جسٹس جووانی فالکن، سسلین مافیا اور جسٹس ارشد ملک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سسلین مافیا ڈان توتورینا نے جج جووانی فالکن (Giovanni Falcone) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس قتل کو یقینی بنانے کےلیے کئی مرتبہ ڈائنامائٹ سے دھماکے کر کے ریہرسل بھی کی گئی۔ مافیا ڈان نے حکم دیا کہ جج کو ”ہائی وے 29“ پر عبرت ناک موت دی جائے۔ اس کی گاڑی کو دھماکے سے اس طرح اڑایا جائے کہ آج کے بعد کوئی بھی جج مافیا کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہ کر سکے۔ مافیا نے اس قتل کی ویڈیو بنانے کا بھی باقاعدہ انتظام کیا۔ مافیا نے جج کی ریکی کی۔ 23 مئی 1992 کو جج معمول کے مطابق ایئرپورٹ سے گھر جا رہے تھے، مافیا نے ان کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے میں جج صاحب، ان کی بیوی اور دو پولیس افسر ہلاک ہو گئے۔

اس دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ یہ دھماکا زلزلے کے مانیٹرز پر بھی رجسٹر ہوگیا۔ لیکن جج کی موت مافیا ڈان کی موت ثابت ہوئی۔ ایماندار اور نڈر جج کی موت نے مردہ عوام میں جان ڈال دی۔ مافیا کے خلاف عوام کی آواز بلند ہوئی جس کے نتیجے میں خوف اور وحشت کی علامت مافیا ڈان توتورینا کو 1993 میں گرفتار کر لیا گیا جو باقی زندگی جیل کی کوٹھریوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر 2017 میں کینسر سے لڑتا ہوا مرگیا۔ اس جج کا نام جووانی فالکن تھا اور مافیا کا نام سسلین مافیا تھا۔

جی ہاں! یہ وہی سسلین مافیا ہے جس کا ذکر سپریم کورٹ کے معزز جج، ن لیگ کے حوالے سے کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔ میں نے کئی تحریروں میں سسلین مافیا کا تفصیلی ذکر کیا ہے لیکن اس کالم کا موضوع مشہور زمانہ جج جووانی فالکن ہیں۔

سسلین مافیا کے خلاف فیصلہ دینے کی پاداش میں 1979 میں سول جج سی ساری ٹیرانووا کا قتل ہوا۔ 1983 میں جج روکو چائینک کو قتل کیا گیا اور 1980 میں جج گیٹانو کوسٹا مافیا کے حملے میں مارا گیا۔ اب مافیا کے خلاف آواز اٹھانے والا ایک ہی جج زندہ تھے اوران کا نام تھا جووانی فالکن۔ جج کو ڈرایا گیا دھمکایا گیا اور لالچ بھی دیا گیا لیکن وہ جج ڈٹے رہے۔ انھوں نے مافیا کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا۔ وہ چوبیس گھنٹوں میں سے بیس گھنٹے لگاتار کام کرتے۔ ملزموں کے خلاف ثبوت اکٹھے کرتے اور ان ثبوتوں کو تفتیش کا حصہ بناتے جاتے۔

بہادر جج جووانی فالکن

جج صاحب نے مافیا کے خلاف ڈرگ ٹریفکنگ کی منی ٹریل کا پتا چلانے کےلیے پہلی مرتبہ بینک اسٹیٹمنٹس پر تحقیق شروع کی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کس طرح مافیا کے لوگ ڈرگ ٹریفکنگ کےلیے دوسرے ملکوں کی مافیا سے رابطہ کرتے ہیں۔ ڈرگ ٹریفکنگ کا دائرہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے اور کن طریقوں سے مافیا کے ساتھی بیرون ملک ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

جج صاحب 1980 میں امریکا تشریف لے گئے اور امریکہ کے یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر ”پیزا کنکشن“ کے نام سے سسلین مافیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کےلیے تاریخ کے سب سے بڑے بین الاقوامی آپریشن کا آغاز کیا۔چونکہ مافیا کے لوگ بیوروکریسی,منسٹری اور میڈیا میں بھی موجود تھے لہذا مافیا کے خلاف جانے کو کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ لیکن جج صاحب کی ورکنگ کام کرگئی۔ ٹرائل کے دوران جمع کی گئی بینک اسٹیٹمنٹس، ٹریول ریکارڈ، ہینڈ رائٹنگ سٹائل، آڈیو ٹیپس، بلاک کی گئی ہیروئین شپمنٹس مافیا کو قصور وار ثابت کرنے کےلیے کافی تھیں۔اس آپریشن کے دوران یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ سوئٹزرلینڈ کے بلیک منی کے حوالے سے قوانین مافیا کی دولت چھپانے کے سب سے بڑے سہولت کار ہیں۔ مافیا پوری دنیا سے پیسہ اسمگل کرکے سوئس بینکوں میں رکھتی ہے اور دنیا کا کوئی قانون سوئس حکومت سے وہ پیسہ واپس نہیں لے سکتا۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود بھی جج نے تمام ثبوت اکٹھے کیے اور مافیا کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا میکسی ٹرائل شروع ہوگیا۔

میکسی ٹرائل میں 474 مافیا ممبران کو چارج کیا گیا اور 360 کو سخت سزائیں دی گئیں۔ مافیا کو اپنے خلاف اتنے واضح ثبوت ملنے کی امید نہیں تھی۔ لیکن جب انہیں علم ہوا کہ یہ تمام کارروائی ایک جج کی ہے تو مافیا کے ڈان نے اس جج کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

23 مئی 1992

حکومت کو مافیا کے عزائم کا علم ہوا تو اس نے جج کی سیکیورٹی بڑھا دی۔ جج کی ذاتی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ مافیا کبھی جج کے گھر پر حملے کرواتا، کبھی فون پر دھمکاتا، کبھی صحافیوں کے ذریعے ججوں کے خلاف جھوٹی خبریں لگواتا اور کبھی سرکاری افسروں کو اس پر کرپشن کے الزامات لگانے کےلیے دباؤ ڈالتا۔ یہاں تک کہ جب جج صاحب نے شادی کا فیصلہ کیا تو خاندان کے کسی فرد کو اس شادی میں نہیں بلایا گیا۔ یہ شادی اس قدر خفیہ طریقے سے کی گئی کہ کوئی ایک فوٹوگرافر بھی مدعو نہیں تھا اور شادی کی ایک بھی تصویر نہیں لی گئی۔ 1989 میں جج کو قتل کرنے کے لیے گھر کے قریب ڈائنامائٹ لگایا گیا جسے کچھ ایماندار پولیس افسروں نے نیک نیتی سے بے اثر کردیا۔ مافیا نے ان پولیس افسروں کو خاندان سمیت قتل کروا دیا۔

اس کے بعد مافیا نے بیوروکریسی اور منسٹری میں بیٹھے اپنے نمائندوں کو استعمال کرکے جج کو مافیا کے کیسز سے ہٹادیا۔ انہیں قتل، گاڑی چوری اور طلاق کے کیس سننے کے لیے جج مقرر کردیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مافیا ممبرز جیل سے رہا ہونے لگے۔ جج کی بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا اور انہوں نے سسلی سے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور روم کی عدالت میں انہیں جج کی نوکری مل گئی۔ روم میں سسلین مافیا بے اثر تھی۔ جج نے روم میں بیٹھ کر اٹلی میں مافیا کو نکیل ڈالنے کا فیصلہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جج ایک مرتبہ پھر مافیا کے لیے موت ثابت ہوئے۔ مافیا نے ایک مرتبہ پھر جج کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، منصوبہ کامیاب ہوا اور 23 مئی 1992 کو جووانی فالکن کو اس کی بیوی اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کار بم دھماکے میں قتل کردیا گیا۔

لیکن جووانی فالکن کا بویا ہوا بیج پھوٹ پڑا۔ سسلین مافیا ڈان عمر قید کی سزا جھیلتے ہوئے کینسر سے مر گیا اور سسلین مافیا کی کمر ہمیشہ کےلیے ٹوٹ گئی۔

آپ ایک نظر جسٹس جووانی فالکن کی مافیا کے خلاف جدوجہد پر ڈالیں اور اس کا موازنہ پاکستان کے نظام عدل اور ججوں پر مافیا کے اثرو رسوخ سے کریں تو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ مافیا کے عدلیہ پر اثرو رسوخ سے بھری پڑی ہے۔ جسٹس مولوی مشتاق حسین ہو، جسٹس نسیم حسن شاہ ہو، جسٹس عبدالقیوم ہو، جسٹس عبدالحمید ڈوگر ہو، جسٹس افتخار چوہدری ہو، جسٹس ثاقب نثار ہو یا جسٹس ارشد ملک ہو، پاکستانی عدلیہ کے ہر دور کے فیصلوں میں پاکستانی سسلین مافیا کی موجودگی کا احساس ہوتا رہا ہے اور یہ احساس اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک جسٹس جووانی فالکن جیسے باکردار، باہمت،نڈر، محب وطن، باضمیر، نہ بکنے والے اور نہ جھکنے والے ججز پاکستانی عدلیہ کا حصہ نہیں بن جاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •