بیجنگ سے نیویارک ایک ہی پریشانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابائے لبرل ازم جون لاک نے کہا تھا کہ ”تمام انسان آزاد ہیں اور برابر برابر ہیں کوئی بھی شخص یا ادارہ کسی دوسرے فرد کی زندگی، صحت، آزادی اور ملکیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا“ یہ تصور اس لیے بھی درست ہے کہ جب کوئی کسی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرکے اقدامات کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ دوسرے کے دل میں ایسے جذبات کا محرک بن رہا ہوتا ہے کہ جو بہرحال اس کے خلاف ہو اور اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کی یا ان کے کسی طبقے کی آزادی میں مداخلت شروع کر دے تو ایسی صورت میں وہ پورا معاشرہ اور اس کی بنیادوں پر کھڑی ریاست وحکومت بذات خود خطرات میں بتدریج گرفتار ہو جاتے ہیں۔

یہ تمام گفتگو میں نیویارک کے ائیر پورٹ پر اپنے دوست اور امریکی سکالر اسٹیف سے باتیں کرتے ہوئے کار میں سوار ہوتے ہوئے کرتا رہا۔ ائیر پورٹ پر ہی گفتگو کا آغاز امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک کی انسانی حقوق کے حوالے سے ان کے اقدامات، ترجیحات اور لفظی گولہ باری تھی صدر ٹرمپ جس انداز کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے منصب صدارت تک پہنچے تھے اس کی وجہ سے امریکہ میں عشروں سے بسنے والے ایک اضطراب کا شکار ہوتے چلے گئے انہوں نے جس طرح ایک میدان جنگ میں کام آئے مسلمان امریکی فوجی اور اس کے والدین کا مذاق اُڑایا اس نے اس اضطراب کو مزید بڑھاوا بھی دیا۔

منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد سات مسلمان ممالک پر سفری پابندی عائد کرکے انہوں نے ایک واضح پیغام دیا بلکہ انجیلا مارکل کی پناہ گزینوں کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے عزائم کو واضح کردیا کہ وہ نہ صرف کہ امریکہ بلکہ پوری دنیا میں اپنے انتہا پسندانہ نظریات پروان چڑھانے کا مکمل منصوبہ رکھتے ہیں۔ شریک گفتگو ایک دوسرے امریکی بولے کہ یہ صرف علامتی اقدامات تھے مگر اس سے امریکی معاشرے پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا بات درست نہ تھی۔

میں نے کہا کہ نریندر موودی نے بھارت میں ایک فضا بنا دی ہے اب اس فضا کو بنانے کے اثرات ہیں کہ وہاں مسلمانوں کو درختوں سے سرعام باندھ باندھ کر جان سے مارا جارہا ہے۔ جیسا کہ تبریز انصاری کے واقعے میں یہ درست ہے کہ امریکی معاشرہ بھارتی معاشرے کی نسبت بہت مضبوط ہے اس کی سماجی حرکیات بھی مختلف ہیں۔ لیکن اگر کسی عمارت کی ایک اینٹ رکھ دی جائے سنگ بنیاد موجود ہو تو وہ کبھی نہ کبھی تعمیر کے مرحلے کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ اور اس کے نتائج امریکہ کے اپنے داخلی استحکام کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ کا رویہ صرف مسلمانوں یا غیر سفید فام اقوام کے لیے ہی غیر مناسب نہیں ہے بلکہ اپنے پر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنا جو امریکی نظام حکومت کا خاصا ہے ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ میڈیا جب ان پر تنقید کرتا ہے تو وہ لفظی گولہ باری سے نہیں چوکتے سی این این کے رپورٹر کے ساتھ بھری پریس کانفرنس میں بدتمیزی کرتے ہیں میڈیا کے معاملات کو دیکھنا ہوتو رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز تنظیم کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج اور ان کے بیانات کو سامنے رکھ لیا جائے۔

امریکہ کی ریاست ایک تصور پر قائم ہے اگر اعلی ترین منصب پر فائز امریکی شخص ہی ان اقدار کو دھتکار رہا ہو گا تو ایسی صورت میں ترقی معکوس ہو گی۔ لیکن اکثر سمجھ تب آتا ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ میں نیویارک پہنچنے سے ایک ہفتہ قبل بیجنگ میں موجود تھا اور وہاں کے چینی دوستوں سے بھی یہی گفتگو ہوتی رہی تھی۔ چین میں کچھ کیمونٹیز نے ایک اضطراب کی کیفیت موجود ہے وہ اپنی آزادی امن کے حوالے سے ایک فکرمند ی کا شکار ہو چکے ہیں گھروں کے دروازوں پر QR کوڈ لگانا سنکیانگ کے مسلمانوں کے لیے ایک تکلیف دہ عمل بن چکا ہے اس کے ذریعے گھروں میں داخل اور باہر آنے والوں کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا جا چکا ہے اسی طرح کیمپوں میں چاہے وہ ووکیشنل ٹریننگ کی غرض سے ہی ہو رکھنا شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے۔

پھر بہرحال وہاں تحریر وتقریر کی وہ آزادی میسر نہیں ہے کہ جو سوچ کی ارتقا کے لیے لازمی جوہر ہے۔ اگر چین اپنے مسائل پر قابو پا لے تو اس کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔ ان دونوں ممالک میں جب سوچ کی، اظہار رائے کی آزادی کی بات کی تو اور اس کو ترقی کی بنیادی وجہ قرار دیا تو سوچ کا رخ لا محالہ وطن عزیز کی جانب مڑگیا بدقسمتی سے ہم آمرانہ دور میں نہ بھی رہ رہے ہوں تو بھی آمرانہ رویے بالخصوص جو آپ کی آزادی فکر آزادی رائے کو برداشت نہ کر رہے ہو ں تو کہیں نہ کہیں موجود ہی رہتے ہیں۔

صحافیوں پر تشدد اور ان کو ڈرانا دھمکانا بار بار دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اسحاق ڈار کسی طور آپ کی بات ماننے کو تیار نہیں تو جلا وطنی مقدر۔ وطن عزیز واپسی کی صورت میں رانا ثنا اللہ سے تو صرف منشیات ہی برآمد کی ہیں اسحاق ڈار سے تو ہو سکتا ہے ایٹم بم برآمدگی ہی ڈال دی جائے۔ جب یہ رویے اعلی ترین سطح پر روا رکھے جاتے ہیں تو تب ہی سندھ میں ہندو برادری کے حوالے سے افسوسناک خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ جس پر بس ایک کھیل داس کوہستانی ہی احتجاج کرتا نظر آتا ہے۔

نہ جانے کس پاکستانی ہندو کو کب وطن عزیز میں تبریز انصاری کے انجام سے دوچار کر دیاجائے دل دہل جاتا ہے۔ اعلی ترین سطح کی رویے، نچلی ترین سلطح پر اثر رکھتے ہیں۔ بیجنگ اور نیویارک میں اب تک ایک بات بار بار سننے کو ملی تھی پاکستان ایک دائرے میں تیر رہا ہے۔ 1958، 1977 اور 1999 اور واحد وجہ صرف یہ سوچ ہے کہ صرف ہم ہی محب وطن اور باقی سب غدار ہیں۔ جب یہ سنتا ہوں تو بس ایک ہی دُعا نکلتی ہے کہ کہیں ان رویوں کے سبب سے کوئی 1971 بھی منتظر نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •