ذکر میڈیا میں کس حد تک ہو رہا ہے؟ کیا کسی مشکل میں آج قبائلی علاقوں سے ہمیں مکمل، غیر مشروط مدد مل پائے گی؟

جب ایک طرف آپ کے ہمسائے اور دنیا کی بڑی طاقتیں آپ کے خلاف کمر کس رہے ہوں اور آپ، آپس میں دست و گریباں ہوں تو انجام کیا ہو گا۔

کل بھوشن کا کیس پاکستان نے یوں جیت لیا کہ اس کی ممکنہ واپسی کا سوال اب صرف پاکستان کی صوابدید پر ہے۔ ادھر بھارت اس کو اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔ آپ کی دلچسپی کے لئے یہ بھی عرض کر دوں کہ بھارتی وکیل نے اس کیس میں اپنے ملک کی نمائندگی کے لئے ایک روپیہ فیس لی جبکہ ہمارے بیرسٹر صاحب نے پانچ لاکھ برطانوی پاونڈ سے زائید فیس لے کر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا قبول کیا۔

کیا آپ کو ان مسائل میں کسی کی دلچسپی نظر آتی ہے یا زیر بحث یہی ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔

سعود عثمانی کو یاد کرتے ہیں

یہ میری کاغذی کشتی اور یہ میں ہوں

خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •